مسئلہ کشمیر اور اس کا ممکنہ حل

مسئلہ کشمیر اور اس کا ممکنہ حل
مسئلہ کشمیر اور اس کا ممکنہ حل

  

دنیا کی تاریخ میں سب سے پرانا مسئلہ ریاست جموں و کشمیر کا ہے۔ 1947ءمیں پاکستان اور بھارت کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد ہی سے ریاست جموں و کشمیر کا جھگڑا شروع ہو گیا تھا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اس کا لازمی حصہ ہے، اسی مسئلے کی بناءپر اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تین خوفناک جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے خطرات سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان چوتھی جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ برصغیر میں ہندو اور مسلمان دو قومیں صدیوں سے آباد چلی آرہی ہیں۔ اسی تاریخی پس منظر میں پاکستان اور بھارت وجود میں آئے تھے، یہ بات حقیقت بن کر سامنے آتی ہے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی مسئلہ کشمیر کا آخری اور شافی حل نکالا جائے گا۔ ریاست جموں و کشمیر میں 85 فیصد سے بھی زائد مسلمان آباد ہیں۔ جموں اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ہندو اور سکھ آباد ہیں۔ اس کے علاوہ ساری ریاست جموں و کشمیر میں مسلمان ایک ناقابل تردید حد تک اکثریت والی آبادی ہے۔ وہ لوگ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ وہ کسی صورت میں بھی بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں، وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ان کی زندگی تاریخ، معاشیات اور جغرافیائی حالات اس امر کی ایک بڑی دلیل ہے کہ ریاست جموں و کشمیر روز اول سے ہی پاکستان کا لازمی حصہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ نقشہ پر نظر دوڑائیں کہ کس طرح کشمیر پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کی زمین کو سیراب کرنے والے تمام دریا کشمیر سے آتے ہیں۔ زندگی پانی اور ہوا کی وجہ سے جاری و ساری ہے۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کا وجود ناممکن بن جاتا ہے۔ کشمیرسے آنے والا پانی پاکستان اور پاکستانی قوم کو زندگی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا گیا ہے۔ بھارت تو محض کشمیر کو ہڑپ کر کے اپنی سرحدوں کی وسعت چاہتا ہے، جبکہ یہ پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ کشمیر سے آنے والے دریاو¿ں کی وجہ سے سرزمین پاکستان سرسبز و شاداب ہوتی ہے۔ اگر ہمیں ان دریاو¿ں کے پانی سے محروم کر دیا جائے تو یقینی طور پر پاکستان دنیا کے ایک وسیع ترین ریگستان کی شکل اختیار کر لے گا۔ 1947ءمیں بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج کو بھیج کر قتل و غارت کے بعد اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ کشمیریوں نے کبھی بھی بھارت کو قبول نہیں کیا ۔ کشمیری چاہتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو خالی کر دے اور وہ خود اپنی آزادانہ مرضی اور خواہش سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ بھارت نے شروع شروع میں کشمیریوں کے اس مو¿قف سے اتفاق کیا تھا کہ ریاست میں یو این او کی نگرانی میں ہونے والی آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری میں کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ دیں گے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ الحاق کریں گے۔ افسوس کہ اس بھاری اتفاق کے باوجود آج تک کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔ اس طرح مسئلہ کشمیر جوں کا توں سرد خانے میں پڑا ہے۔ وقت کا یہ اہم ترین تقاضہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ کشمیری خود اپنی آزادانہ خواہش اور مرضی سے مسئلہ کشمیر کو حل کریں گے تو سرزمین پاکستان و بھارت میں امن و خوشحالی اور پیار کا ظہور ہو گا اور یہ خطہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کا ایک انتہائی خوشحال علاقہ بن جائے گا۔ دونوں ملکوں سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہو گا۔ دونوں ملک امن و آشتی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کریں گے۔ مسئلہ کشمیر نے آخر حل ہو کر رہنا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ اس دیرینہ ترین مسئلے کو آج ہی حل کر لیا جائے۔ بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز آجائے، وہ عقل کے ناخن لے، وہ پاکستان کے ساتھ گفت و شنید کا آغاز کرے۔ یہ بات چیت صرف وقت گزارنے کے لئے ہرگز نہیں ہو گی، بلکہ دونوں ملکوں کو اس کے حل کی طرف انتہائی ایمانداری اور نیک نیتی سے قدم بڑھانا ہو گا۔ گہری سوچ کے بعد مَیں کشمیر کے جھگڑے کے حل کے لئے ایک تجویز پیش کر رہا ہوں۔ریاست جموں و کشمیر میں تین مرحلہ جات میں رائے شماری کا اہتمام کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ان علاقوں میں رائے شماری ہو گی، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہ خود اپنی آزاد مرضی سے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنا الحاق کریں گے۔ دوسرے مرحلے میں جموں وغیرہ کے ہندو علاقوں میں رائے شماری کی جائے گی کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس ملک کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ظاہر ہے ریاست کی اکثریتی مسلمان آبادیوں والے تمام کے تمام علاقے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کریں گے۔ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد ہندو اور بدھ مت علاقوں میں رائے شماری ہو گی اور وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ وابستہ ہونے کا اعلان کریں گے۔ اس طرح ریاست جموں و کشمیر کا جھگڑا امن و آشتی سے حل ہو جائے گا۔ اگر جموں کے ہندو اور سکھ بھارت کے ساتھ رہنے کا اعلان کریں گے تو یہ اعلان سب کو قبول ہو گا۔ میرا پختہ ایمان ہے کہ جموں کے ہندو اپنے بہترین معاشی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی بات پر غور کریں گے۔ پاکستان میں بھی ہندو، سکھ، عیسائی کثیر تعداد میں خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں۔دُنیا اب بہت آگے کی سوچ میں مصروف ہے۔ آج کا یورپ معاشی میدان میں ایک ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ یورپ کے 27 ملکوں میں صدیوں تک خوفناک خونی جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ ان جنگوں میں لاکھوں افراد کا قتل عام ہوتا رہا ہے۔ آج وہی یورپ ایک وحدت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس خطے میں بھی حق و انصاف کی بنیاد پر یورپ کا عمل دہرایا جا سکتا ہے، اگر جرمنی اور برطانیہ میں امن قائم ہو سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی انصاف کی بنیادوں پر امن کا قیام ممکن نظر آتا ہے۔ یہ بات صرف اسی وقت ممکن ہو گی، جب بھارت میں ”نازی جرمنی“ کی سوچ کا خاتمہ ہو گا۔ اس جدید دور میں ”نازمی جرمنی“ کی سوچ کا امکان کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ کشمیریوں کو آزادی دے کر اور پاکستان کے ساتھ دوستی اور امن کا رشتہ قائم کرکے بھارت کو تجارتی میدانوں میں زیادہ معاشی اور تجارتی فوائد حاصل ہوں گے، اس طرح آہستہ آہستہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یورپ کے ممالک کی طرح ”ملکی سرحدیں“ بے معنی ہو کر رہ جائیں گی۔ میری تجویز ہے کہ بھارتی رہنما یورپی ممالک کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ صدیوں تک خوفناک جنگیں لڑنے والے یہ ملک دوستی اور پیار کے رشتوں میں بندھ چکے ہیں۔ آج یورپ کے 27 ملک ”یورپین یونین“ کا نام اختیار کر چکے ہیں۔ بھارت والے یہ دیکھیں کہ کس طرح وہ ”انگریز اور جرمن“، جو پیدائشی طور پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے تھے، آج وہ رشتے دار بن کر ایک ہو چکے ہیں۔برصغیر میں بھی یورپی یونین کی طرح سات ملکوں کی سارک بن چکی ہے۔ صد افسوس کہ سارک ناکامی کی طرف جا رہی ہے۔ آئیں! ہم سب سارک کا رخ ناکامی سے موڑ کر کامیابی کی طرف لے آتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کر لیا جائے۔ کشمیر کے جھگڑے کے ختم ہوتے ہی ہم انتہائی تیزی سے بھارت کے ساتھ دوستی کے راستے پر چل پڑیں گے۔ پرانی دشمنیاں ختم ہو جائیں گی۔ سوشل اور تجارتی راستے کھل جائیں گے۔ سرحدیں نرم پڑ جائیں گی، ہر طرف تجارت کی بات ہو گی، اس طرح اس خطے سے جہالت، غربت اور بے روز گاری کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ خوشحالی پاکستان اور بھارت دونوں کا مقدر بن جائے گی۔ دنیا کے کروڑوں لوگ سیر و تفریح کے لئے اس خطے کا رخ کیا کریں گے۔ بھارت کو پاکستان سے بے معنی اور بے مقصد دشمنی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہی ہو گا۔ بھارت اس بات کو سمجھ لے کہ پاکستان تا قیامت قائم و دائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ اب سرزمین پاکستان ناقابل تسخیر بن چکی ہے۔ ہم آج اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کو دنیا کے صاف ستھرے ملکوں کی صف میں شامل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ سادگی اور صفائی ہمارا منشور ہے۔ خوشحالی اور امن ہمارا مقدر بننے کو ہے۔ ٭

مزید :

کالم -