مال مست حکمران ایک عذاب!

مال مست حکمران ایک عذاب!
مال مست حکمران ایک عذاب!

  

انسان اس دنیا میں عارضی وقت کے لئے آیا ہے۔ یہ اس کا ٹھکانہ نہیں مسافر خانہ ہے۔ بعض مسافر اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور دنیا کمانے کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے ہیں۔

نبی اکرمؐ نے اپنے صحابہؓ کی تربیت اس انداز میں کی تھی کہ انھوں نے ہمیشہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دی۔ آپ کی تربیت کے بے شمار واقعات صحابہ اور اسلاف کی زندگیوں میں نظر آتے ہیں۔

مال مست حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے کہ یہ اُمتِ مسلمہ کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں۔ آنحضورؐ نے اپنے صحابہؓ کی جو تربیت فرمائی تھی اس نے ایک مثالی معاشرہ تاریخِ انسانی میں قائم کیا جو آج بھی بے نظیر ہے۔دولت صحابہؓ کے پاس بھی تھی مگر وہ دولت کے پجاری نہیں تھے۔

ان کی حکومت تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی مگر وہ اللہ کے محبوب بندے مجسم عجز و انکساراور غرور و پندار سے یکسر بیگانہ و بیزار تھے۔

آنحضورؐ کی تربیت اور مدرسۂ نبوی کا فیضان تھا کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ جن کی دولت، سخاوت اور فیاضی ضرب المثل تھی، خلیفہ بننے کے بعد ایسی سادہ زندگی گزارنے لگے تھے کہ کپڑوں کے صرف دو جوڑے زیر استعمال رہتے تھے۔ ایک دھلنے کے لئے اتارتے تو دوسرا پہنتے۔

سواری کے لئے صرف دو اونٹ رکھے ہوئے تھے جو مدینہ سے مکہ کے سفر اور واپسی کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ باقی ساری دولت راہِ خدا میں خرچ کردی تھی۔ ایک وسیع و عریض سلطنت کے حکمران اس خلیفۂ راشد نے اپنی شہادت سے پہلے اپنے مکان کی چھت سے شرپسند لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اپنی زندگی کا یہ پہلو ان کے سامنے نمایاں کیا تو کوئی ایک مخالف بھی اس کی نفی نہ کر سکا تھا۔ سیدنا عثمان بن عفانؓ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غنی کا خطاب دیا تھا اور آپؓ واقعی سلطنتِ غنا کے تاجدار تھے۔

سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادگی و فقر کی راہوں پر چلنا عالی ہمت لوگوں ہی کی شان ہوتی ہے۔ سیرتِ مصطفٰےؐ کی کرنوں کی جھلک آپؐ کے تربیت یافتہ صحابہ کی زندگیوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی حبِّ رسول کا تقاضا اور وفاداری کا ثبوت ہے۔

سیدنا علی بن ابی طالب حکمران تھے مگر پیوند لگے کپڑے زیب تن ہوتے اور نانِ جویں آپؓ کی خوراک ہوتی ۔راستے میں کوئی حاجت مند روک کر اپنا دکھڑا سنانے لگتا تو دیر تک اس کی بات پوری توجہ سے سنتے اور داد رسی فرماتے۔

کوئی بڑھیا اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ ہوتی تو اس کا بوجھ خود اٹھالیتے۔ اس کے باوجود اللہ نے ایسا رعب بخشا تھا کہ کوئی بڑے سے بڑا سورما بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرسکتا تھا۔

انسان کی عزت اور مقام و مرتبہ زرق برق لباس اور ہٹو بچو کے جھوٹے نعروں کا نہیں، کردار کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا ہے:اے اللہ مجھے فقر کی زندگی دے اور اسی حالت میں مجھے دنیا سے بلا لے اور روزِ حشر مجھے مساکین کے ساتھ اٹھا‘‘ (حاکم عن ابی سعید، صحیح)۔ آقا و مولاؐ کے زیر تربیت حضرت علیؓ نے یہ درس خوب یاد کر لیا تھا کہ انسان کا مقام و مرتبہ دولت کی ریل پیل سے نہیں بلکہ کردار سے متعین ہوتا ہے۔ آپؐ نے اسی لئے فرمایا کہ

رَضِیْنَا قِسْمَۃَ الْجَبَّارِ فِیْنَا

لَنَا عِلْمٌ وَّ لِلْجُہَّالِ مَالُ

ہم ربِّ جبار کی تقسیمِ رزق پر بہ دل و جان خوش ہیں۔ ہمیں اطمینان ہے کہ ہمارے مقدر میں علم ہے اور جہلا کی تجوریوں میں مال وزر ہے۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے خلافت راشدہ کے ملوکیت میں بدل جانے کے بعد ملوکیت کو پھر خلافتِ راشدہ میں تبدیل کردیا۔ آپ تابعی بھی ہیں اور بہت بڑے مجدّد بھی۔ آپ نے بنو امیہ کے شاہی خاندان میں آنکھ کھولی۔

آپ کا دادا مروان حکمران تھا۔ آپ کا تایا اور سسر عبد الملک بن مروان بھی وقت کا بادشاہ تھا۔ آپ کے چار سالے بھی حکمران ہوئے۔ ولید بن عبد الملک و سلیمان بن عبد الملک (آپ سے پہلے) اور یزید بن عبد الملک و ہشام بن عبدالملک (آپ کے بعد) حکمرانی کی مسند پر براجمان ہوئے۔

سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد جب بارِ حکومت آپ کے کندھوں پر آن پڑا تو آپ نے سب سے پہلے اپنی زندگی میں انقلاب برپا کیا۔ تمام ناجائز مراعات بیت المال میں واپس جمع کرادیں۔ خلافتِ راشدہ کے اس نظام کو زندہ کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن آپ نے پورے شاہی خاندان سے تمام ناجائز جائیدادیں اور مراعات واپس لے کر بیت المال کے حوالے کردیں۔

حضرت عمر ثانیؒ کے سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے گھر میں اپنی بچیوں سے ملنے کے لئے ان کے کمرے میں گئے تو بچیوں نے اپنے دوپٹوں کے پلو سے اپنے منہ ڈھانپ لئے ۔ خلیفہ راشد نے اس کی وجہ پوچھی تو عرض کیا: ’’بابا جان! آج خشک روٹی کے ساتھ کوئی سالن دستیاب نہیں تھا۔ ہم نے پیاز کے ساتھ روٹی کھائی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے منہ سے پیاز کی بساند آرہی ہے۔

‘‘ اپنی بچیوں کی زبان سے یہ سننا تھا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ کا جی بھر آیا۔ آپ نے بے ساختہ ان کو اپنے بازووں میں لے کر ان سے پیار کیا اور فرمایا: ’’میری لختِ جگر! اگر میں چاہتا تو دنیا بھر کی دولت تمھارے قدموں میں ڈھیر کردیتا مگر اس صورت میں تم بھی اور تمھارا باپ بھی دوزخ کا ایندھن بن جاتے۔

میں نے چاہا کہ ہم دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔‘‘ عظیم باپ کی عظیم بیٹیوں نے یہ سن کر کہا: ’’بابا جان! ہمیں کوئی شکوہ نہیں، ہم اس زندگی پر راضی اور خوش ہیں۔

‘‘ یہ تھیں اپنے وقت کی شہزادیاں! بسا اوقات ایک انسان خود اصلاح و تربیت کی منزلوں سے گزر کر اپنے آپ کو تبدیل کرلیتا ہے مگر اس کے اہل و عیال اگر اسی کے رنگ میں رنگے ہوئے نہ ہوں تو ہر قدم پر مشکلات پیش آتی ہیں۔ نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور قرآن کے واضح احکامات کی روشنی میں اصلاحِ اہل و عیال کی بڑی اہمیت ہے اور یہی چیز اس مثال سے نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ اور خوفِ خدا مثالی تھا۔ آپؐ نے دنیا کی زندگی کو مسافرت قرار دیا اور امت کو بھی اس عارضی زندگی میں مسافر بن کر رہنے کی تلقین فرمائی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان سے فرمایا: کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَّعُدَّ نَفْسَکَ فِی اَہْلِ الْقُبُوْرِ دنیا میں یوں زندگی گزارو جیسے کوئی اجنبی مسافر اور منزل کا راہی گزارتا ہے اور خود کو (ہمیشہ) اہل قبور میں شمار کرو۔

(مسند احمد، ترمذی)حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے، ہر صبح میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ اے عبد اللہ! شاید یہ تیری زندگی کا آخری دن ہے اور ہر شام کو یہ کہتا ہوں کہ اے عبد اللہ! شاید یہ تیری زندگی کی آخری رات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بندۂ مومن اس عارضی زندگی کے بارے میں یہی تصور قائم کرے تو آخرت کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔

سادگی مسلمان کے لئے باعثِ عزت ہے، وجۂ عار نہیں۔ مادی تعیشات کے پیچھے بھاگنے والے اور حلال و حرام کی تمیز سے بے پروا عناصر اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ آنکھیں بند کرتے ہی یہ سب ٹھاٹھ باٹھ ختم ہوجائے گا۔ قبر کی تنہائیاں اور تاریکیاں ہوں گی اور وہاں اگر کوئی روشنی ہو گی تو وہ تقویٰ اور پرہیز گاری، اطاعتِ الٰہی اور خدمتِ خلق ہی کی بدولت ہوگی۔

ہم جس نبیؐ کی امت ہیں اور جن سے محبت کے دعوے کرتے ہیں، ان جیسی زندگی گزارنا جنھیں بوجھ اور عار محسوس ہوتا ہے، وہ خود سوچ لیں کہ ان کا انجام کس گروہ کے ساتھ ہوگا۔ آج ہم بدعنوانی کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، اس سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے، سنتِ رسولؐ اور تعاملِ صحابہ کا اتباع!

مزید : رائے /کالم