سی پیک: امریکہ کیا سوچ رہا ہے؟

سی پیک: امریکہ کیا سوچ رہا ہے؟
سی پیک: امریکہ کیا سوچ رہا ہے؟

  

مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان (میپ) عمدہ اور معلوماتی تقریبات منعقد کرانے کے حوالے سے بھی بہت مضبوط ساکھ بنا چکی ہے۔،پچھلے دنوں میپ کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا۔ اس تقریب کا موضوع امریکہ اور پاکستان کے مابین کاروباری مواقع تھا۔ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے قیام کو 32 سال ہو گئے ہیں،اس تنظیم میں کاروباری لوگوں کی بھرپور دلچسپی یقیناً بے وجہ نہیں۔ تنظیم کی قیادت اور ارکان ہمیشہ ایسے موضوعات پر ہی بات کرتے ہیں، جن پر بات کرنے کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے حالات کاروباری حوالے سے کیسے ہیں؟ ہمارے سرمایہ کار اب پیسے لگاتے ہوئے گھبراتے ہیں اور اب کسی کو بھی پاکستان میں کاروبار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ایسے حالات میں ایک ایسی تقریب منعقد کرانا، جس میں ہمیں پاکستان میں ہی کاروبار کرنے کے طریقے سمجھائے جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ امریکہ اور پاکستان کے بزنس مین مل کر کس طرح کاروبار کر سکتے ہیں؟ امریکہ سے سرمایہ کاری لانا ہو یا کسی نے خود امریکہ میں کاروبار کرنا ہو، ایک بہت اعلیٰ کام ہے۔

اس سلسلے میں آگاہی دینے کے لئے مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے مہمان خصوصی مس کیتھرین روڈریگز کو بنایا۔ مس کیتھرین روڈریگز یو ایس قونصل جنرل لاہور ہیں۔ ان سے بات چیت کے بعد تقریب میں میری ملاقات مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نائب صدر عامر سلمان سے بھی ہوئی۔ عامر سلمان نے ایک تعارفی تقریر کی،جس میں انہوں نے بتایا کہ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آج کی تقریب لاہور چیپٹر سیشن 2019ء……2020ء کی اختتامی تقریبات میں سے ایک ہے،مئی میں نیا سیشن شروع ہوگا؟

میزبان نے زیادہ وقت لئے بغیر مختصر اظہار خیال کے بعد مس کیتھرین روڈریگز کو خطاب کی دعوت دے دی۔ کیتھرین روڈریگز نے اپنی تقریر کا آغاز اپنے تعارف سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ کے شہر فلوریڈا میں پیدا ہوئیں،ان کے والد کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا، انہیں بچپن سے کاروبار کا بہت شوق تھا، اسی لئے انہوں نے اپنی گریجویشن کی ڈگری بزنس میں حاصل کی اور ماسٹرز بھی بزنس میں کیا ،اس کے بعد انہوں نے اکاؤنٹنگ میں سپیشلائزیشن کی۔ پاکستان میں بطور یو ایس قونصل جنرل لاہور وہ 4 ستمبر 2019ء کو تعینات ہوئیں۔ کیتھرین کے مطابق امریکہ ہمیشہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستان اور امریکہ میں تجارت بڑھی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ پاکستان کی بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔ ابھی 2020 ء شروع ہی ہوا ہے، لیکن امریکہ نے پاکستان کے ساتھ چار بلین ڈالر کی تجارت کر لی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں جو ممالک سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان ممالک کی فہرست میں امریکہ پچھلے 15 سال سے پہلے پانچ ممالک میں آتا رہا ہے۔ انہوں نے یو ایس ایڈ کا بھی ذکر کیااور بتایا کہ وہ پاکستان کوپچھلے پچاس سال سے مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ ان ساری چیزوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو امریکہ کو سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان بہت پسند ہے۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی نئی نسل بہت صلاحیت اورقابلیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک کے حالات بہتر کرنے ہیں تو پرانے اور نئے سرمایہ داروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کی نئی نسل سے ہم اتنے متاثر ہیں کہ پچھلے سال امریکہ نے پاکستان میں ریکارڈ سکالر شپس دیں، جن کی کل تعداد 8000 تھی،اس سال بھی یہی کرنے کا ارادہ ہے…… پھر انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی سب سے زیادہ دلچسپی پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کو پن بجلی ڈیم بنانے میں بھی مکمل سپورٹ کیا اور ابھی بھی ان کی دیکھ بھال اور نگرانی اس کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے ساتھ ونڈ انرجی پروجیکٹس بھی چل رہے ہیں جو 2021ء میں مکمل ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قدرتی گیس پر بھی کام جاری ہے۔

آخر میں انہوں نے بتایا کے اگر ہم ہیش ٹیگ پر Prosperity of Partners سرچ کریں تو پاکستان اور امریکہ کے جھنڈے نظر آتے ہیں۔ آخر میں ہمیں موقع ملا کہ ہم ان سے چند سوالات کر سکیں۔ شرکاء نے بڑے دلچسپ سوالات کیے، جیسے ایک صاحب نے کیتھرین روڈریگز سے پوچھا کہ یہ جو بڑی بڑی کمپنیاں ہیں، مثلاً ایمازون اور ای بے، یہ پاکستانی پروڈکٹس کیوں نہیں بیچتیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہاں منافع کی شرح بہت کم ہے۔ وہ نفع پسند کمپنیاں ہیں، آپ انہیں اچھا بزنس دیں تو وہ سرمایہ کاری کیوں نہ کریں۔ اس کے بعد ایک شحص نے اسی سے ملتا جلتا سوال کیا کہ پاکستان میں فیس بک اور ایمازون اپنے دفاتر کیوں نہیں بناتے؟ تو انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ بھی ایک کمپنی کی اپنی منصوبہ بندی ہے، اگر انہیں لگے کہ پاکستان میں ماحول اس قابل ہے کہ ان کا کاروبار پھلے پھولے گا،تو وہ کیوں نہ اپنے دفاتر کھولیں۔ پھر ایک دوسرے صاحب نے کہا کہ آپ کہہ رہی ہیں کہ کافی امریکی سرمایہ کار پاکستان میں کام کر رہے ہیں، لیکن مارکیٹ میں نظر کیوں نہیں آتے؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ وہ ہیں اور ایسی جگہوں پر بھی موجود ہیں، جہاں آپ کی سوچ بھی نہیں جا سکتی۔

اسی طرح لوگوں نے اپنے کاروبار کے لئے مشورے مانگے تو انہوں نے شرکا کو قونصلیٹ آنے کی دعوت دی اور بتایا کہ ہم نے وہاں ایک ڈیسک قائم کر رکھا ہے، جو اسی کام کے لئے مخصوص ہے۔ سوال و جواب کے سیشن کے بعد لوگوں نے کیتھرین روڈریگز سے ان کے کارڈ بھی لئے۔ عام تاثر تو یہ ہے کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان تجارتی حوالے سے امریکہ کے لئے غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ اس عظیم منصوبے کی سٹریٹجک حیثیت بھی بعض ممالک کے لئے الجھن کا باعث ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ امریکہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے کہ نہیں، لیکن اگر ہمیں دو پیسے کمانے کا موقع مل رہا ہے تو کیوں نہ کمائیں؟ کاروبار ہو یا دوستی، ملک کو فائدہ ہونا چاہئے اور یہ سب کرتے ہوئے ہمیں سی پیک کو ہر صورت میں مقدم رکھنا ہوگا۔ لیڈر شپ نے کمزور ی نہ دکھائی تو ان شااللہ یہ منصوبے پاکستان اور پاکستانیوں کی تقدیر بدل دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -