A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 3

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 3

مئی 13, 2018 | 18:09:PM

شاہد نذیر چودھری

 اس سے قطع نظر کہ پھیکو المعروف محمد رفیع پہلے لاہور میں وارد ہوئے یا ان کے والدین ،البتہ یہ بات طے ہے کہ پھیکو کولاہور نے گود میں اٹھا لیا تھا ۔وہ وارث شاہ کا کلام گاتا تو سماں بند جاتا ۔داتا دربار پر جمعرات کے روز زائرین آتے تو نعت خوانی بھی کرتا ۔اسکی اونچی ،کھلی آواز میں درویشانہ غنایت  تھی ۔اس کو فقیر کا تھاپڑا مل چکا تھا۔جب وہ گاتا تو لگتا وہ نہیں اس کے اندر کوئی اور گا رہا ہے ۔

محمد رفیع کی بات چیت سننے والے اس پر کبھی غور کریں تو یہ عقدہ ان پر کھل جائے گا کہ عام بول چال میں وہ عام انسان ہی لگتے تھے۔نہ لہجہ سنورا ہوتا نہ آواز میں گھمبیرتا اور گرج ،سادہ سی آواز تھی۔ لیکن جب نچلے اونچے سروں میں گارہے ہوتے تو کوئی اساطیری آوازان کے سینے سے نکلتی تھی۔یہ محمد رفیع کو بھی معلوم تھا کہ ان کی گائیکی اور عام زندگی میں انکی آواز مختلف ہوجاتی ہے ۔ان کے اندر کسی کی رو ح تحلیل کرجاتی ہے ۔اس احساس نے تادم مرگ انہیں فقیربنائے رکھا،عاجزی ،صبر ،خاموشی اور شکر ان کا وطیرہ رہا ۔جب کسی نے ان کے گانے کی تعریف کی فوراً انگلی لبوں پر رکھی، پھر انگشت شہادت آسماں کی جانب اٹھائی اور سرگوشی سے کہا ” اے سارا اودی دین اے“ وہ تعریف کئے جانے پر خوفزدہ ہوجاتے تھے ۔اسکی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ بچپن سے ان میں فقیرانہ شرم بھی تھی۔

1935/36 میں پھیکو المعروف محمد رفیع کے والد اور باقی چھ بھائی اور دوبہنیں بھی لاہور آبسے تھے ۔بلال گنج میں دوکمروں کے سادہ سے گھر میں سارا کنبہ صبر شکر سے سما جاتاتھا ۔محمد رفیع کے علاوہ ان کے باقی بھائی بہنوں میں محمد دین،محمد شفیع،محمد اسماعیل،محمد ابراہیم،محمد صدیق،چراغ بی بی ،ریشماں بی بی شامل تھے ۔

محمد دین تو والد کے ساتھ دوکان چلاتے تھے ،باقی بچوں کو پڑھانے کی کوشش کی گئی لیکن ان میں پھیکو صاحب نے کتاب اٹھانے سے انکار کردیا۔اس پر میاں جی دکھی ہوئے اور کہا” میں تم لوگوں کے واسطے پردیس آیا ہوں کہ چار جماعتیں پڑھ لکھ لولیکن تمہارے نصیب میں پڑھائی نہیں“

نہ پڑھنے پر پھیکو میاں کو مار بھی پٹ جاتی ،ایک دن محمد دین نے اسکی انگلی پکڑی اور دوکان پر لابیٹھایا ۔”کتاباں  نئیں پھڑنیاں تے استراقینچی  پھڑ “

پھیکو کو پہلے تو لگا کہ اسکی آزادی ختم ہوگئی ہے۔میاں جی کی موجودگی میں وہ گا نہیں سکتا تھا کہ جھانپڑ پڑنے کا خدشہ رہتا تھا لیکن جب وہ گھر جاتے یا کسی کے بلاوے پر باہر گئے ہوتے تو وہ بڑی مستی سے گاہکوں کے بالوں کی ترائی کرتے ہوئے ہیر وا رث شاہ گانے لگتا ۔گاہکوں کو اس بچے سے بڑی انسیت ہوگئی تھی،گول مٹول آنکھیں اور چہرہ،کشادہ ابھری پیشانی اور بڑی صفائی سے دھلے تیل میں چپڑے بالوں والا یہ کم سن حجام ان کی فرمائش بھی پوری کرتا تھا ۔اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اب گاہک مستقل ہونے لگے تھے ۔بھائی دینو کا کوئی سانجھی آتا تو وہ بھی پھیکو سے کہتا کہ ذرا ہیر وارث شاہ تو سناو۔وہ چمک اٹھتا اور گانے میں لمحہ کی تاخیر نہ کرتا ۔اس وقت پھیکو کی عمر بارہ سال تھی ۔بھائی کے دوستوں کےساتھ وہ انکی نجی محفلوں میں چلا جاتا ۔پھیکو بھائی کے دوستوں میں مقبول ہوگیا تھا ۔

دینو بھائی کے ایک جگری یار حمید بھائی کو پھیکو سے بڑا پیار تھا ۔وہ ان دنوں ہائی سکول کا طالب علم تھا ،لاہور کا پورا شجرہ نسب اسے یاد تھا ،وہ پھیکو کو ہمیشہ ابھارتا اور اسکی حوصلہ افزائی کرتا تھا ۔

1937 کی بات ہے ۔لاہور میں ایک میوزیکل نائٹ کا پروگرام رکھا گیا ۔یہ پروگرام غیر معمولی تھا کیونکہ اس میں اس دور کے ممتاز ترین گلوکارکندن لعل سہگل اور زہرہ بائی انبالا والی نے پرفارم کرنا تھا ۔پھیکو اپنے بھائی اور مشفق دوست حمید بھائی کے ساتھ پروگرام میں پہنچے ۔پنڈال لوگوں سے بھرا ہواتھا ۔کوئی گھڑی تھی کہ وقت کی مقبول ترین جوڑی اسٹیج پر نمودار ہوجاتی ۔تماشائی بے چینی سے ان کے دیدار کے منتظر تھے ۔اچانک معلوم ہوا کہ بجلی چلی گئی ہے جس کی وجہ سے لاوڈ سپیکر نہ چل پائیں گے ۔اور اگر لاوڈ سپیکر نہیں چلیں گے تو سہگل اور زہرہ بائی کے لئے اتنے بڑے ہجوم کے سامنے ناممکن ہوجائے گا ۔ظاہر ہے دونوں دھیمے سروں میں گاتے تھے ،ان کی آواز سپیکر کی مدد سے ہی پنڈال کے آخری شرکا تک پہنچ سکتی تھی ۔بڑا انتظام کیا گیا لیکن بجلی بحال نہ ہوئی اور اس پر تماشائی بے چین ہوکر نعرے مارنے پر تل گئے تھے،شور اٹھنے لگا ۔یہ دیکھ کر منتظمین نے سہگل اور زہرہ بائی جو کہ فلیٹیز میں ٹھہرے تھے ،انہیں صورت حال سے آگاہ کیا اور التجا کی کہ وہ سپیکروں کے بغیر گا لیں ،لیکن دونوں نے سختی سے انکار کردیا کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا لہذا منتظمین نے انہی ہوٹل میں ہی روک دیا کہ جب تک بجلی نہیں آجاتی وہ اب ہوٹل میں ہی رکے رہیں ۔

منتظمین کے لئے سہگل صاحب کا سپیکر کے بغیر گانا حیرانی کا باعث بھی تھا اور تکلیف دہ بھی ۔لیکن وہ کیا کرسکتے تھے ۔تماشائیوں کو ٹھنڈا اور مصروف کرنے کے لئے منتظمین کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا ۔اسی پریشانی میں حمید بھائی نے پھیکو کی انگلی پکڑی اور ان کے پاس پہنچے،منتظمین انہیں اچھی طرح جانتے تھے ۔ کہا ”مجمعے کو قابو کرنے کے لئے آپ اس بچے کو موقع دیں ۔یہ سب کو باندھ کر رکھ دے گا “

منتظمین مجمعے سے خوف زدہ بھی تھے ،حیران ہوکر کہا” یہ گاسکتا ہے ،ریڈیو پر اس نے کبھی گیت گائے ہیں “

” چھڈو جی ۔آپ سب کو بھول جائیں گے ،بس مائیک اس کے حوالے کردیں ،بڑا پکا گائیک ہے،بزرگوں کے گیت گاتا ہے تو سمان باندھ دیتا ہے جی “

منتظمین کے پاس اسکے سوا چارہ بھی نہیں تھا ۔مائیک پھیکو کے حوالے کیا گیا ۔سنگتیوں نے پہلے احتیاط سے اسکے سُر بھانپے پھر سنگت دینے لگے۔عجیب اتفاق ہے پھیکو کو راگ راگنیوں کا کوئی علم نہیں تھا اس وقت تک ۔لیکن جب وہ گاتا تھا تو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ عطائی ہے ۔اس نے گلے اور سینے کے والیم کھولے، فقیر کا وہی پرانا کلام ” چار دناں دی کھیڈ نی مائیں“ سنانا شروع کیا اسکی آواز پنڈال کے آخر تک پہنچی ۔پھر وارث شاہ کا کلام،صوفی شعرا کی کافیاں اور اس دور کے مقبول گیت اتنے جوش اور سکیل سے گائے کہ پورا مجمع بندھ کر رہ گیا ۔دادو تحسین سے پنڈال گونج اٹھا ۔بجلی نے اسکا مستقبل روشن کردیا تھا ۔ایک گھنٹہ سے زائد وہ اسی ٹون میں گاتا رہا ۔

پورا مجمع تو اسکی آواز کا اسیر ہوہی گیا تھا مجمع میں اس وقت کے کئی بڑے موسیقار بھی موجود تھے ۔جن پر پھیکو کی آواز کا جادو چل گیا تھا ۔انہوں نے ہیرے کو بھانپ لیا ۔ایک بڑے موسیقار شیام سندراتفاق سے جس کرسی پر براجماں تھے ،اسکے ساتھ ہی پھیکو کے بڑے بھائی محمد دین بیٹھے اور فخر سے بے تحاشا داد دے رہے تھے۔ پھیکو نے شیام سندر کا دل جیت لیا تھا ۔ساتھ بیٹھے محمد دین سے پوچھا ” یہ بالکا ہے کون؟ بڑ اسریلا ہے “

محمد دین نے جھٹ سے بتایا ” میرا چھوٹا ویر ہے جی “

” کیا نام ہے اسکا “

” محمد رفیع لیکن ہم اسکو پیار سے پھیکو کہتے ہیں“

شیام سندر کا تعلق بھی لاہور سے تھا ۔بعد میں انہوں نے بمبئی پہنچ کرکئی مقبول ترین فلموں کی موسیقی دی ۔

اس دوران بجلی آگئی تو سہگل اور زہرہ بائی بھی تشریف لے آئیں ۔سہگل اور زہرہ بائی نے پھیکو کو سراہا،اسکی تعریف کی اور ہدایت کی کہ آگے جانا ہے تو استاد لازمی پکڑو ۔سہگل صاحب نے پھیکو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ” بندہ کچھ نہیں ہوتا ،بزرگوں کی دعا اسکا بیڑہ پار لگا دیتی ہے “ سہگل صاحب کا اس دور میں طوطی بولتا تھا ۔قدرت نے پھیکو پر بڑی مہربانی کی تھی ۔اسے اس مہاں گلوکار سے ملوادیا تھا جس کا فن خود بزرگوں کی دین تھا۔کندن لعل سہگل کا تعلق بھی کسی گائیک گھرانے سے نہیں تھا۔ان کے والد ہندوستان میں محکمہ مال کے افسر تھے ۔انہیں بچپن سے گانے کاشوق تھا اور اکثر بھجن اور عارفانہ گیت گایا کرتے تھے ۔ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جموں کے ایک بزرگ صوفی سلمان یوسف کے مزار پر جاتے اور انکے سامنے صوفیانہ کلام گاتے تھے ۔ صوفی سلمان یوسف بھی عارفانہ کلام گاتے تھے ،انہیں سہگل کا ذوق شوق پسندآیا اور انہوں نے ان کو دعا دی تھی ۔دیکھا جائے تو ایک فقیر نے ایسی دعا پھیکو کو بھی دی تھی۔گویااس روز بجلی کا معطل ہوجانا منشائے الٰہی سے دو فقیروں کو ملنے کا سبب بنا تھا ۔

پروگرام ختم ہوا تو شیام سندر نے محمد دین کو اپنا کارڈ دیا اور تعارف کراتے ہوئے کہا” اس ہیرے کو بمبئی میں ہونا چاہئے،جب کبھی بمبئی آو تو مجھ سے ملنا“

شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔.. قسط نمبر 2

  یہ غیر معمولی کامیابی تھی،اس دن محمد دین ،حمید بھائی نے پھیکو کے ہنر پر سنجیدگی سے غور کیا ” دینو بھائی میں نہیں چاہتا کہ پھیکو سارا دن استرے تیز کرتا رہے،قینچی چلاتا رہے۔دیکھ لیا آج اس نے لاہوریوں کو باندھ کر رکھ دیا ہے ۔اب اسکو کسی استاد کے پاس لے جانا چاہئے “

محمد دین نے کہا” میرے جاننے والے بھی ہیں،حجامت کرانے آتے ہیں ،ان سے بات کرکے دیکھتے ہیں تاکہ اسکو ریڈیو پر گانے کا موقع مل جائے “

” میرے جاننے والے ہیں ،میں اسے ریڈیو پر لے جاتا ہوں لیکن ریڈیو پر جانے سے پہلے کسی بڑے استاد کے پاس جانا چاہئے “

دونوں نے پورے خلوص سے پھیکو کے لئے استاد تلاش کرنا شروع کئے۔اس دوران ریڈیو پر بھی اسے گانے کا موقع مل گیا لیکن ابھی تک کوئی مستقل راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔لاہور میں وہ گاکر محفلوں کو گرماتا رہا اور پھر اچانک ایک دن میاں جی نے فیصلہ صادر کردیا کہ پھیکو کا بیاہ کردیا جائے ۔

1938 میں جبکہ اسکی عمر چودہ سال تھی ،اسکو جیون کی ڈور میں باندھ دیا گیا ۔اسکی شادی کوٹلہ سلطان سنگھ میں چچا دین محمد کی بیٹی بشیراں کے ساتھ ہوگئی۔وہ دولہا بن کر گیا اور تیرہ سالہ بشیراں کو بیاہ کر لاہور لے آیا ۔اس زمانے میں عام طور پر شادیاں کم عمری میں کردی جاتی تھیں لیکن پھیکو کی شادی کے پیچھے میاں جی کے خدشات بھی تھے کہ جسطرح پھیکو پورے شہر میں گاتا پھرتا ہے کہیں یہ شوق اسکو آوارگی اور بے حیائی کے بازار میں نہ لے جائے۔وہ دیکھ چکے تھے کہ پھیکو اپنے شوق کے سامنے بے بس ہے اس لئے اسکے پیروں میں بیاہ کی بیڑیاں پہنا دی گئیں۔سب کا خیال تھا کہ بیوی گھر آنے کے بعد پھیکو کا جنون ٹھنڈا پڑجائے گا مگر بشیراں تو اسکے لئے بشارت بن گئی ۔اسکے بخت پھیکو کو لگ گئے اور ایک دن وہ آگیا جب ایک جوہری اس کی دوکان پر پہنچا اور اس ہیرے کو تراشنے کے لئے تیار ہوگیا ۔(جاری ہے )

مزیدخبریں