سدا سلامت پاکستان (2)

سدا سلامت پاکستان (2)
 سدا سلامت پاکستان (2)

  

1984 ء کا وہ دن پاکستان کے لئے کتنا بھاری تھا جب ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی جا رہی تھی جب روشنیوں کے شہر کراچی کو اندھیروں میں ڈبونے کا انتظام ہو رہا تھا، پھر کیا تھا کہ آناً فاناً حالات بدلتے گئے کشت و خون ،جلاؤ گھیراؤ،خوف وہراس، گالی اور گولی کی سرکار، بھتہ خوری ،جُوا پرچی،اغوا برائے تاوان،اور بوری بند لاشوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ہزاروں سہاگ اجڑے، ہزاروں ماؤں کے جگر پارے تڑپے،گلیاں اور بازار مقتل بن گئے ۔ہر طرف اس فاشسٹ تنظیم کے ٹارگٹ کلرز اور عسکری ونگ کے غنڈوں کا راج ہوا ۔نوگو ایریاز بنے اور کراچی و حیدر آباد سے ان درندوں کے ظلم کی وجہ سے امن روٹھ گیا ۔ مولانا شاہ احمد نورانی جیسے قدسی صفات لوگ بھی ان کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے محفوظ نہ رہ سکے۔ 1992ء کے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران کوبعد میں ایک ایک کرکے یوں قتل کردیا گیا کہ اس خون ناحق کا آج تک کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس وقت ان کے مرکز پرچھاپے سے وہ بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہواتھا، جونیٹو کے چوری شدہ کنٹینرز سے غائب ہواتھا۔بارہ مئی 2007ء پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے، جب معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد پرایم کیو ایم نے درجنوں انسان چڑیوں کی طرح پھڑکا دئیے تھے اور بہت سے وکیلوں کو زندہ جلا دیا تھا،پھرانہی درندروں نے بلدیہ ٹاؤن کراچی میں خون کی ہولی کھیلی۔ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں لگنے والی آگ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھتہ دینے سے انکار پر259 افراد کوزندہ جلادیا گیا۔ یہ واقعہ تخریب کاری تھی، حادثہ نہیں تھا۔ 25سال تک ان لوگوں نے کراچی میں متوازی حکومت قائم کئے رکھی۔

گزشتہ سال نائن زیروپر رینجرز نے چھاپہ مارا تو بھارتی ساخت کا اسلحہ برآمد ہوا، وہاں کچھ جرائم پیشہ لوگ بھی پکڑے گئے، جنہوں نے دوران تفتیش بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘سے تربیت اور فنڈنگ حاصل کرنے کا اعتراف کیا ۔ مقام افسوس یہ ہے کہ پاکستان کو یہ نہ بجھنے والی آگ پاکستان کے کچھ بزعمِ خویش محافظوں نے ہی اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ حضرت مولانا احمد شاہ نورانی نے چونکہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی حمایت نہیں کی تھی، نیزمارشل لاء کی چھتری کے نیچے وزارتیں قبول کرنے سے انکار کر دیا تو جنرل ضیاء الحق نے مولانا نورانی، جن کا کراچی اور حیدر آباد میں بہت بڑا ووٹ بینک تھا،ان سے اور اپنے دیگر مخالفین سے بدلہ لینے کے لئے ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور ان سانپوں کو پروان چڑھایا۔ رہی سہی کسر جنرل پرویز مشرف نے نکال دی اور این آر او کو منظور کیا ۔این، آر، او، سے فائدہ اٹھانے میں الطاف سر فہرست تھا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق این ،آر، او نے الطاف پر چلنے والے 72 مقدمے ختم کئے تھے، جن میں سے 31 قتل کے مقدمے تھے ۔ آج قوم کو ان کانٹوں کی فصل کاٹنا پڑ رہی ہے جو ان جرنیلوں اور ان مفاد پرست حکمرانوں کی بوئی ہوئی ہے :

راہزن ہے میرا رہبر منصف ہے میرا قاتل

سہہ لوں تو قیامت اور کہہ دوں تو بغاوت ہے

کوئی بھی ملک آزاد ی اظہار کے نام پر اپنے کسی باسی کو سٹیٹ کے خلاف بولنے کی اجازت نہیں دیتا اور باغیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جاتا ہے، مگر پاکستان کے خلاف ہر زہ سرائی کرنے اور گالیاں بکنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کا کوئی نہ کوئی حربہ استعمال کر لیا جاتاہے ،جس سے غداروں کے بارے میں قوم کو ٹھنڈا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ مخصوص ساخت کے لوگ غیرت کے مسئلہ میں بڑے کوتاہ واقع ہوئے ہیں۔ ان کی اپنی انا کے تقدس پر تو معمولی آنچ آنے پر بھی طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے، مگر اسلامی شعائر کی ناموس اور وطن کے تقدس پر توہین کے ہتھوڑے بھی چل جائیں تو وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ مادر وطن کے گستاخوں ،بد خواہوں ،باغیوں اور غداروں کے بارے میں معافی اور نرمی کی روایت نے ہی ان سر کشوں کے حوصلے بلند کئے ہیں۔ اگر پہلے سے ہی ایسا سنگین جرم کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا ہوتا تو آج کا دن نہ دیکھنا پڑتا۔ پاکستان بننے کے بعد سے ہی یہ مذموم سلسلہ جاری ہے ۔پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا ہوتا رہا ، قابل اعتراض تحریروں اور تقریروں کا دھواں اٹھتا رہا، ان کے خلاف قابل ذکر کا روائی نہ ہوئی جو حد سے بڑھ گئے تو انہوں نے بیرون ملک پناہ لے لی اور وہاں سے انہی توپوں کے رُخ پاکستان کی طرف کر دیئے ۔

آج سے کافی پہلے ہی غداروں کی بیرون ملک پناہ لینے کی شرار ت کو روکنے کے لئے خصوصی قانون سازی کرنی چاہیے تھی۔ جب پاکستان نے برطانیہ کے کسی غدار کو پناہ نہیں دی تو برطانیہ نے پاکستان کے غداروں کو پناہ کیوں دے دی ہے، نیز جس زہریلے فلسفے نے کراچی اور حیدر آبادکی معطر فضاؤں میں یہ زہر یلا دھواں چھوڑا ہے ،اس کی آگ بجھائے بغیر چہرے بدلنے سے رینٹ اے لیڈر اور دفتر مسمار کرنے سے ، کچھ بھی نہیں ہو گا۔ کیا بھتہ خوروں کے گروہ ،بوری بند لاشوں کے سوداگر ،ٹارگٹ کلنگ کی ماسٹر مائنڈ’’را‘‘کی ہمراز جماعت کا نام بدلنے سے یا جماعت کا قائد بدلنے سے غسل طہارت پاکر پارسا بن جائیں گے۔ ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کا قیام ہو یا فاروق ستار کا ڈرامہ ہو، اعلان لاتعلقی ہو یا پاکستان زندہ باد کے بادلِ نخواستہ نعرے ہوں، یہ کنویں سے کتا نکالے بغیر کنویں سے ڈول نکال نکال کر کنویں کوپاک کرنے کی ایک کوشش ہے۔ جب تک پاکستان دشمنی کا کتا کنویں سے نہیں نکالا جائے گا، 12 مئی اور 22اگست جیسے حادثے ہوتے رہیں گے ۔

الطاف کی پاکستان کے خلاف اس قدر زہر افشانی پر افواجِ پاکستان نے تو پھرتی دکھائی ہے، مگر ہمارے وزیر اعظم کو 8 گھنٹے تک بولنے کے لئے الفاظ ہی میسر نہیں آرہے تھے، پھر جو بیان دیا ، ماضی کاریکارڈ گواہ ’’کہ ان تلوں میں کتنا تیل ہے ‘‘۔۔۔ اصل میں ماضی میں بھی اور اب بھی حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پاکستان کے مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے ایم کیو ایم کی لگام ڈھیلی چھوڑی ۔ اب بھی حکمران جماعت کے تیور ماضی سے کچھ مختلف نہیں ہیں ۔وزیر داخلہ نے برطانیہ کو الطاف کی غداری کے شواہد پیش کرنے کی جوبات کی ہے ۔یہ بھی باسی کڑھی کے ابال سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے ٹھوس شواہد تو ماضی میں بھی موجود تھے، عینی شاہدین کے بیان اور خود سکاٹ لینڈ اور بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹس بھی موجود تھیں،تاہم حکومت پاکستان کی عدم دلچسپی اور سیاسی مفادات کی وجہ سے لندن میں بیٹھی خونی اور جنونی قیادت کے خلاف کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی، اب بھی لگتا ہے کہ عوام کے جذبات ٹھنڈے ہوتے ہی یہ اتنا حساس، اہم اور ملکی سالمیت کا معاملہ طاق نسیاں میں سجادیا جائے گا۔ الطاف نے اصل میں پاکستان کے خلاف زبان درازی عالمی منڈی میں اپنے گاہکوں کومتوجہ کرنے کے لئے کی ہے۔ کچھ بین الاقوامی سوداگر پاکستان میں انتشار اور بدامنی کی بولی لگا چکے ہیں۔ خواہ وہ انتشاربلوچستان میں ہویاکراچی میں یاکسی اور جگہ، الطاف نے اپنی صلاحیت ظاہر کی ہے کہ وہ پاکستان کوکتنانقصان پہنچا سکتا ہے، چنانچہ اس نے اپنی تقریر میں اپنے پیروکاروں کو، اپنے گاہکوں کی نشاندھی کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا، بھارت اور اسرائیل کے پاس جاکر بتائیں کہ وہ پاکستان کوکیاکیا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

اگر کوئی صاحب بصیرت اگست میں پیش آنے والے کوئٹہ وگوادر کے واقعات،بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کی 15 اگست کولال قلعے میں پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز تقریر، بلوچستان میں دہشت گردی کااعتراف 22 اگست کوالطاف کاپاکستان کے خلاف زہر میں بجھا خطاب میڈیا ہاوسز پرحملے ، پھر امریکہ اور افریقہ میں اپنی تنظیم کے کارکنوں سے خطاب میں پاکستان توڑنے کے معاذاللہ منصوبے کوایک پیچ پررکھے تو نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ الطاف کو کس نئی گرینڈ سازش کامہرہ بنایا جارہا ہے ۔اصل میں یہ سی پیک کے خلاف امریکی اور بھارتی مشترکہ مہم کا حصہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ گوادر والاسارا منصوبہ برباد ہو جائے۔ پاکستان کے تمام دشمن یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان ٹوٹنے کے لئے نہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ لفظ’’ پاکستان‘‘ کے ساتھ روئے زمین میں زندہ باد کے علاوہ کوئی لفظ سجتا ہی نہیں ہے۔ زندہ دل ہی پاکستان زندہ باد کانعرہ لگا سکتے ہیں ۔مردہ دلوں کویہ توفیق نہیں ہے ۔صاحبِ نظر مولانا شاہ احمد نورانی نے بہت پہلے فرمایا تھا کہ الطاف مرے گا تو اس کو پاکستان کی مٹی نصیب نہیں ہوگی۔اس کی اس دھرتی کے خلاف حالیہ سنگ باری اور آتش زنی سے ثابت ہوگیا کہ وہ اس پاک سرزمین کی پاک مٹی کے لائق ہی نہیں۔ الطاف جیسے غدار چلتے پھرتے مردار ہیں اور پاکستان ان شاء اللہ قیامت تک سداسلامت اور برقرار ہے۔ ختم شد

مزید :

کالم -