وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
 وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
کیپشن: khawaja

  

 ایک ہنگامہ سا برپا ہے۔ ڈکٹیٹر کی لابی، اس کے نوازے ہوئے چند ریٹائرڈ حضرات اور ہمارے مہربان کچھ میڈیا پرسنز نے ان دنوں جو ہنگامہ خیز فضا بنائی، جو گرداُڑائی ، وہ بیٹھ رہی ہے۔ اس کھیل میں کچھ گرد میری طرف بھی اڑائی گئی، کچھ کیچڑ ادھر بھی اچھالا گیا، سو ریکارڈ کی درستی اور اسے تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے چند معروضات پیش کرنا مناسب سمجھا....میرے حوالے سے اس کہانی کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ 31مارچ کومَےں قومی اسمبلی کے ایوان میں داخل ہوا تو ایم کیو ایم کے آصف حسنین کی تقریر جاری تھی، وہ حکومت پر گرج برس رہے تھے کہ یہ پرویز مشرف کو بیرونِ ملک جانے کی اِجازت کیوں نہیں دے رہی ؟ آخرپرویز مشرف نے ایسا کیا گناہ کر دیا، جو اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے؟ اُنہوں نے اس موقع پر اپنے ممدوح کی تعریف میں زمین آسماں کے قلابے بھی ملائے۔ حزبِ اختلاف کے کسی ”دعوے“ کے جواب میں ، حکومتی بنچوں کی طرف سے ”جوابِ دعویٰ“ ایک معروف پارلیمانی روایت ہے۔ مَیں نے اسی روایت کے مطابق سپیکر سے جواب آں غزل کی اجازت چاہی ۔ مَیں نے عوام کے منتخب ایوان میں، جسے جمہوری معاشروں میں ، قوم کی جمہوری امنگوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے، پاکستان کی تاریخ کے بد ترین ڈکٹیٹر کی اس تعریف و توصیف پر احتجاج کیا، آمریتوں کے مختلف ادوار میں وطن ِ عزیز پر جو بیتی اور قوم جن آلام و مصائب سے دوچار ہوئی، اس کا ذکر کرتے ہوئے، مَیں نے عرض کیا کہ ماضی میں بہت سے لوگوں نے آمریت کی حمایت کی غلطی کا ارتکاب کیا۔ بیشتر سے یہ غلطی ایک آدھ بار سرزد ہوئی، انہیں اس کا احساس ہوا، تو اپنی اصلاح کر لی اور جمہوری قافلے کا حصہ بن گئے، لیکن کچھ دوست ایسے بھی ہیں، جنہوں نے آمریت کی حمایت کو شاید اپنے سیاسی ایمان کا حصہ بنا لیا ہے۔ چنانچہ وہ ہر بار، ہر آمر کے حامی و مددگار بن گئے۔ میرا مو¿قف تھا کہ آمریت کے حامیوں کو اس معزز جمہوری ایوان میں بیٹھنا زیب نہیں دیتا۔ ہم یہاں آمریتوں کی وکالت اور حمایت سننے نہیں آئے۔....اور یہ 3اپریل کی بات ہے، جب بیرون ملک جانے کے لئے ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانے کی پرویز مشرف کی درخواست حکومت کے زیر غور تھی۔ مَیں ایوان سے باہر نکلا، تو صحافی دوستوں نے مجھ سے اس درخواست پر تبصرہ چاہا۔ میرا جواب تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف عدالت میں آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ حکومت اِنہیں باہر جانے کی اجازت دے دے اور وہ واپس نہ آئیں، تو حکومت عدالت کو کیا جواب دے گی؟اِنہیں عدالت کے روبرو کہاں سے پیش کرے گی؟ میرا مو¿قف تھا کہ ہمارے سندھی، بلوچ اور پشتون بھائی، سب ان کے زخم خوردہ ہیں، جن کی خواہش ہے کہ ان کا مجرم آئین اور قانون کے مطابق کیفرکردار کو پہنچے، ان کے بیرونِ ملک ”فرار“ کے بعد ہم ان زخم خوردگان کو کیا مُنہ دکھائیں گے؟پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999ءکو آئین توڑا، 3نومبر2007ءکو دوبارہ اس کا ارتکاب کیا۔ سپریم کورٹ اپنے 31جولائی 2007ءکے فیصلے میں آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کا مرتکب قرار دے چکی، چیف جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 31جولائی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ آئین کے آرٹیکل 6 میں اس کے لئے High Treason کے الفاظ لکھے گئے ہیں، جس کا ترجمہ سنگین غداری کے سوا کیا کیا جائے؟مَیں نے ”مرد کا بچہ بنو“ کے الفاظ ضرور استعمال کئے تو اس میں کیا قصور کیا؟ ہوسکتا ہے کہ یہ زیادہ سخت محسوس کئے گئے ہوں، لیکن یہ اندرون لاہور کی روزمرہ زبان کا حصہ ہیں۔ پرویز مشرف ریٹائرڈ آرمی چیف ہی نہیں (آئین کے مطابق تو یہ 12اکتوبر 1999ءکو ہی وزیراعظم کے جاری کردہ آئینی حکم کے مطابق ریٹائر ہوگئے تھے۔) بلکہ چار پانچ سال سے ”اے پی ایم ایل“ نامی ایک جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ خود ساختہ ”جلاوطنی“ کے بعد وہ گزشتہ سال مارچ میں اس دعوے کے ساتھ وطن واپس آئے کہ اپنے خلاف تمام مقدمات کا عدالت میں سامنا کریں گے۔ ان کی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعت ہے، جس نے مئی 2013ءکے عام انتخابات میں حصہ بھی لیا۔ سیاست میں مقدمات، قید اور جیل جیسے دو، چار سخت مقامات بھی آتے ہیں۔ اُن کی شخصیت، اُن کے غیر آئینی کردار اور طرزِ حکمرانی کا مَےں اُن کے عہد ِ اقتدار میں بھی شدید ناقد رہا ہوں۔ لال مسجد / جامعہ حفصہ آپریشن سمیت ،ملّی یکجہتی اور قومی خودمختاری کو زک پہنچانے والے پرویزمشرف دور کے کتنے ہی المیے ہیں، جنہیں کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟آمریت کی مزاحمت اور جمہوریت سے وفاداری میری خاندانی روایت ہے۔ میرے والد اسی جدوجہد میں جاں سے گزر گئے، پھر میری والدہ محترمہ بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہیں، اپنے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتا، اس سے گریز ہی بہتر ہے۔پرویز مشرف اور اُن کے رفقاءنے جو بدسلوکی میرے ساتھ یا میرے اہل ِ خانہ کے ساتھ روا رکھی ، اللہ گواہ ہے ہمارے دل و دماغ میں اُس کا انتقام لینے کا شائبہ تک نہیں۔ ہم نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ ”معاف کرو اور بھول جاﺅ“ کی اس روایت کی جڑیں ہمارے خاندان میں بہت گہری ہیں۔ دسمبر 1972ءمیں میرے والد محترم کو پنجاب اسمبلی کے زیر ِ سایہ دن دہاڑے قتل کر دیا گیا۔ قاتل لاہور میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے جانے پہچانے چہرے تھے اور اس کے ڈانڈے ذوالفقارعلی بھٹو تک جاتے تھے۔ ہم انتقام لینے کی پوزیشن میں آئے، تب بھی اس سے گریز کیا۔ پھر ایک موقع پر جمہوریت کی بحالی کے لئے ہم ایک دوسرے کے حلیف تھے۔اپنے دورِ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے میری اور میرے دوستوں کی کھلی محاذ آرائی رہی، اس میں اغواءاور تشدد کے واقعات بھی ہوئے، لیکن پھر اسی لاہور میں ہم ایک دوسرے کے سیاسی وانتخابی اتحادی بھی بنے اور اب بھی جماعتی دوستوں سے میرے بہت اچھے مراسم ہیں۔بے نظیر بھٹو صاحبہ (مرحومہ)کے دوسرے دور میں، پنجاب حکومت میں مجھے ایک بار پھر ابتلا و آزمائش کا سامنا ہوا، لیکن 27 دسمبر کو ان کے المناک قتل کو مَیں شہادت سمجھتا ہوں۔ جمہوریت سے لازوال وابستگی کے ساتھ اپنی مسلح افواج کا احترام اور محبت بھی اس امرتسری کشمیری خاندان کے خون میں شامل ہے، لیکن آمریت کا معاملہ دوسرا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے طالع آزمائی کرنے والے ہی اس عظیم قومی ادارے کو متنازعہ بنانے کا باعث بنے۔ فوج کے وقار کا تحفظ ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے اور حکمران جماعت کی حیثیت سے اس حوالے سے ہماری ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ پرویز مشرف نے اس قومی ادارے کے وقار اور احترام کو جوٹھیس پہنچائی، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔اُن کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے تدبر سے اس ادارے کے وقار میں جو اضافہ کیا، وہ بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ گزشتہ 6سال سے زائد عرصے میں پاک فوج اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی فراست سے پاک فوج کو پرویز مشرف دور کے آثار سے نجات دلائی۔ اِسے سیاست سے نکالا ، انتخابات کے آزادانہ و منصفانہ انعقاد میں اپنا حصہ ڈالا ، عدلیہ کی بحالی میں بھی اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا۔ میری جس گفتگو کے کچھ حصے کو چند مخصوص اینکرز/ پرویز مشرف کے حامی اور جمہوری سوچ کے مخالف حضرات گرد اڑانے اور فضا کو مکدر کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، اُسی میں، مَیں نے مسلح افواج کے اس گراں قدرروایتی کردار کی کھلے دل سے تعریف بھی کی تھی، لیکن جن کا ایجنڈا ہی آئینی اداروں میں تصادم کے ذریعے پرویز مشرف کے لئے راستہ نکالنا ہے، اُنہوں نے بات کے بغیر بھی بتنگڑ اور رائی کے بغیر بھی پہاڑ بنانے کی کوشش کی جو زیادہ دیر اور زیادہ دور تک نہیں چل سکتی۔ انشاءاللہ پاکستان کے آئینی ریاستی اداروں کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش کرنے والے بری طرح ناکام رہیں گے۔ ہم سب مل کر وطنِ عزیز کو شاہراہِ ترقی پر گامزن کر کے رہیں گے۔ پاکستان کو آگے بڑھنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ 

مزید :

کالم -