جمہوریت کیہ گاڑی ہچکولوں کے باوجود منزل کی جانب رواں دواں

جمہوریت کیہ گاڑی ہچکولوں کے باوجود منزل کی جانب رواں دواں

تجزیہ : سہیل چوہدری

ایوان کے اندر کا موسم بھی بدلا بدلا ہوا تھا اگرچہ باہر تو ایک رات قبل ہی سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا تھا اور صبح سویرے بھی وقفے وقفے سے دارالحکومت میں بوندا باندی ہورہی تھی ، لیکن گزشتہ دو ماہ سے انتخابی عمل کی بناء پر سیاسی حدت کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا تھا جبکہ متوقع اور کسی حد تک متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پری پول رگنگ کے الزامات پولنگ کے بعد اور آرٹی ایس میں طویل دور انیے کے رخنہ پر شکوک و شبہات اور سوالات سے پورا سیاسی ماحول کشیدہ تھا ، ایسے میں توقع یہی تھی کہ نو منتخب ایوان میں حلف کے موقع پر ایوان میں گرما گرمی ہوگی لیکن ایوان میں اس کے برعکس متوقع حکومتی اور اپوزیشن بنچوں میں خیر سگالی کے جذبات نظر آرہے تھے ، اس کا سہرا ایوان کے اندر دونوں اطراف کی قیادت کے سر ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ایوان میں داخل ہوکر جب عمران خان کی نشست کے سامنے سے گزرنے لگے تو کپتان نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا جبکہ عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی، آصف علی زرداری اور بھٹو کی سیاست کے اصل جانشین ایوان میں نوزائیدہ رکن اسمبلی بلاول بھٹو زرداری اور سابق اپوزیشن رہنماء خورشید شاہ سے ان کی نشستوں پر جاکر مصافحہ کیا ، پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں اس طرح کے مناظر خال خال ہی دیکھنے میں آتے ، پارلیمنٹ کی عمارت کی راہ داریوں میں اسے تمام سیاسی و صحافتی حلقو ں نے سراہا ، یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایوان کے اندر کا سیاسی ماحول ملک میں جاری محاذ آرائی سے میل نہیں کھا رہا تھا بلکہ یہ کہا جاسکتاہے کہ گزشتہ روز نو منتخب ایوان کے پہلے اجلاس میں تو یہ باہر برسات کے موسم جیسا ہی خوشگوار تھا ، نو منتخب ایوان میں یہ ماحول ملکی سیاست میں نیک شگون ثابت ہوسکتاہے ، اگر حکومت نے اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے ساتھ جمہوری پارلیمانی اسلوب جاری رکھا ، ایوان کے اندر سیاسی ماحول ورکنگ ریلیشن کے حوالے سے گیند حکومتی بنچوں کی کورٹ میں ہوتی ہے ، ویسے بھی متوقع اپوزیشن رہنماء صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہبازشریف مفاہمت کا’’ استعارہ ‘‘سمجھے جاتے ہیں ، تو شومئی قسمت جس وقت وہ دستخط کرنے سپیکر کے پاس پہنچے تو اس وقت دوسری جانب سکرینوں پر ان کے بھائی پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت جاتے ہوئے دکھایا جارہاتھا ، اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ متوقع اپوزیشن رہنماء کے طورپر وہ ’’مفاہمت ‘‘ یا ’’مزاحمت ‘‘میں سے کون سا اسلوب اپناتے ہیں ، ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ن لیگ کے بعض اراکین اسمبلی نے حلف اٹھانے سے قبل ہی پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوکر بات کرنے کی کوشش کی ، شائد انہیں یاد نہیں رہا کہ وہ نو منتخب ایوان میں ہیں جب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ایوان میںآئے تو ان کے حق میں پی پی پی کے ارکان نے خوب نعرہ بازی کی اس طرح جب کپتان آئے تو اس وقت پی ٹی آئی نے نعرے بازی کی ، جب شہبازشریف دستخط کرنے لگے تو اس وقت ن لیگی ارکان نے بھی شیر آیا شیرآیا کے نعرے لگائے یوں باہر کی سیاسی فضا کے برعکس سیاسی جماعتوں کے اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی کے بجائے اپنے اپنے حق میں نعرہ بازی کرکے ایوان کو تھوڑا بہت گرما دیا۔ بیشتر حلقوں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی کا ہنی مون زیادہ عرصہ نہیں چلے گا ، واقفان حال کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پی پی پی اپوزیشن میں تو اکھٹے ہوگئے ہیں لیکن دونوں فریقوں کے دل صاف نہیں ، پاکستان پیپلزپارٹی کے انتہائی ذمہ دار حلقوں نے تویہ بھی دعویٰ کر دیا ہے کہ آصف علی زرداری ن لیگ کے رویہ سے نالاں ہیں اور شاکی بھی ، ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ن لیگ کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار اور اپوزیشن رہنماء کے طورپر نامزدگی سے ’’صاب‘‘ خوش نہیں اور ہوسکتا ہے کہ ’’صاب‘‘شہباز شریف کو ووٹ نہ دیں جبکہ دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو گاجر اور ڈنڈے کی پالیسی کا سامناہے ، اس بناء پر پاکستان پیپلزپارٹی اگر پی ٹی آئی کے ساتھ کسی طرح کی بھی انڈر سٹینڈنگ قائم کرلیتی ہے تو دونوں جماعتوں کونہ صرف فائدہ ہوگا بلکہ ایک کی چونچ کو دوسرے کی دم سے باندھ کر دونوں جماعتوں کو ’’قابو‘‘ میں رکھا جاسکے گا، اس حوالے سے پہلا ٹیسٹ کیس سپیکر کے انتخاب کا ہوگا ،سابق اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کے ذرائع کا کہناہے کہ شاہ صاحب سپیکر کے عہدے پر امیدواربننے کیلئے مکمل آمادہ نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ8 دفعہ ایم این اے بن چکے ہیں اب وہ ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے ان کے سیاسی قد میں کمی ہو اس طرح کی باتیں سننے میں آرہی ہیں جبکہ سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کے مصداق اسمبلیوں کے وجو د میں آتے ہی صدارتی انتخابات کا شیڈول آجائیگا کیونکہ اگر صدر کی مدت ختم ہورہی ہے تو آئین کے مطابق انتخابات کے ایک ماہ بعد تک نئے صدر کا انتخاب ضروری ہے لہٰذا صدارتی انتخاب کیلئے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں صدارتی انتخاب کیلئے تھوک کی سطح پر کچھ لو اور کچھ دو کا بازار گرم ہے ، نو منتخب ایوان نئے اور پرانے چہروں کا امتزاج ہے موروثی سیاست میں بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے نے بھی پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا ہے جبکہ اس طرح بہت سے نئے چہرے قومی اسمبلی میں آئے ہیں جبکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اہم بلوچ رہنماء اخترمینگل اور زین بگٹی بھی پارلیمنٹ میں آگئے ہیں ، اس طرح سابق چیئرمین سینیٹ و نگران وزیراعظم محمدمیاں سومرو، سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھی ایوان میں آگئی ہیں، کپتان عمران خان سفید رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس پارلیمنٹ کی عمارت میں صبح 9:30بجے پہنچے تو اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب وہ رجسٹریشن کارڈ کیلئے تصویر بنوانے کی غرض سے کمیٹی روم نمبر2میں متعلقہ ڈیسک پر پہنچے ، قومی اسمبلی کے چیف فوٹو گرافرظفرخان نے کپتان کو مشورہ دیا کہ وہ واسکٹ پہن لیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم بننا ہے تو یہ تصویر رسمی طورپر استعمال ہوسکے گی ، کپتان نے کہا کہ یار پھر کوئی انتظام کردو فوٹو گرافر نے کپتان کو سامنے لٹکی چند واسکٹ دکھلائیں لیکن کپتان نے کہا کہ انہیں سیاہ رنگ کی واسکٹ چاہئے جوکہ وہاں موجود نہیں تھی اس پر فوٹو گرافر نے قدرے جھجکتے ہوئے کپتان سے کہا کہ میں نے سیاہ واسکٹ پہنی ہوئی ہے کہیں تو آپ کو اتار کر دے دوں جس پر کپتان نے رضا مندی ظاہر کردی اور یوں عمران خان کی یہ واسکٹ پہننے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔پارلیمانی جمہوری سیاست کے حوالے سے خوش آئند بات ہے کہ ملک میں تیسری دفعہ مسلسل پرامن طورپر جمہوری یا نیم جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کا مرحلہ طے ہواہے ، جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھے گا جمہوریت پروان چڑھے گی ، اس بنا ء پر آج جشن آزادی کی خوشیوں میں یہ خوشی بھی شامل ہے کہ جمہوریت کی گاڑی ہچکولوں کے باوجود آگے بڑھ رہی ہے ، اگرچہ انتقال اقتدار کے اس عمل کے تحت 15ویں قومی اسمبلی وجود میں آچکی ہے اور قوم کی توقعات کپتان اور اس کی ٹیم سے وابستہ ہیں لیکن اس وقت دارالحکومت میں بیشتر سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی میں فیصلہ سازی کا عمل بہت سست روی کا شکار ہے اور سب سے زیادہ زور نمائشی اقدامات پر ہے، کپتان کی بطور وزیراعظم رہائش گاہ کو ایشو بنایا ہوا ہے جبکہ معاشی اور خارجہ امور کے علاوہ دیگر شعبوں میں مہیب چیلنجز نئی حکومت کے منتظر ہیں۔

تجزیہ/سہیل چودھری

مزید : تجزیہ