14 اگست کی فضیلت

14 اگست کی فضیلت

  

ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم

آزادی ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آزادی کی قدر صرف اس کو ہوتی ہے جس نے غلامی کی گھٹن محسوس کی ہو۔ 14 اگست 1947ء مملکت خداداد پاکستان کی آزادی کا پہلا دن تھا۔  اسی امید سے ہم ہر سال یوم آزادی مناتے ہیں کہ بھلے دن آئیں گے۔

غلامی کیا ہے ذوقِ حسن و زیبائی سے محرومی

جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا

بھروسا کہ نہیں سکیت غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردانِ حر کی آنکھ ہے بینا

برس ہا برس کی جدوجہد کے بعد مسلمانوں کو آزاد وطن ملا جس کا اعلان آدھی آدھی رات سے تقریباً دس منٹ قبل آل انڈیا ریڈیو سروس کے آخری نشریئے میں 14 اگست کو کیا گیا۔ اس کے چند لمحے بعد ریڈیو پاکستان سے خواجہ انور خورشید کا مرتب کردہ عارضی ابتدائی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا 14 اگست 1947ء کو رات 12 بجے سے ایک منٹ قبل فضا میں اعلان گونجا کہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آ جائے گی۔ مسٹر ظہور آذر نے انگریزی میں اور مصطفیٰ علی ہمدانی نے یہ پاک اعلان اردوں میں کرنے کی سعادت حاصل کی۔ آدھی رات کو پہلے انگریزی پھر اردو میں ہوا کے دوش پر اعلان نشر ہوا۔ ”یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے“ اس کے فوراً بعد مولانا ظاہر القاسمی نے قرآنِ مجید کی آیات مبارکہ کی تلاوت فرمائی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد خواجہ خورشید انور کا مرتب کردہ ریڈیو پاکستان کا آرکسٹرا بجایا گیا۔ سنتو خان اور ان کے ہم نواؤں نے قوالی میں علامہ اقبالؒ کی ایک نظم پیش کی۔ اسی لئے علامہ نے مسلمانوں کو حوصلہ دینے کے لئے کہا تھا۔

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

مجھ کو پھر نغموں پر اکسانے لگا مرغِ چمن

14 اگست  کی رات بھی قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پہلی بار پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کے ذریعے پاکستانی قوم سے خطاب کیا یہ دن تاریخ پاکستان میں بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں سے تاریخ پاکستان کی ابتدا ہوئی ہے۔ 14 اگست  کی فضیلت و برکت یہ ہے کہ اب تک متعدد اعلانات، احکامات اور پیغامات اس روز دیئے جا چکے ہیں ذیل میں چند ایک اہم اور غیر معمولی واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے جس سے اس پاک دن سے انس لگن اور محبت واضع ہوتی ہے۔

14 اگست 1973ء کو پاکستان کا موجودہ مستقل آئین نافذ ہوا قائد اعظمؒ کے دست رات نقیب ملت لیاقت علی خاں جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے دفاع پاکستان کے لئے پوری قوم کو اعتماد میں لیا۔ 14 اگست 1951ء کو یوم پاکستان کے موقع پر لیاقت علی خان نے کراچی میں ایک جلسہ سے خطاب میں وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ہجوم  میں مکا بنا کر دایا ہاتھ اونچا کرتے ہوئے کہا ”جس طرح یہ انگلیاں مل کر مکا بن جاتی ہیں اسی طرح تمام پاکستانی عوام متحد ہو جائیں تو یہ اتحاد ہمارا ایٹم بم ہے جس کی بدولت ہم دنیا کی ہر طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔“ ان کا یہ مکہ ملت اتحاد کا مظہر بن گیا۔

14 اگست  1955ء کو چودھری محمد علی نے ووزیر اعظم پاکستان کا عہدہ سنبھالا اس سے قبل وہ اکتوبر 1951ء میں پاکستان کے وزیر خزانہ اور 1955ء میں قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ 14 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کے باشندوں کے شہری حقوق اور اقلیتوں سے متعلق ایک کمیٹی بنائیج و 16 ارکان پر مشتمل تھی۔ اسمبلی کے صدر کو دستور ساز اسمبلی کے غیر ارکان کو بھی اس میں شامل کرنے کا اختیار دیا گیا یہ تجویز بھی منظور کی گئی کہ تمام سرکاری کاغذات، دستاویزات اور خط و کتابت میں محمد علی جناح کے بجائے قائد اعظم محمد علی جناح لکھا جائے۔ 14 اگست 1947ء کو ہی دستور ساز اسمبلی میں ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے خطاب کیا اور ملکہ معظمہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

پاکستان کی پہلی سالگرہ 14 اگست 1948ء کو منائی گئی اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے قوم کے نام پیغام دیا۔ انہوں نے فرمایا ”بھائیو آج ہم اپنی آزادی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں ایک سال پہلے آج ہی کے دن تمام اختیارات پاکستانی باشندوں کو منتقل کر دیئے گئے تھے۔ اور موجودہ آئین کی رو سے حکومت پاکستان نے اس ملک کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اس ایک سال میں ہم نے بڑے حوصلے، عزم اور سوجھ بوجھ سے حالات کا مقابلہ کیا۔ ہماری کامیابیاں واقعی تعجب خیز ہیں ہم نے دشمن کے تمام حملوں کو جن میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی سوچی سمجھی سکیم تھی ناکام بنا دیا ہے اور اندرونی طور پر صحیح تعمیری کام کو جاری رکھا۔

پاکستان کا قومی ترانہ ملک کے مایہ ناز شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری کی تخلیق ہے 14 اگست  1954ء کو پہلی بار حفیظ جالندھری کی آواز  میں ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا جسے انہوں نے لکھنے میں چھ ماہ صرف کئے اور تین ماہ بار بار اس کے ایک ایک لفظ پر غور کیا۔ قومی ترانہ شاعری کی مخمس شکل میں ہے اس میں کل پندرہ مصرے ہیں۔ اسے ملک کے ممتاز گلوکاروں شمیم بانو، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیم شاہین، احمد رشدی، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وصی علی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ قومی ترانہ مرتب کرنے میں 21 آلات اور 35 ساز استعمال کئے گئے۔ پورا قومی ترانہ بجنے میں ایک منٹ اور بس سیکنڈ لگتے ہیں۔ پورے ترانہ میں صرف ”کا“ کا لفظ اردو زبان میں ہے باقی تمام الفاظ فارسی کے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے 14 اگست 1955ء کو حفیظ جالندھری سے قومی ترانہ کے حقوق خرید لئے تاکہ اس کا تحفظ اور احترام کیا جا سکے اور کوئی قومی ترانہ کو غلط صورت میں پیش نہ کر سکے۔ 14 اگست 1981ء کو پہلی بار ملک بھر میں صبح 9 بجے قومی ترانہ خصوصی تقریب میں گایا گیا۔ اب ہر یوم آزادی کے موقع پر صبح 9 بجے قومی ترانہ قومی و نجی اداروں کی تقریبات میں گایا جاتا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے پہلی بار 14 اگست 1967ء کو صدارتی ایوارڈ برائے اساتذہ کا اجرا کیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نے پہلی بار 14 اگست 1972ء کو ٹی وی فلم ایوارڈ کا اعلان کیا۔ اس کی انعامی رقم بیس ہزار روپے مقرر کی گئی تھی جو بعد میں بڑھا دی گئی۔

قیام پاکستان کے وقت ملک میں کوئی سیکیورٹی پرنٹنگ پریس نہیں تھا جہاں ڈاک ٹکٹ چھاپے جا سکیں۔ پرانے ٹکٹوں پر جارج ششم کی تصویر تھی اس پر مہر لگا کر یا لفظ پاکستان ٹائپ کر کے ٹکٹ استعمال کئے جات یتھے۔

پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس سے قبل 14 اگست  1948ء کو ڈاک ٹکٹ جاری ہوئے ان کیم الیت ایک پیسہ، تین پیسہ ایک آنہ ڈیڑھ آنہ، دو آنہ، آڑھائی آنہ، ساڑھے تین آنہ، چار آنہ، چھ آنہ، بارہ آنہ، ایک روپیہ، دو روپیہ، پانچ روپیہ، دس روپیہ، پندرہ روپیہ اور پچیس روپیہ تھی۔ پاکستان کا پہلا رنگین ڈاک ٹکٹ 14 اگست 1955ء کو جاری کیا گیا۔ 

ریڈیو پاکستان کا لاہور سٹیشن تو قیام پاکستان سے قبل موجود تھا جہاں سے تمام اعلانات کئے جاتے تھے جبکہ قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلا قائم ہونے والا ریڈیو سٹیشن کراچی ہے جس کا افتتاح پہلے یوم آزادی 14 اگست 1948ء کو اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین نے کیا تھا۔ کراچی ریڈیو سٹیشن کے لئے مختلف آلات ریڈیو کارپوریشن آف امریکہ سے خریدے گئے تھے۔ 14 اگست 1948ء کو پاکستانی سکاؤٹس نے پہلی بار فرانس میں منعقدہ چھٹی عالمی جمہوری میں شرکت کی۔ پاکستانی سکاؤٹس اس علامی جمہوری میں شامل ہو کر بے حد خوش و خرم ہوئے کیونکہ اسی دن پاکستان کا پہلا یوم آزادی تھا۔ پاکستان کے پہلے چیف سکاؤٹ قائداعظم محمد علی جناحؒ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ سکاؤٹس ہمت و جرأت اور ولولہ کو پسند کیا اور حوصلہ دیا۔ 

14 اگست 1987ء کو پاکستان میں پہلی بار تحریک پاکستان گولڈ میڈل کا اجرا کیا گیا اس ضمن میں چاروں صوبوں میں یہ انعامات دیئے گئے صوبہ پنجاب کے تقریباً 61 افراد کو تحریک پاکستان گولڈ میڈل دیئے گئے۔

14 اگست  2020ء کو پہلے کشمیری مسلمان راہنما سید علی گیلانی (مقبوضہ کشمیر) کو نشانِ پاکستان دیا جا ہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے 5 اگست 2020ء کو قوم استحصال کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس عظیم کشمیری راہنما کو نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیا۔

14 اگست  1953ء کو پاکستان کا پہلا بائی سیکل ”رستم“ نیلا گنبد لاہور میں متعارف کرایا گیا۔ لاہور میں سب سے پہلے 1952ء میں پاکستان بائی سائیکل انڈسٹریل کوآپریٹو سوسائٹی قائم کی گئی جس میں رستم سائیکل بننے لگے۔ یہ فیکٹری شاہدرہ شیخوپورہ روڈ لاہور پر واقع ہے۔ رستم سائیکل ابتدا میں 90% درآمد شدہ پارٹس سے 786 کے پاک ہندسوں سے تیار کیا گیا۔

اسی یوم آزادی کی برکت سے رفتہ رفتہ پاکستان غیر ترقی یافتہ ممالک کی صف سے نکل کر ترقی پانے والے ممالک میں پہنچ گیا ہے۔ ہم نے کئی ایک مسائل و مشکلات سے گزر کر ان پر قابو پایا ہے۔ ہر شے کی کمی کے باوجود آزادی جیسی نعمت کے طفیل ہم ایٹمی قوت بنے ہیں اور ہر میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہم پاکستانی قوم ہمہ وقت دعا گو ہیں۔

ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دے

چمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دے

14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی ہر سال بڑے پرچم کشائی کی جاتی ہے اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ملک بھر میں سرکاری و نجی اہم عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریباً منعقد ہوتی ہیں قومی جھنڈا لہرایا جاتا ہے۔ ٹھیک نو بجے قومی ترانہ گایا، بجایا جاتا ہے۔ جھنڈیوں سے درو دیوار سجائے جاتے ہیں بچے، نوجوان اور بزرگ اپنے سینوں پر جھنڈا پاکستان کا بیج سجاتے ہیں۔ مختصر اور بڑے جلوس نکالے جات یہیں۔ جوش و ولولہ کی یہ صورت ہوتی ہے کہ ہر گلی، ہر بازار محلہ اور بستی میں پاکستان زندہ باد اور یوم آزادی زندہ باد کے نعرے گونجتے ہیں۔ ملی ترانے گائے جاتے ہیں۔ ملک بھر کے اخبارات اور ہفتہ روزہ میگزین خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ پاکستان براڈکاسٹنگ اور پاکستان ٹیلی ویژن خصوصی پروگرام نشر کرتے ہیں مذاکرات اور تاریخی واقعات دکھائے اور سنائے جاتے ہیں۔

14 اگست کی اہمیت اور فضیلت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ماہ اگست میں کئی انداز کا روز گار میسر آتا ہے۔ مساجد اور دیگر دینی اداروں میں خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں کہ اللہ ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھ اور لوگوں کو سکون میسر فرما تو نے ہمیں آزادی دی ہے اس آزادی کو رہتی دنیا تک قائم رکھ اور جس عظیم مقصد کے لئے یہ مملکت عنایت، فرمائی تھی اسے پورا کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

مزید :

ایڈیشن 1 -