ڈاکٹر یونس کی ’’بٹ تمیزیاں‘‘ اور ایک شام 

ڈاکٹر یونس کی ’’بٹ تمیزیاں‘‘ اور ایک شام 
ڈاکٹر یونس کی ’’بٹ تمیزیاں‘‘ اور ایک شام 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شہر لاہورکی گہما گہمی میں جہاں کھابوں کا خاص کردار ہے وہیں اس کی رونقیں یہاں ہونے والی رنگا رنگ تقریبات سے بھی قائم ہیں۔ایسی ہی ایک تقریب کا دعوت نامہ عثمان مجیب شامی کی جانب سے موصول ہوا تو مجھے یوں لگا جیسے یہ دعوت نامہ نہیں بلکہ محبت نامہ ہے۔ یہ بلاوا ڈاکٹر یونس بٹ کے ساتھ’’ شام‘‘ کا تھا۔

ایسا ایک عرصے بعد دیکھنے میں آیا کہ ڈاکٹر یونس بٹ ایسے مزاح نگار نے کچھ مضامین حاضرین کے سامنے پڑھے ،اس سے پہلے مشتاق یوسفی اوربعد ازاں ایک چینل نے قاسمی صاحب کا اسی طرز کا پروگرام ’’بہ زبان قاسمی‘‘ کے نام سے ریکارڈ کیا تھا جو قسطوں میں نشر بھی کیا گیا تھا۔ شاہد نذیر چوہدری کے ہمراہ جب گلبرگ میں واقع کلب میں پہنچے تو دیکھا کہ ہال کھچا کھچ ’’خالی‘‘ ہے۔ پھر اپنی اپنی گھڑیاں نکال کر دیکھیں تو احساس ہوا کہ ہم تو پورے وقت پر پہنچ گئے ہیں جو اپنی جگہ کسی بیوقوفی سے کم نہیں۔کچھ زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا مہانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ہال میں ایک خوبصورت سٹیج سجایا گیا تھا جس پر صرف ایک کرسی رکھی گئی تھی جس سے تقریب کا فارمیٹ صاف سمجھ میں آرہا تھا۔ یہ خبر بھی ملی کہ تقریب میں صحافیوں کو بطور خاص مدعو کیا گیا ہے۔ ہال میں لگی لائٹس گننے کے بعد میں کرسیاں گن رہا تھا کہ پتا چلا تھوڑی دیر میں ہی تقریب شروع ہونے والی ہے۔میزبان عثمان مجیب شامی بنفس نفیس مہمانوں کا پرتپاک استقبال کر رہے تھے۔ خوبصورت اینکر اجمل جامی نے مائیک سنبھالا اور ڈاکٹر یونس بٹ کے کچھ اقتباسات کا ذکر کیا۔ ان کا تعارف کروایا اور ساتھ ہی اطلاع دے دی کہ اب ڈاکٹر صاحب خود سٹیج پر تشریف لائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے آتے ہی رنگ جمایا۔ سب سے پہلے انہوں نے بتایا’’میں ہوں یونس بٹ‘‘ جس پر ہال میں زور دار قہقہ گونجا۔

ڈاکٹر یونس بٹ نیابتدائی تعلیم میٹرک تک گوجرانوالہ میں حاصل کی اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے ایف ایس سی کی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔عملی زندگی ایم بی بی ایس 1985ء میں کرنے کے بعد میو ہسپتال میں شعبہ نفسیات سے میڈیکل کیرئر کا آغاز کیا۔ 1990 سے 1992 تک شیخ زید ہسپتال میں تعنیات رہے۔

ڈاکٹر یونس بٹ کی تصنیفات کے نام یہ ہیں

خندہ زن،غُل دستہ،بٹ پارے،بٹ صورتیاں،عکس برعکس،شناخت پریڈ،حوائیاں،مزاح پُرسی،خندہ پیش آنیاں،کلاہ بازیاں،افرا تفریح،جوک در جوک،لاف زنیاں،مزاح بخیر،تُو تُو میں میں،بٹ تمیزیاں،نوک جھوک،شیطانیاں،لاف بیک،گھر مستیاں،مِس فٹ،فیملی فرنٹ،ہم سب اُمید سے ہیں،یہ دُنیا ہے دِل والوں کی،عکس برعکس،مزاح گردی،بٹ کاریاں،کلاہ بازیاں،خرمستیاں،مزاحیات،خند کاریاں،خندہ زن ۔

ڈاکٹر صاحب نے مختصر تعارف کے بعد کہا’’ویسے شاعروں کو ضرور شادی کرنی چاہیے۔ اگر بیوی اچھی مل گئی تو زندگی اچھی ہو جائے گی اور بیوی اچھی نہ ملی تو شاعری اچھی ہو جائے گی‘‘ ۔ 

’’دنیا کی وہ عورت جسے آپ ساری زندگی متاثر نہیں کر سکتے وہ بیوی ہے ۔ اور وہ عورت جسے آپ چند منٹوں میں متاثر کر سکتے ہیں وہ بھی بیوی ہے۔۔۔مگر دوسرے کی ‘‘۔

ان جملوں پر سامعین سے خوب قہقے اور داد وصول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی تصانیف میں سے کچھ اقتباسات پڑھ کر حاضرین کو سنائے مثلاً انہوں نے کہا ’’شاعری، گلوکاری، اور اداکاری کی طرح عشق کرنا بھی فنون لطیفہ میں سے ہے ۔

دنیا میں تین قسم کے عاشق ہیں ۔

ایک وہ جو خود کو عاشق کہتے ہیں ۔

دوسرے وہ جنھیں لوگ عاشق کہتے ہیں ۔

اور تیسرے وہ جو عاشق ہوتے ہیں ۔

میرا دوست '' ف '' کہتا ہے عاشق در اصل '' آ شک '' ہے کہ وہ اتنا محبوب سے پیار نہیں کرتا جتنا شک کرتا ہے ۔

ہمارے ہاں جتنے بھی اچھے عاشق ملتے ہیں وہ کتابوں میں ہیں یا قبرستانوں میں ۔

کامیاب عاشق وہ ہوتا ہے جو عشق میں ناکام ہو، کیونکہ جو کامیاب ہو جائے وہ عاشق نہیں خاوند کہلاتا ہے ۔

شادی سے پہلے وہ بڑھ کر محبوبہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنی محبّت کے لیے ۔

جب کہ شادی کے بعد وہ بڑھ کر بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے ۔

کہتے ہیں عاشق خوبصورت نہیں ہوتے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ عاشق نہیں ہوتے، لوگ ان پر عاشق ہوتے ہیں 

عاشق، شاعر اور پاگل ان تینوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ خود کسی پر اعتبار نہیں کرتے ۔

اس دنیا میں جس شخص کی بدولت عاشق کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ رقیب ہے جب رقیب نہیں رہتا تو اچھے خاصے عاشق اور محبوب میاں بیوی بن جاتے ہیں ۔

میرا دوست '' ف '' ایک ہی نظر میں عاشق ہوجاتا ہے کہتا ہے

'' میرے ساتھ کوئی دوشیزہ مخلص نہیں نکلی، جو مخلص نکلی وہ دوشیزہ نہیں نکلی ۔ ''

بچے پالنے اور خاوند پالنے میں یہ فرق ہے کہ بچوں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے اور خاوند کو سمجھنا ۔

بچے گھر سے باہر جائیں تو ان کے راستہ بھولنے کا اتنا ڈر نہیں ہوتا جتنا خاوند باہر جائے تو اس کا ہوتا ہے ۔

بچوں کا احترام ہمارے ہاں زیادہ ہوتا ہے ۔

آج ہم اتنا خدا کے آگے نہیں جھکتے جتنا بچوں کے آگے جھکتے ہیں ۔ 

آپ جھکے بغیر تو انھیں تھپڑ بھی نہیں مار سکتے ۔

دنیا میں جنت بنانے کی پہلی کوشش شداد نے نہیں کی، بیوی نے کی کہ وہ جنت کو گھر نہ بنا سکی تو گھر کو جنت بنانے کی کوشش کرنے لگی ۔

گھر وہ سلطنت ہے جس کی حکمران بیوی اور عوام خاوند ہوتا ہے ۔

خاوند کو عوام شاید اس لیے کہتے ہیں کہ عوام کا جب دل چاہے اپنا نیا حکمران منتخب کر لیتی ہے ۔

اچھا خاوند وہ ہوتا ہے جو وہ کہے جو بیوی سننا چاہتی ہے ۔

اور اچھی بیوی وہ ہوتی ہے جو وہ سنے جو اس کا خاوند نہیں کہنا چاہتا ۔

خاوند کی ایک بات میں کئی مطالب اور بیوی کی ایک بات میں کئی مطالبات ہوتے ہیں ۔

بیوی نوجوانی میں آیا، ذرا عمر ڈھلے تو ساتھی اور بڑھاپے میں خاوند کی نرس ہوتی ہے ۔

قہقوں کی گونج ختم ہورہی تھی کہ اعلان ہوا سینئر صحافی حضرات ڈاکٹر یونس بٹ کی شخصیت اور فن پر مختصر بات کریں گے۔اس موقع پر سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی،حفیظ اللہ نیازی،نجم ولی خان،شاہنواز رانا،ذولفقار راحت،احسن ضیاء سمیت راقم نے گفتگو کی۔اس موقع پر ہر گفتگو میں ڈاکٹر یونس بٹ کا نوجوان نظر آنا ’’ایشو آف دی ڈے‘‘ ٹھہرا ۔اس پر جملے بازی بھی چلتی رہی جس پر حاضرین لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ دلچسپ سین تب دیکھنے میں آیا جب ایک بٹ صاحب ہائی ٹی کے آغاز سے پہلے مائیک پر آکر بٹوں کے قصے سنانا شروع ہوگئے۔شاندار تقریب کا اختتام ایک شاندار ہائی ٹی پر ہوا۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ