ذہنی دباؤ کی علامات اور اس کا آسان علاج

ذہنی دباؤ کی علامات اور اس کا آسان علاج
ذہنی دباؤ کی علامات اور اس کا آسان علاج

  

صحت انسان کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا زندگی، اگر انسان اپنی صحت کا خیا ل رکھے اور اس کے ساتھ متوازن غذا استعمال کرے تو ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہو، یا کسی ڈپریشن کا شکار ہو،غذا کے حوالے سے مختلف احادیث بھی ہیں اور آپ ﷺ کا فرمان مبارک بھی ہے کہ متوازن خوراک انسان کے جسم کو توانا رکھتی ہے، اسی لئے اللہ رب العزت نے ہر کھانے والی چیز میں افادیت رکھی ہے ،اس کے ساتھ وقت پر سونا ، وقت پر کھانا ،جتنی بھوک ہو اتنا کھانا یہ سب انسان کے لئے انتہائی ضروری ہیں اگر انسان ان تمام چیزوں پر عمل کرے تو اس کی زندگی بھر پور اور توانا رہتی ہے چہرے پر اداسی کی بجائے ایک دِل کشی رہتی ہے انسان اپنے روز مرہ کے تمام امور بخوبی سر انجام دیتا ہے ،جسم چاک و چوبند رہتا ہے اور کسی ذہنی دباؤیا کسی بھی مرض سے آزاد رہتا ہے۔ڈیپریشن ذہنی دباؤ، افسردگی، دکھی پن کی کیفیت ہے۔

آج کل کے دور میں ذہنی تناؤ معمولی سی بات ہے اور بہت سی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔ پوری دنیا میں تین سو کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ خواتین ،بچے، بوڑھے ،نوجوان اس مرض سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ ڈپریشن کی بنیادی علامات بھی زندگی سے بیزاری، علیحدگی پسند ہونا،خود کو تنہا پسند کرنا، فکر مند اور افسردہ رہنا، بے اعتمادی، سردرد، کمر درد،سینے کی تیزابیت، بالوں کا گرنا، خودکشی کے خیالات کا جنم لینا شامل ہے۔ دنیا میں اس وقت معذوری کی بڑی وجہ ذہنی دباؤ ہے۔متوازن غذا ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، اپنی خوراک جس میں کیلشیم کی وافر مقدار ہو اور روزمرہ خوراک میں کتنے جنک اور فاسٹ فوڈ کا خاتمہ ذہنی تناؤ میں کمی لا سکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق ہرے پتوں والی سبزیاں جیسے پالک،میتھی،ساگ مولی، مٹر، بندگوبھی کا استعمال ذہنی دباؤ کم کر سکتا ہے۔ ڈپریشن اور فولک ایسڈ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ہری سبزیوں میں فولک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث ذہنی تناؤ میں پچاس فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن بی سِکس کی فراہمی سے بھی مرض میں کمی واقع ہوتی ہے اور کیلا بہترین غذا ہے۔ سیب کے جوس کا روزانہ کی بنیاد پر استعمال اعصاب کے لئے فرحت افزاء ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک کپ پانی میں دوعدد سبز الائچی ڈال کر ابال لیں،ایک چائے کا چمچ شہد ڈال کر اس کا استعمال دن میں دوبار کرنے سے معدہ تندرست رہے گا اور ذہنی تناؤ کم ہو گا کیونکہ خراب معدہ اور ذہنی تناؤ کا گہرا تعلق ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی سے اکثر ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا انڈہ، دودھ، مچھلی، مچھلی کا تیل (کیپسول) استعمال کریں اور سورج کی روشنی لی جائے۔

اندازِ زندگی میں کچھ سادہ سی تبدیلیاں طاقتور آلات کے طور پر کام کر سکتی ہیں، مثلاً روزانہ آدھ گھنٹے ورزش یاتیز چہل قدمی کرنا ناصرف موڈ خوشگوار بنائے گا،موٹاپہ بھی کم ہوگا بلکہ ذہنی تناؤ کے آثار میں بھی کمی لائے گا۔ وقت پر سونا، پر سکون اور مکمل نیند لینا بہترین اصلاح ہے۔ مضبوط رشتے قائم کریں اور خود کو معاشی طور پر مصروف کریں۔ ماہرین کے مطابق مختلف رویے اپنانے سے ذہنی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ہروقت باوضو رہنا اور نماز قائم کرنا دوسروں کو معاف کرنا، شکر گزار بننا، انسانیت کے ساتھ ہمدردی، یہ وہ اعمال ہیں جن کو اپنانے سے مرض سے یا تو مکمل چھٹکارا مل سکتا ہے یا کم از کم کمی لائی جا سکتی ہے۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔ 

مزید : بلاگ