مرشد کے چہیتے مرید کا وہ غلط عمل جس نے اسکو راندہ درگار بنا دیا تھا

مرشد کے چہیتے مرید کا وہ غلط عمل جس نے اسکو راندہ درگار بنا دیا تھا
مرشد کے چہیتے مرید کا وہ غلط عمل جس نے اسکو راندہ درگار بنا دیا تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ایک نوجوان اکثر میرے پاس آتا ،سلام کرتا اور چلا جاتاتھا ۔ ایک دن وہ آیا میں نے اس سے پوچھا ’’بھائی آپ اتنی بار میرے پاس آ چکے ہو، سلام کر کے چلے جاتے ہو بتاؤ کیوں آتے ہو۔ آج اپنے دل کی بات بتاؤ۔‘‘ 

وہ بولا ’’پروفیسر آپ کی مہربانی آپ نے پوچھا۔ اصل میں میں نافرمانی سے ڈرتا ہوں۔ کہیں میری کسی حرکت سے آپ ناراض نہ ہو جائیں کیونکہ میں پہلے ہی اپنے مرشد کی نافرمانی کر چکا ہوں اور اس کی شدید سزا بھی بھگت رہا ہوں اور میں اس انتظار میں تھا کہ کب آپ کو مجھ پر ترس آئے گا، جب آپ کی مرضی ہو گی آپ پوچھیں گے تو بتا بھی دوں گا۔ آج آپ نے بلایا تو آپ کی اجازت سے میں آپ کو اپنی بدقسمتی کی داستان سناتا ہوں۔ پروفیسر صاحب میرے مرشد سرکار مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں۔ میں پانچ سال سے ان کے پاس جا رہا تھا انہوں نے مجھ سے بہت شفقت اور محبت بھی کی۔ مجھے عمل حُب بھی عطا کیا اور روحانی منازل بھی طے کرائیں۔ میں نے سرکار سے جو مانگا سرکار نے مجھے دیا۔ میرے گھر والے پہلے دن سے ہی میرے مرشد کیخلاف تھے۔ میرے گھر والوں نے ایک پلان تیار کیا اور میں اپنے گھر والوں کی سازش کا شکار ہو کر اپنے مرشد کو غلط سمجھ کر ان کو چھوڑ کر گھر آ گیا۔ لیکن جلد ہی میرے مرشد نے اپنے روحانی تصرف سے میرے گھر والوں کی سازش ناکام بنا دی اور مجھے اصل حقائق کا پتہ جب چلا تو میں بہت شرمندہ ہوا۔ جا کر اپنے مرشد پاک سے معافی مانگی، پاؤں پکڑے لیکن مرشد پاک نے کہا کہ اب تم کبھی میرے پاس نہیں آؤ گے اور نہ ہی تم کو معافی ملے گی۔ میں نے ایک دو بار ملنے کی کوشش کی لیکن بابا جی نے سختی سے منع کیا اور کہا کہ اگر اب تم میرے پاس آؤ گے تو مجھے شدید دکھ دو گے۔ کبھی نہ آنا۔ پروفیسر صاحب اب مجھے مرشد سے دور ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ میرے جسم و روح میں جو نشہ سرور مستی تھا ،میں جو کہتا وہ ہو جاتا۔ بے شمار لوگ میرے پاس اپنی مرادیں لے کر آتے اور اپنی خالی جھولیاں بھر کر جاتے۔ اب کیونکہ مرشد کی توجہ کا سایہ سر پر نہیں ہے لہٰذا اب نہ تو کسی کا کام ہوتا ہے اور نہ ہی لوگ اب میرے پاس آتے ہیں۔ مجھے لوگوں کی پروا نہیں ہے بلکہ میں تو اس سرور، مستی کی تلاش میں ہوں جو ہر وقت میرے جسم و روح میں دوڑتی تھی۔ خدا کیلئے پروفیسر صاحب کچھ کریں کہ میرا مرشد مجھ سے راضی ہو جائے‘‘ 

نوجوان نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ اس نے روتے روتے میرے پاؤں بھی پکڑ لئے ’’ پروفیسر صاحب مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ میرا مرشد مجھ پر دوبارہ مہربان ہو جائے۔ مجھ سے راضی ہو جائے‘‘ اس کی حالت دیکھ کر میں بھی پریشان ہو گیا۔ اہل روحانیت اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مرشد کی ناراضی کا کیا مطلب ہے۔ دنیا اندھیر نگری بن جاتی ہے۔ وہ اس شدت سے رو رہا تھا کہ لگ رہا تھا کہیں شدت غم یا مرشد کی جدائی اس کیلئے جان لیوا ہی ثابت نہ ہو۔ میں نے اس کو حوصلہ دیا کہ تم پریشان نہ ہو۔ میں بھی اللہ سے دعا کرتا ہوں اور کوئی راستہ بھی نکالتا ہوں۔ 

یہاں پر میں اپنے قارئین کو ایک بات بتاتا چلوں کہ میرے پاس جب بھی کوئی سائل یا دکھی اپنے مسائل لے کر آتا ہے اور جب یہ بھی بتاتا ہے کہ میں فلاں پیر صاحب یا سلسلے میں باقاعدہ بیعت بھی ہوں تو میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے مرشد کے پاس یا مرشد خانہ پر جائیں وہ ہی آپ کی مدد کریں گے۔ لیکن جب کوئی ایسا مرید بہت ضد کرے تو پھر میں باقاعدہ اس کے مرشد سے اجازت مانگتا ہوں اور التماس کرتا ہوں کہ مجھے اجازت دے دیں میں آپ کے مرید کی اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے کچھ مدد کرنے کی سعی کروں یا رات کو روحانی طور پر متعلقہ بزرگ سے رابطہ کر کے اجازت لیتا ہوں۔ لہٰذا یہاں بھی میں نے دکھی نوجوان سے پوچھا کہ آپ کے مرشد کون ہیں۔ ان کا آستانہ کہاں ہے اور میں کیسے ان تک جا سکتا ہوں، لہٰذا اس نوجوان نے مجھے اپنے مرشد کے بارے میں تمام تفصیلات اور جگہ بتا دی۔ اب میں نے نوجوان سے ایک دن طے کیا کہ آپ کو لے کر میں تمہارے مرشد کے پاس جاؤں گا اور اس طرح مقرر کردہ دن میں اس نوجوان کے ساتھ اس کے ناراض مرشد کی طرف رواں دواں تھا۔ خوف میرے اندر بھی تھا کہ مرشد زیادہ ہی جلالی نہ ہو۔ اللہ کرے وہ میری بات مان جائے۔ طویل سفر کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں پر وہ نیک بزرگ قیام فرما تھا۔

وہ نوجوان بہت بُری طرح ڈرا ہوا تھا اس لئے وہ راستے میں ہی رک گیا اور مجھے کہا’’ پروفیسر صاحب! آپ میرے مرشد سرکار کے پاس جائیں۔ اگر وہ راضی ہو جائیں تو مجھے بلا لیجئے گا، میں دوڑتا ہوا سر کے بل آؤں گا‘‘ اس نے دور سے ہی مجھے اپنے مرشد کے آستانے کی نشاندہی کرا دی تھی۔ میں اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔ بابا جی کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی۔ وہ اپنے چند مریدوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آرام سے سلام کر کے بیٹھ گیا۔ بابا جی نے غور سے میری طرف دیکھا اور آئے ہوئے لوگوں میں مصروف ہو گئے۔ ان کے مرید نے آ کر مجھ سے لنگر کھانے کا پوچھا۔ میری یہ شدید کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ میں لنگر ضرور کھاؤں۔ یہ بات تمام لوگ جانتے ہیں کہ ان پراسرار بابوں کے لنگر میں بھی خاص قسم کا فیض، ذائقہ اور سرور ہوتا ہے۔ تندور کی روٹیاں اور آلو گوشت میرے سامنے لا کر رکھ دیا گیا جو میں نے بہت شوق سے کھایا۔ اکثر درباروں پر دال بھی ملتی ہے جو اپنے ذائقے میں بینظیر ہوتی ہے۔ کھانے کے بعد گرما گرم چائے آ گئی جس نے نشہ دوآتشہ کر دیا۔ اکثر اوقات ایسی جگہوں پر جا کر میرا دل کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اسی جگہ پر رہ جاؤں اور ساری عمر بابا جی اور آنیوالے لوگوں کی خدمت کر سکوں۔ بہت سارے لوگ بابا جی سے مل کر واپس جا چکے تھے اور میں انتظار میں تھا کہ کب بابا اکیلے ہوں تو میں بابا جی سے درخواست کروں۔ جب بابا جی اکیلے ہوئے تو میں سرک کر بابا جی کے قریب ہو گیا۔ بابا جی دیہاتی کرسی نما کسی چیز پر بیٹھے تھے اور حقہ پی رہے تھے۔ 

بابا جی کا حقّہ دیکھ کر مجھے اپنے والد صاحب، تایا جی، بابا جمال دین صاحب شدت سے یاد آئے کیونکہ میں بچپن میں اکثران بزرگوں کے لئے حقّہ بھرتا تھا، آگ جلاتا تھا اور خود بھی کئی دفعہ کش لگاتا تھا۔ 

میں نے بابا جی کی ٹانگیں دبانی شروع کر دیں۔ مجھے شدت سے اس کمی کا احساس ہوتا ہے کہ کاش آج میرے والد صاحب ہوتے تو میں بار بار ان کی خدمت کرتا۔ ان کے پاؤں دباتا اور وہ ساری چیزیں انہیں مہیا کرتا جن کو وہ پسند کرتے تھے۔

میں آرام اور پیار سے بابا جی کی ٹانگیں دبا رہا تھا اور بابا جی بھی پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بابا جی نے ایک دو بار مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میں نے درخواست کی کہ میں اپنی خوشی سے دبا رہا ہوں لہٰذا وہ خاموش ہو گئے۔ بابا جی بولے’’ بیٹا پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو اور کسی اچھے خاندان سے بھی معلوم ہوتے ہو‘۔کیا چاہتے ہو‘‘

’’ جی بابا ۔ آپ کی اور ربّ پاک کی خوشی اور تاجدار مدینہ سرکار دوعالمﷺ کی غلامی کے سوا کیا چاہئے‘‘۔ بابا جی میرے جواب سے خوش ہوئے’’ بابا جی دعا کریں کہ میں مرنے سے پہلے ویسا ہو جاؤں جیسا میرا رب پاک چاہتا ہے۔ میرے سارے گناہ مرنے سے پہلے دھل جائیں۔ بابا جی نے پھر مجھے دعائیں دیں‘‘ 

یہ سن کر انہوں نے توقف کیا۔کچھ دیر بعد بابا جی بولے ’’مجھے پتہ ہے تم اپنے کسی کام سے میرے پاس نہیں آئے اور نہ ہی کبھی تم نے میرے پاس آنا تھا اور ہاں جو تم لوگوں کی خدمت کر رہے ہو اس کو اسی طرح بلامعاوضہ جاری رکھنا۔ یہ اللہ پاک کا نور ہے جو تم لوگوں میں بانٹ رہے ہو۔ تم قسمت والے ہو کہ اللہ پاک نے تمہاری یہ ڈیوٹی لگائی ہے۔ اب تم میرے پاس کچھ لینے تو نہیں آئے لیکن پھر بھی کیونکہ تم ایک درویش کے پاس آئے ہو تو کچھ لیتے جاؤ‘‘ لہٰذا بابا جی نے مجھے کچھ نادر و نایاب قسم کے عمل اور حکمت کے نسخے بھی دئیے کہ لوگوں کی خدمت میں یہ بھی شامل کر لو اور کبھی بھی کسی سے پیسے نہ لینا۔ میں نے بابا جی سے وعدہ کیا کہ انشاء اللہ ایسے ہی ہو گا آپ ہمیشہ میرے لئے دعا کرتے رہئے گا اور مجھے اپنی نظروں میں بھی رکھئے گا۔ بابا جی مسکرائے اور میرے سر پر بوسا دیا اور بولے’’ جا تم کو ہر قسم کی خیر ہو گی‘‘ پھر بابا جی کچھ دیر کیلئے چپ ہو گئے اور میری طرف خاموشی سے پیار بھری نظروں سے دیکھتے رہے اور میری کمر پر ہلکی سی تھپکی دی اور بولے ’’جاؤ اس نافرمان کو لے آؤ جس کی وجہ سے تمہارا دیدار ہوا ورنہ تم نے کہاں مجھ فقیر کے پاس آنا تھا‘‘

میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔میں نے خوشی اور پیار سے بابا جی کے ہاتھوں کو چوما ۔۔ پتہ نہیں بابا جی کی روح کی کیا فریکونسی تھی کہ میں بابا جی کے پاس آ کر بہت مسرور، شاداں اور خوش تھا۔ دل تھا کہ بابا جی کی طرف کھینچا جا رہا تھا اور یہ بھی کہ ساری عمر بابا جی کے پاس گزار دوں’’ جاؤ اور اس کو لے آؤ جس کو تم راستے میں بٹھا آئے‘‘میں خوشی خوشی اس نوجوان کی طرف گیا۔ وہ شدت سے میرا انتظار کر رہا تھا کہ پتہ نہیں بابا جی مانتے ہیں کہ نہیں۔ میں نے جب اس کو جا کر بتایا کہ بابا جی مان گئے ہیں اور انہوں نے مجھے خود کہا ہے کہ جا کر اس کو لے آؤ تو وہ خوشی سے میرے ساتھ لپٹ گیا اور بار بار میرا شکریہ ادا کرنے لگا۔ اب ہم دونوں خوشی خوشی تیزی سے چلتے ہوئے دوبارہ بابا جی کے پاس پہنچے۔ نوجوان جاتے ہی بابا جی کے قدموں میں گر گیا اور بابا جی کے پاؤں پکڑ کر زار و قطار رونے لگا۔ جب وہ اچھی طرح رو چکا تو بابا جی نے کہا ’’بس کرو۔۔ اس کو کھانا کھلاؤ‘‘ اس کیلئے لنگر آ گیا۔ کھانے کے بعد بابا جی بولے ’’پروفیسر صاحب کی وجہ سے تمہیں معافی تو مل گئی ہے لیکن اب تمہیں چھوٹی سی سزا بھی ملے گی۔ اگر تم نے سزا کا عرصہ اچھی طریقے سے گزارا تو تمہاری معافی بھی پکی ہو گی اور تمہاری پرانی روحانی حالت اور مقام بھی واپس مل جائے گا‘‘

نوجوان بولا ’’بابا جی میں ساری عمر سزا سہنے کیلئے تیار ہوں ۔آپ حکم کریں مجھے کیا کرنا ہو گا‘‘ 

بابا جی نے بہت ہی مشکل اور انوکھی سزا اپنے مرید کو سنائی اور مجھے اس وقت شدید خوشگوار حیرت ہوئی جب نوجوان نے بہت خوشی سے بابا جی کی سزا قبول کی۔ بابا جی نے سزا یہ سنائی’’ اب تم پورا ایک سال پھٹے پرانے کپڑے پہنو گے اور اس لباس کو پورا سال تم دھو نہیں سکتے اور گلے میں روزانہ پھٹے پرانے جوتوں کا ہار بھی پہننا ہو گا اور کھانا لوگوں سے مانگ کر۔ یا زمین پر بچا کھچا گرا ہوا کھانا اٹھا کر کھاؤ گے۔ کسی سے کسی قسم کے پیسے نہیں لو گے اور نہ ہی ایک سال تک تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ گے اور نہ ہی میرے پاس رہو گے‘‘ 

آخری شرط سب سے سخت تھی کہ ایک سال تم بال نہیں کٹاؤ گے اور نہ ہی صابن وغیرہ سے اپنے جسم کو صاف کرو گے۔ اسی طرح کی اور بھی شرطیں جو نوجوان نے خوشی سے قبول کیں۔

میں نے درمیان میں بولنے کی کو شش کی لیکن بابا جی نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ لہٰذا میں اور وہ نوجوان خاموشی سے بابا جی کی باتیں سنتے رہے ۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ لہٰذا بابا جی نے حکم دیا ’’پروفیسر صاحب آپ رات کو ادھر ہی سو جائیں ہمارے آستانے کیلئے آپ کا سونا بابرکت ہو گا‘‘

’’ بابا جی کیسی بات کرتے ہیں۔ یہ میرے لئے بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ آپ جیسے بزرگ کو دیکھنا، آپ سے باتیں کرنا، آپ کا لنگر کھانا اور آپ کے آستانے پر کچھ سانس لینا اور گھڑیاں گزارنا میرے لئے سعادت سے کم نہیں ہے‘‘۔ میں اور نوجوان مرید کافی دیر بابا جی کے پاس بیٹھے رہے اور بابا جی کی حکمت و دانائی سے بھرپور باتیں بھی سنتے رہے۔ آخرکار آدھی رات کے بعد ہم سونے کیلئے الگ کمرے میں چلے گئے۔ نوجوان مرید بہت خوش تھا اور باربار میرا شکریہ بھی ادا کر رہا تھا۔ صبح ہم نماز فجر کے لئے اٹھے اور نماز پڑھ کر پھر سو گئے کیونکہ رات کو ہم کافی دیر تک جاگتے رہے تھے اور طویل سفر بھی ہم نے کیا تھا۔ اس لئے میں کافی دیر تک سوتا رہا۔ جب میں اٹھا تو نوجوان کا بستر خالی تھا۔ میں نے باہر آ کر دیکھا تو بابا جی چند لوگوں کے ساتھ بیٹھے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ بابا جی میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا’’ پروفیسر صاحب آپ کو ناشتہ کرنے کے بعد اکیلا ہی واپس جانا ہو گا کیونکہ اس کی ڈیوٹی شروع ہو گئی ہے اور وہ اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا ہے۔ اب وہ ایک سال کے بعد ہی یہاں واپس آئے گا البتہ کبھی کبھی تم سے ملنے آ جایا کرے گا، اس کی اجازت اس کو ہے‘‘

میں حیرت سے بابا جی کی باتیں سن رہا تھا۔ میں نے ناشتہ کیا تو بابا جی نے اپنے کسی مرید کی ڈیوٹی لگائی کہ مجھے سڑک تک چھوڑ آئے۔ بابا جی نے مجھے بہت پیار اور محبت سے الوداع کیا اور میں بابا جی کی ڈھیر ساری محبتیں دل میں سمیٹے مری واپس آ گیا اور آ کر اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہو گیا۔ 

چھ ماہ بعد کی بات ہے ایک دن ہزاروں لوگ میرے پاس آئے ہوئے تھے کہ کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی مجذوب دیوانہ پھٹے پرانے کپڑوں میں بال اور شیو بڑھی ہوئی ہے ،ڈھلان سے اوپر کی طرف آ رہا ہے۔ بہت سارے بچے اس کے ساتھ تھے جو اس کے پراسرار حلیے کی وجہ سے اس کو تنگ کر رہے تھے لیکن وہ لوگوں سے بے نیاز پہاڑی چڑھ رہا تھا۔ وہ ہجوم کو چیرتا ہوا تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا۔ لوگوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن جب میں نے اشارہ کیا کہ اسے آنے دیا جائے تو کسی نے بھی اس کو نہ روکا۔ جب وہ میرے بہت قریب آیا تو مجھے لگا کہ میں نے اس کو کہیں نہ کہیں دیکھا ہے۔ جب وہ میرے بہت ہی قریب آیا تو بولا ’’پروفیسر صاحب دیوانے کو قریب آنے دیں‘‘

میرے دل و دماغ میں آشنائی کی لہر چمکی ۔ یہ تو وہی نوجوان ہے جس کا مرشد ناراض ہو گیا تھا اور مرشد نے اس کو ایک سال کی سزا سنائی تھی اور یہ سزا کا عرصہ گزار رہا ہے کیونکہ اس واقعہ کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا اور آج یہ پھٹے پرانے کپڑوں میں خوشی اور مستی سے پھر رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مرید اپنے مرشد کو راضی کرنے کیلئے اس کی بتائی ہوئی سزا خوشی خوشی سہہ رہا تھا۔ 

وہ قریب آ کر مجھ سے لپٹ گیا۔ میں بھی بہت خوشی اور گرمی جوشی سے ملا۔ ہجوم شدید حیرت میں تھا کہ یہ کون وی آئی پی شخصیت ہے جس سے پروفیسر صاحب اتنی خوشی اور گرمجوشی سے ملے ہیں کیونکہ اس کا حلیہ ایسا تھا کہ کوئی بھی بندہ اسے گلے لگانے کو تیار نہیں تھا۔ میں اس کو لے کر ایک طرف ہو گیا اور کسی کو کہا کہ شربت بنا کر لاؤ۔ اس دوران وہ اپنی داستان سنانے لگا کہ مرشد کی اس سزا میں جو نشہ اور سرور ہے وہ کہیں اور نہیں ہے۔ میرے گھر والوں نے میرا بہت پیچھا گیا اور سمجھایا بھی لیکن میں نے اب گھر والوں کی بات نہیں مانی۔ اب میں ایک سال کا عرصہ پورا کر کے ہی واپس بابا جی کے پاس جاؤں گا کیونکہ پروفیسر صاحب آپ نے ہی مجھے بابا جی سے معافی لے کر دی تھی۔ اس لئے دل کیا آپ سے مل لوں لہٰذا آج آ گیا۔ اس طرح کی اور بھی بہت ساری باتیں کر کے وہ چلا گیا اور جاتے ہوئے یہ وعدہ بھی کر گیا کہ جب سال پورا ہو گا تو آپ سے مل کر بابا جی کے پاس جائے گا ۔ جب اس کی سزا کا وقت پورا ہوا تو وہ پھر مجھ سے ملنے آیا۔ وہ بہت ہی خوش تھا کہ اب وہ اپنے مرشد کے قدموں میں باقی زندگی گزار سکے گا۔*

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت