”سوچوں کی معراج سے حقیقت کی دلدل تک“

 ”سوچوں کی معراج سے حقیقت کی دلدل تک“
 ”سوچوں کی معراج سے حقیقت کی دلدل تک“

  

 داخلی دروازہ پرموجود استاد جی کو السلام علیکم کہتے، استاد جی کی شفقت بھری نظروں اور وعلیکم السلام سے مستفیض ہوتے ہوئے بچے اسمبلی گراؤنڈ کی طرف بڑھتے چلے گئے اور انتہائی منظم انداز میں اپنی اپنی مخصوص قطاروں میں کھڑے ہوتے گئے۔مارننگ اسمبلی کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔پانچویں جماعت کے ایک خوش الحان طالب علم نے قرآنِ مجید کی سورۃ الم نشرح کی تلاوت سے اسمبلی میں موجود سامعین پر اپنی آواز سے ایک سحر طاری کر دیا۔تلاوت کے بعد ایک طالب علم نے نبیؐ کے حضور عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔اس کے بعد صدرِ مدرس نے ”والدین اور بزرگوں کے حقوق“ پرگفتگو فرمائی۔ بالآخر قومی ترانہ پر مارننگ اسمبلی کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔پوری کارروائی کے دوران اسمبلی گراؤنڈ میں موجود بچوں نے جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا وہ صرف فوج کے دستوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اسمبلی کے اختتام پر تمام بچے خاموشی کے ساتھ قطاریں بنائے اپنے اپنے کمرہئ ہائے جماعت میں چلے گئے۔ سکول کے اندر ہر طرف سے شے اُجلی اُجلی دکھائی دے رہی تھی۔ سبزہ اپنے جوبن پر تھا۔ سایہ دار درختوں کی قطاریں سکول کے حُسن کو دوبالا کر رہی تھیں تو سکول کی عمارت اور کمروں کی ترتیب اپنی مثال آپ تھی۔کمرہ ہائے جماعت میں اساتذہ اپنے موبائل فون بند کیے انتہائی دلجمعی کے ساتھ تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔چھٹی ہوئی تو بچے آپس میں مسکراہٹیں بکھیرتے اساتذہ کرام کو آداب بجا لاتے کچھ پیدل، کچھ سائیکلوں پر گھروں کو روانہ  ہوتے گئے۔

ایک مریض کے ساتھ شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں جانا ہوا۔ہسپتال میں مریضوں کی گھمسان کی بھیڑ تھی۔تاہم ہسپتال کا چاک و چوبند عملہ مریضوں کے ساتھ انتہائی تپاک سے پیش آ رہا تھا اور بابا جی، چاچا جی، بھائی جی،ماں جی،بہن جی کے الفاظ سے مریضوں سے مخاطب تھا۔مریض انتہائی صبر اور سلیقہ سے برآمدوں میں رکھی نشستوں پر تشریف فرما تھے اور اپنی اپنی باری پر طبی معائنہ کے لئے ڈاکٹر کے کمرہ میں جا رہے تھے۔معائنہ کے دوران انتہائی گرم جوشی اور انسانی احساس پر مبنی گفتگو جیسے ڈاکٹر کے تجویز نسخہ کا جزو لازم تھی۔ہر مریض مسکراتا ہوا، مطمئن چہرے اور چال کے ساتھ ہسپتال سے رخصت ہو رہا تھا۔

والد کی وفات کے بعد بیٹوں کے نام زمین کا انتقال ہونا تھا جس کے لئے پٹواری سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر تک کے دفاتر سے رابطہ کرنا ناگزیر تھا۔پٹواری کو وفات کی خبر ہوئی تو وہ قل و ختم کی رسومات کے بعد زمین کے بنیادی ریکارڈ سے متعلق اپنے بستہ کے ساتھ متعلقہ گھر تشریف لے آیا۔بھائیوں نے اُسے عزت واحترام کے ساتھ بٹھانے کے بعد کھانے اور چائے کا دریافت کیا تو پٹواری نے ایک گلاس پانی کے علاوہ کوئی بھی چیز پیش کرنے سے سختی سے منع کر دیا۔پٹواری نے بھائیوں کے بیانات لینے، کچھ جگہوں پر انگوٹھے لگوانے اور دستخط کروانے کے بعد یہ کہتے ہوئے جانے کی اجازت چاہی کہ آپ کو ایک بار تحصیلدار صاحب اور اسسٹنٹ کمشنر کے سامنے حاضر ہونے کی زحمت کرنا ہو گی۔ پٹواری کو رخصت کرتے وقت الوداعی مصافحہ لیتے ہوئے بھائیوں میں سے ایک نے کچھ رقم اس کے ہاتھ میں شکریہ کے ساتھ تھمانے کی کوشش کی تو پٹواری کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا۔ایسے لگتا تھا کہ اُس کی عزتِ نفس پر کسی نے کلہاڑا چلا دیا ہو،مگر اُس نے اپنے غصہ پر قابو پاتے ہوئے اتنا کہا ”ایسا کبھی سوچنا بھی نہ۔میں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا۔یہ جو میں کر کے جا رہا ہوں یہ میرا فرض تھا“۔ کچھ دِنوں بعد یکے بعد دیگرے تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے انتقال کی کارروائی مکمل کرنے کے بارے میں بلاوا آیا۔دیئے گئے دن اور وقت پر تمام بھائی متعلقہ دفتروں میں حاضر ہوئے۔بغیر کسی خجالت، عزت و احترام اور سہولت کے ساتھ اُن کا انتقال مکمل ہوا۔

پولیس تھانہ دو شہروں کو ملانے والی سڑک پر موجود دیہاتوں کے وسط میں تھا۔زیادہ تر آبادی کاشت کاروں پر مشتمل تھی جو زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے۔ تھانہ سے کچھ فاصلے پر واقع ایک گاؤں میں ایک کاشت کار کی بھینس چوری ہو گئی۔اُس نے نہ کسی کھوجی اور نہ ”واہر“ کا بندوبست کیا، بلکہ قریبی تھانہ میں چلا گیا۔تھانے دار نے اُسے شفقت و احترام سے اپنے سامنے کرسی پر بٹھایا اور کہا ”آپ نے دوبارہ تھانہ آنے کی زحمت نہیں کرنی۔ چوری آپ کی نہیں،میری ہوئی ہے۔بھینس ڈھونڈ کر دینا میرے اوپر لازم ہے“۔کسان تھانے دار کو دعائیں دیتا گھر لوٹ گیا۔چند دِنوں کی کھوج اور تلاش کے بعد پولیس نے بھینس ڈھونڈ نکالی اور دو سپاہیوں کی نگرانی میں اُس کے مالک کے ہاں پہنچا دی۔جب سپاہی رخصت ہونے لگے تو کسان نے اُن کی جیبوں میں ”چائے پانی“ کے نام پر کچھ رقم ڈالنے کی کوشش کی۔ دونوں سپاہیوں نے ہاتھ جوڑ کے رقم لینے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی دیر سے کھوج لگانے پر شرمندہ ہیں۔پولیس کے اس رویہ سے کسان کے اردگرد موجود لوگوں کے چہروں پر بشاشت کی لہر دوڑ گئی۔

سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاروں کے باوجود نظم و ترتیب کا منظر دیدنی تھا۔ نہ کوئی ہارن بجا رہا تھا نہ کوئی گاڑی سے باہر نکل کر ایک دوسرے سے الجھ رہا تھا،اور نہ ہی کوئی ٹریفک کے اشاروں کی خلاف ورزی کر رہا تھا، جس طرف کا اشارہ کھلتا، بغیر کسی ہنگامہ یا جلد بازی کے صرف اسی سمت جانے والے احباب اپنی گاڑیوں کو حرکت دیتے۔ایسا صبر اور نظم و ضبط تھا جیسے لوگ تربیت کے کٹھن مراحل سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہوں۔

میں نے خود کو اس وقت سوچوں کی رومانوی معراج سے حقیقت کی دلدل میں دھنسا پایا جب بس کنڈکٹر نے میرا کندھا جھنجھوڑتے ہوئے کہا ”اُٹھ، ہم تیرے باپ کے نوکر نہیں جو سوئے ہوئے کو جگاتے رہیں۔ تمہارا سٹاپ آ گیا ہے، چل نیچے مر“۔ کاش میں حقیقت کی دلدل میں دھنسنے سے پہلے سوچوں کی معراج سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہی مر جاتا،اور بس والوں کو میرا لاشہ نیچے اتارنا پڑتا، کیونکہ وطن ِ عزیز میں کہیں بھی تو وہ کچھ نہیں ہے جو میں نے بس کی سیٹ پر بیٹھے آدھے گھنٹے کے خواب میں دیکھ لیا تھا۔

مزید :

رائے -کالم -