’’پنجاب ریونیو اتھارٹی‘‘ٹیکس ڈے2016ء

’’پنجاب ریونیو اتھارٹی‘‘ٹیکس ڈے2016ء
’’پنجاب ریونیو اتھارٹی‘‘ٹیکس ڈے2016ء

  



حکومت پنجاب نے 10اپریل 2016ء کو ٹیکس ڈے منانے کا اہتمام کیا۔اس ضمن میں 10اپریل پنجاب ریو نیو اتھارٹی نے مختلف پروگرام تشکیل دے۔۔۔ جن کا مقصد عوام کو ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا ۔پنجاب ریونیو اتھارٹی کا قیام اگرچہ پنجاب بھر کے کاروباری اداروں اور شخصیات کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، لیکن اس حقیقت سے کسی طور پر انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب کے تمام فلاحی منصوبوں کی حقیقی تکمیل میں یہ ادارہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کرنے کی مکمل صلاحیت کا حامل ہے۔ حکومتِ پنجاب کے جملہ فلاحی و عوامی منصوبوں کو بہترین انداز میں چلانے کے لئے خطیر رقم کی ضرورت ہے اگر PRA نہایت دیانت داری، شفافیت اور قومی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر ٹیکس نادھندگان کو ٹیکسز کی شفاف ادائیگی کے لئے راغب کرلے تو یقیناًاس عمل سے صوبہ پنجاب کے عوام کی تقدیر بدلنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔ پنجاب کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں سینکڑوں نہیں،بلکہ ہزاروں کی تعداد میں کاروباری ادارے اور لاکھوں کی تعداد میں کاروباری شخصیات نہ تو فیڈرل گورنمنٹ کو کسی قسم کا ٹیکس ادا کرتے ہیں نہ ہی پنجاب حکومت کو کسی قسم کی آمدن اکٹھی ہوتی ہے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کو چاہئے کہ وہ تمام شعبۂ ہائے زندگی کے تاجروں، مالیاتی اداروں، کاروباری تنظیموں، اداروں سے مناسب شرح کے مطابق ٹیکس وصولیوں کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے حال ہی میں اس ضمن میں صرف ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم (RIMS) کا آغاز لاہور شہر سے کردیا ہے اور ضلع بھر کے شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ جب بھی کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھائیں تو کیش میمو (بل) لازماً وصول کریں اور اس بل کی فوٹو کاپی یا فوٹو بذریعہ واٹس ایپ PRA کے فراہم کردہ نمبر پر ارسال کریں۔ اگرچہ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے عوام الناس کو انعام کا لالچ دے کر ہوٹل یا ریسٹورنٹ کی فراہم کردہ پکی رسید کے ذریعے ضلع لاہور کے بڑے بڑے ریسٹورنٹ کو ٹیکس نکیل ڈالنے کی کوشش کی ہے، لیکن صرف اس ایک رسید کے جاری کیے جانے سے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو مکمل کامیابی نہیں مل سکتی، کیونکہ شہر بھر کے ریسٹورنٹ مالکان نے بھی فی الفور اپنے گاہکوں کو پہلے سے خبر دار کردیا ہے کہ اگر آپ رسید لیں گے تو اضافی سیلز ٹیکس بھی آپ ہی کو ادا کرنا ہوگا، یعنی اگر کوئی شخص فیملی کے ہمراہ مبلغ 5 ہزار کا کھانا کھاتا ہے تو رسید طلب کرنے پر ہوٹل مالکان واضح طور پر گاہکوں کو مطلع کردیتے ہیں تو 16فیصد کے حساب سے سیلز ٹیکس لگا کر 5 ہزار کی بجائے پانچ ہزار آٹھ سو روپے ادا کرنے ہوں گے۔

سیلز ٹیکس کی اضافی رقم کا سنتے ہی گاہک بل کا تقاضا چھوڑ دیتے ہیں اور بغیر بل یا رسید وصول کئے ادائیگی کردیتے ہیں۔ ایف بی آر نے کالے دھن کو سفید کرنے کی، جو سکیم وضع کی تھی وہ بُری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی ہے بالکل اُسی طرح اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کی ریسٹورنٹ انوائس مانیٹرنگ سسٹم (RIMS) بھی بُری طرح فلاپ ہونے کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف عوام الناس کو انعام کا لالچ نہ دیا جائے ،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب ریونیو اتھارٹی حکومتِ پنجاب کے لئے جائز، مناسب ٹیکس آمدن ذرائع کو بڑھانے کے لئے ’’ٹیکس کنسلٹنٹ ایڈوائزرز‘‘ کی تقرری عمل میں لائے۔ ’’ٹیکس کنسلٹنٹ ایڈوائزرز‘‘ (TCA) کو معقول ماہانہ مشاہرہ کے علاوہ ٹیکس کی آمدن جو اکٹھی ہو، کی بنیاد پر مناسب معاوضہ جاتی کمیشن بھی ادا کرے۔ یقیناًاس عمل سے پنجاب ریونیو اتھارٹی کی ٹیکس آمدنی میں بھرپور اضافہ متوقع ہے۔ TCA کی بدولت صرف ہوٹل، ریسٹورنٹ مالکان ہی نہیں، بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے کاروباری افراد، اداروں، تنظیموں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیا جاسکے گا اور اس طرح پنجاب حکومت اپنے تمام پروجیکٹس خصوصاً صحت، تعلیم، سیکیورٹی کے شعبوں میں سالانہ بجٹ میں عملاً اور حقیقی طور پر قابلِ قدر اضافہ عمل میں لانے کے اقدامات کرسکتی ہے۔

خادم اعلیٰ پنجاب، پنجاب ریونیو اتھارٹی کے حکام بالا اور جملہ افسران کو اب شبانہ روز محنت کے عمل کو اپنا شعار بناتے ہوئے صوبائی سطح پر حکومتِ پنجاب کے لئے ٹیکس آمدن میں کئی سو گنا تک اضافہ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضرورت صرف بہترین حکمتِ عملی اور دانش مندانہ ٹیکس وصولی کے اہداف کو احسن طور پر پورا کرنا ہے۔ اب یہ PRA کے افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ پنجاب بھر کے جملہ کاروباری اداروں، شخصیات، تنظیموں کو بغیر چوں چراں کئے بہتر طرزِ عمل سے ٹیکس وصولی کی طرف کس طرح راغب کرتے ہیں۔ عوام الناس کو انعام کا لالچ دینے کی بجائے حکومتِ پنجاب ’’TCA‘‘ کے ذریعے لاہور کو بیس یا چوبیس علاقائی زون میں تقسیم کرکے کم وقت میں بہترین نتائج میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے،کیونکہ بغیر ٹیکس کنسلٹنٹ ایڈوائزر کی تقرری کئے ممکن ہی نہیں کہ حکومتِ پنجاب 100فیصد کاروباری اداروں، شخصیات سے ٹیکس وصولیوں کے اہداف کی تکمیل عمل میں لاسکے۔ لہٰذا پنجاب ریونیو اتھارٹی ٹیکس وصولی اہداف کی تکمیل کے لئے فوری طور پر متحرک ہوکر پنجاب حکومت اور پنجاب کے عوام پر احسان عظیم کرے کہ ٹیکس وصولیوں سے عوامی فلاح و بہبود خصوصاً صحت، تعلیم اور سیکیورٹی کے معاملات کو بہتر بنایا جاسکے۔

مزید : کالم