دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ اٹھائیسویں قسط

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ اٹھائیسویں قسط
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ اٹھائیسویں قسط

  

نظام الدولہ

دیولالی میں اس کو ’’ڈاگ مین‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس کا چہرہ عجیب طرح سے خوفناک تھا ۔ سکول کے دوست اور میں اس کو دیکھ کر ڈر جاتے اور خوف سے دوڑ لگا دیتے کیونکہ ہم اس کو انسان نہیں عفریت سمجھتے تھے۔ اگرہم اس کو کچھ فاصلہ پر بھی دیکھ لیتے تو ڈر جاتے۔ خاص طور پر جب ہم دوپہر کے وقت سکول سے واپس آرہے ہوتے تو اس پر نظر پڑتے ہی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے۔ اس کی وجہ بڑی معقول تھی۔ وہ ہاتھ میں ریوالر لئے کتوں کا شکار کر رہا ہوتا ۔ کوئی کتا نظر آتا تو اسے گولی مار دیتا اور جب کتا تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو جاتا تو اس کی دم چاقو سے کاٹ کر بیگ میں ڈال لیتا۔ کیا ایسا بے رحم انسان خوف کی علامت نہیں ہوتا ہے۔جو ایک ہی گولی سے کتے کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

ستائیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں چونکہ اس وقت کم سن تھا اور مجھے ان حرکات کی وجہ معلوم نہیں تھی اس لئے ایک بار چچا عمر سے پوچھا توانہوں نے بتایا کہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں آوارہ کتوں کو گھومنے کی اجازت نہیں لہٰذا ڈگ مین ان کتوں کو تلف کرتا ہے ،یہ اس کی ڈیوٹی ہے۔ کتے کو مارنے کے بعد اس کی دم اس وجہ سے کاٹ لیتا ہے تاکہ وہ اس بات کا حساب دے سکے کہ اس نے کتے کو مارنے کے لیے کتنی گولیاں چلائی تھیں۔ فی گولی کے حساب سے وہ ایک کتا مارتا اور اس سے زیادہ کی اس کو اجازت نہیں تھی۔ اسی لیے تو ایک گولی مارنے کے بعد کتے کو تڑپتا چھوڑ دیتا تھا۔ جب میں بڑا ہوا اور بمبئی چلا گیا تویہ تلخ یادداشت بھی ذہن سے نکل گئی۔

باربوائے نے میرا کارپول سے تعارف کرایا تو ایک بار پھر میری ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ رینگ گئی۔ مجھے وہ وقت یاد آگیا جب وہ سڑکوں پر جیپ دوڑاتا ہوا نظر آتا تو اسے دیکھ کر چھپ جایاکرتا اور خوف کی لہر بدن میں دور جاتی تھی ۔آج پھر مجھے کچھ ایسے ہی احساس سے گزرنا پڑرہا تھا۔تاہم اس نے کسی تاثر کے بغیر سلام کیا اور پھر چلا گیا۔

دراصل کارپول دوستیاں کرنے سے گریز کرتا تھا ۔ا یسا انسان دوست نہیں بنتا۔ لیکن بہت جلد وہ میرے ساتھ فرینک ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے جب دیکھا افسران مجھ سے خوش اور بے تکلف ہیں تو اس نے بھی مجھ سے تعلق بنانے کے لیے چہرے پر جبراً مسکراہٹ لانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ وہ پونہ میں بھی کتے مارنے پر مامور کیا گیاتھا۔ اس کی ایک خوبصورت جوان بیٹی تھی ۔وہ باپ کے ساتھ کلب آتی۔ اس کا ایک نوجوان افسر کے ساتھ چکر چل گیا تھا۔ دونوں رات گئے تک کلب کے لان میں ایک جانب بیٹھے رہتے۔ ان دونوں میں کیا چل رہا تھا میں بخوبی جان گیا تھا لیکن میں ان کے معاملات سے دور ہی رہا۔

میرا کمرہ کلب کے اندر ہی تھا۔ اس کی کھڑکی سے مجھے کلب کے ہال کے مناظر دکھائی دیتے تھے۔ رات کو جب یہاں موسیقی روان ہوتی تو افسران حسین و جمیل لڑکیوں کے ساتھ رقص کرتے، جھولتے۔ وہ ریشم کی ٹائیاں اور عمدہ سوٹ پہنتے۔ حسرت سے سوچتا کہ کیا کبھی مجھے بھی ایسی ٹائی اور سوٹ نصیب ہوگا۔ میں خیالوں میں خود کو بنا سنورا دیکھتا لیکن کیا معلوم تھا تقدیر ایک دن مجھے ان سے بھی زیادہ عمدہ اور مہنگے سوٹ عطا فرمائے گی۔ میں آج سوچتاہوں کہ میں عمدہ کپڑے پہننے کا عادی اور شوقین اس وجہ سے ہوں کیونکہ میں نے آرمی کلب میں دیدہ زیب کپڑے پہننے والے افسران کی معیت میں کافی وقت گزارہ تھا اور اب یہ میری عادت بن گئی تھی۔

اس دن سینڈوچ سٹال بند کرکے میں اپنے کمرے میں کچھ دیر سونے کے لیے چل نکلا ۔ تھکاوٹ کی وجہ سے سست روی سے چل رہا تھا۔ میں نے دور سے دیکھا میرے کمرے کا دروازہ نصف کھلا ہوا ہے۔ دو دن پہلے ہی ادھر ڈاکہ پڑا تھا جس سے کافی کھلبلی مچ گئی تھی اور پولیس بھی تفتیش کرنے آئی تھی۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ ڈاکو میرے کمرے کی صفائی کرکے میری جمع پونجی سمیٹ کر فرار نہ ہوگئے ہوں لہٰذا میں بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ یہ کیا؟ کمرے میں پہنچتے ہی مجھے حیرت ہوئی اور شرمندگی سے رک جانا پڑا۔ کارپول کی بیٹی مادر زاد میرے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔

میں دروازے پر ہی ٹھٹک گیا۔ اس نے مجھے دعوت گناہ دی تومیرا چہرہ غیرت سے سرخ ہوگیا اور میں بھاگتا ہوا منیجر کے پاس پہنچا اور اسے صورتحال بتائی۔ وہ میرے ساتھ کمرے میں آیا لیکن اتنی دیر میں وہ لڑکی غائب ہو چکی تھی۔ منیجر نے تعجب سے بھنویں چڑھا کرمیری جانب دیکھا تومیں نے کہا کہ وہ ابھی دور نہیں گئی ہوگی۔ لازماً تالاب پر ہوگی۔ منیجر میرے بارے میں اچھی رائے رکھتا تھا اور اس کو میرے کردار پر بھروسہ تھا۔ لہٰذا میرے ساتھ وہ تالاب پر گیا تو لڑکی اسپرنگ بورڈ پر یوں کھڑی تھی کہ اس کا سر تالاب کی جانب جھکا ہوا ،بال بکھرے ہوئے برائے نام کپڑے ہوا سے لہرا رہے تھے۔ اگر وہ ذرا بھی توازن کھو دیتی تو تالاب میں گر سکتی تھی اور اس کی کھوپڑی پچک جاتی۔ منیجر کے ساتھ مجھے بھی اس کا اندازہ تھا کہ اس کے بعد کیا ہو سکتا تھا۔ ہم کلب کو خبروں کا موضوع نہیں بنا سکتے تھے۔ میں نے منیجر سے استدعا کی کہ اسے رام کرکے اسپرنگ بورڈ سے اتار دیں ورنہ بات بگڑ بھی سکتی ہے۔

مجھ میں غیرت تھی اور میں ایسے پٹھان گھرانے میں پلا بڑھا تھا جہاں بہنوں، پھوپھیوں اور کزنوں کو چادروں سے اپنے سر اور بدن کو ڈھانپے ہوا دیکھا جاتاتھا اور عورت کے لیے یہی مناسب ہوتا تھا۔ لہٰذا ایک برہنہ لڑکی کو دعوت گناہ دیتے ہوئے میرا نفس للچایا نہیں بلکہ میں خوف کا شکار ہوگیا اور یہ میری شرافت کی نشانی ہے۔

منیجر زیرک انسان تھا۔ اس نے حاضر دماغی سے کام لیا اور عملہ کی دو خواتین کو اسے ہینڈل کرنے کے لیے بھیجا ۔ میں نے انہیں ساتھ ایک کمبل لے جانے کی ہدایت کی تاکہ اس کو کمبل میں لپیٹ کر اس کی برہنگی کو چھپایا جا سکے۔ اس نے کوئی مزاحمت نہ کی اور وہ اپنے ساتھ کہاں لے گئیں اور بعد میں اس کے ساتھ کیا ہوا یہ میں نہیں جانتا نہ میں نے منیجر سے پوچھا کیونکہ میں اس تلخ باب کو بند کرنا ہی مناسب سمجھتا تھا۔

ایک روز چند افسروں نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ بتاؤ تم لوگ تاج برطانیہ سے آزادی کیوں حاصل کرنا چاہتے ہو؟ تمہاری اپنی کیا رائے ہے؟۔ پہلے تو میں خاموش رہا لیکن ان کے اصرار پر میں نے انہیں وہ جواب دیا جو میں اپنی دانست میں درست سمجھتا تھا۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ تم اپنا نقطہ نظر کل سارے افسروں کے سامنے بھی تقریر کی صورت بیان کرو۔ میں نے رات کے وقت آئین برطانیہ کی روشنی میں تقریر یاد کی۔

اگلے روز میں نے تقریر کی اور کہا کہ آئین برطانیہ کی رو سے جو سول رولز ہیں ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے لوگوں کے حقوق کی پائمالی ہونے کی وجہ سے ان کا آزادی مانگنا جائز ہے۔ افسروں نے میری تقریر کو بے حد پسند کیا۔ میں پھولے نہیں سما رہا تھا۔ لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔ اگلے روز پولیس آئی اور مجھے پکڑ کر لے گئی ۔ ہتھکڑیاں پہنا کر جیل بھیج دیا گیا میرا جرم۔۔۔تقریر میں آزادی ہند کو جائز قرار دینا اور تاج برطانیہ کی پالیسیوں کی حمایت نہ کرنا تھا۔ مجھے نظریاتی اختلاف پر اکسایا گیا اور پھر گرفتار کر لیا گیا۔ مجھے میراداد جیل کی جس کوٹھڑی میں قید کیا گیا اس میں بہت سے اور مہذب لوگ قید تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ نوجوان بھی گاندھی والا ہے۔ دوسرے قیدی ستیاگر تھے۔ ستیاگر گاندھی کے پیروکاروں کو کہا جاتا تھا۔ میں تو ان میں سے نہیں تھا پھر مجھے کیوں گاندھی والا قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ اس کوٹھڑی کے قیدیوں کو یہی لقب دیا جاتا تھا۔ آزاد ہند کے نظریات رکھنے والوں کو وہ گاندھی جی کا پیرو کار تصور کرتے تھے۔

قیدیوں سے بات چیت اور تعارف ہوا تو علم ہوا ان میں سے ایک سردار بالا بھائی بھائی پٹیل ہیں جو آزادی ہند کی تحریک کی نامور شخصیت تھے۔ وہ سب بھوک ہڑتال پر تھے۔ پہلے تو مجھے علم نہیں ہوا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں لیکن پھر میں نے بھی ان کا ساتھ دیا اور بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ میرے لیے جب گندے برتنوں میں کھانا لایا گیا تو میں نے وصول کرنے سے انکار کردیا۔

رات لمبی تھی اور بھوک کی وجہ سے میں سو نہ سکا۔ صبح تک جاگتا رہا۔ صبح کچھ دیر مجھے کوٹھڑی سے باہر بوٹوں کی دھمک سنائی دی اور جیلر ایک میجر کے ساتھ اندر آیا ’’سر نوجوان گاندھی والا ہے۔ ادھر ہے‘‘

میں اس میجر کے ساتھ بیڈ منٹن کھیلتا تھا۔ میرے ساتھ اس کا سلوک دوستانہ تھا۔ اس نے مجھے کوٹھڑی سے نکالا اور کلب میں واپس لے گیا۔ (جاری ہے)

انتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

میں ہوں دلیپ کمار -