ون ویلنگ : ایک خطرناک کھیل!

ون ویلنگ : ایک خطرناک کھیل!
 ون ویلنگ : ایک خطرناک کھیل!

  

صوبائی دار الحکومت میں گذشتہ دنوں بیشتر تھانوں کی حدود میں منچلے اہم شاہرا ہوں ، سٹرکوں پر ون ویلنگ کرتے اور ریس لگاتے رہے جبکہ پولیس ان منچلوں کو خطرناک کھیل سے روکنے میں بری طرح نا کام رہی ، ون ویلنگ کرنے ، ریس لگانے کی وجہ سے7افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ اس دوران پولیس نے ون ویلنگ کرنے والے درجنوں موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق گرین ٹاﺅن پولیس اور ریسیکو ون ون ٹوٹو کے مطابق باگڑیاں پنڈ کا عدیل نثار گرین ٹاﺅن کے علاقے میں ون ویلنگ کر رہا تھا جو حادثے کے نتیجے میں موقع پر ہلاک ہو گیا ۔ عدیل نثار کی لاش جب گھر پہنچتی تو اہل خانہ دھاڑیں مار کر روتے رہے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا انتہائی شریف اور ون ویلنگ سے ناواقف تھا ۔ ہلاکت کا واقعہ معمول کا ٹریفک حادثہ ہے جبکہ پولیس اپنی جان چھڑانے کے لیے عدیل پر جھوٹا الزام عائد کر رہی ہے۔ دوسری جانب عید کے دنوں میں فیصل ٹاﺅن سمیت ماڈل ٹاﺅن ، جوہر ٹاﺅن ، گارڈن ٹاﺅن ، اقبال ٹاﺅن ، والٹن ، جیل روڈ ،نصیر آباد ، غالب مارکیٹ،ٹاﺅن شپ ، گلبرگ ، ڈیفنس ، کینٹ ، رنگ روڈ ، ائیر پورٹ ، کینال روڈ ، بند روڈ، وحدت روڈ ، فیروز پور روڈ ، غوث الا عظیم روڈ ، مال روڈ ، جی ٹی روڈ ، اندرون لاہور سمیت شہر کی دیگر سٹرکوں پر منچلوں کا قبضہ رہا جو سر عام ون ویلنگ اور موٹر سائیکل ریسنگ کرتے رہے۔ دوسری طرف شہر میں پولیس نے کریک ڈاﺅن کرتے ہوئے درجنوں ویلرز کو گرفتار کر لیا ۔ ڈی آئی جی آپریشنز رائے طاہر کا کہنا ہے کہ قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے کیونکہ یہی ون ویلزز ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دوبارہ یہی خونی کھیل کھیلتے نظر آئیں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم ٹاﺅن پویس نے ناکے پر خونی کھیل کھیلنے والے بتیس افراد کو گرفتار کیا اور موٹر سائیکل تھانے بند کر دی گئیں ۔ دیگر تھانوں میں بھی ون ویلرز کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا گیا ۔

لاہور شہر میں ون ویلنگ ایک خطرناک کھیل کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے اکثر ویک اینڈ پر کینال بنک روڈ ، گلبرگ مین بلیوارڈ ، مال روڈ اور جیل روڈ پر ہفتہ اور اتوار کی درمیان رات موٹر سائیکل سوار ون ویلنگ کرتے اور ریس لگانے میں مشغول نظر آتے ہیں ۔ جن سے ون ویلنگ کرنے والے اپنی جان کو تو خطرہ میں ڈالتے ہیں جبکہ دوسرے موٹر سائیکل سوار بھی ان کی زد میں آکر حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پولیس بھی ان موٹر سائیکل سواروں کو ون ویلنگ سے روکنے کی تیاریاں کرتی ہے اور ہر ہفتے درجنوں موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ لیکن دوسرے ہی دن یہ موٹر سائیکل سوار ضمانت پر رہا ہو کر باہر آجاتے ہیں۔

یہ ایک معاشرتی المیہ بن چکا ہے کہ ہمارے بچے صحیح کریں یا غلط ، ہم ان کا ہر سطح پر دفاع کرتے ہیں اور غلط حرکتیں کرنے پر بھی ان کی سرزنش کرنے کی بجائے انہیں ہر قسم کا تعاون فراہم کرتے ہیں ۔ جس سے یہ بچے بڑھ چڑھ کر ایسے کام کرتے ہیں جو ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ون ویلنگ کرتے جاں بحق ہونے والے بچے کے والدین اور اہل خانہ پر جو گزری ہوگی اس کا صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ایسے خطرناک کھیلوں سے روکنا ہوگا ۔ اس کے باوجود ون ویلنگ تیز رفتار موٹر سائیکل سواروں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہو سکی ۔ جس کی وجہ سے کئی شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ دوسری طرف ڈی آئی جی آپریشنز کا یہ کہنا بھی کسی حد تک درست ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ون ویلنگ جیسے خطرناک کھیلوں کو روکنے کے لیے قوانین سخت بنائے جائیں، تاکہ نوجوانوں کو ایسے خطرناک کھیلوں سے روکا جاسکے۔   ٭

مزید :

کالم -