عام آدمی پارٹی کا تاریخی اپ سیٹ

عام آدمی پارٹی کا تاریخی اپ سیٹ
عام آدمی پارٹی کا تاریخی اپ سیٹ

  

سیاست میں اپ سیٹ ایک معمولی بات ہے۔تقریباً ہر انتخابات میں کہیں نہ کہیں نتائج توقعات کے برعکس رہتے ہیں، مگر اس بار دہلی کے ریاستی انتخابات کے نتائج نے سب کو حیران کر دیاہے۔ ان انتخابات میں ایک طرف بھارت کی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی نے جھاڑو پھیر کامیابی حاصل کی ، جب کہ دوسری طرف کانگرس اور بی جے پی جیسی ملک گیر سیاسی جماعتوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہے، جس میں چندماہ قبل لوک سبھا میں بھاری اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کو 70میں سے صرف 3نشیں حاصل ہو سکیں اور عام آدمی پارٹی جیسی نئی جماعت نے باقی تمام نشستوں پر قبضہ جما لیا۔ دہلی میں بی جے پی کی کرن بیدی کی ناکامی اور ’عآپ‘ کے اروند کیجروال کی کھڑکی توڑ کامیابی نے بھارت کا سیاسی ماحول یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

عام آدمی پارٹی بھارت کی ایک نئی سیاسی جماعت ہے۔اس کی بنیاد نومبر 2012ء میں رکھی گئی ۔کرپشن کے خلاف مہم اور اپنے عوامی ایجنڈے کے باعث 2013ء میں اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔اس نے 2013ء میں پہلی بارریاستی انتخابات میں حصہ لیا اورحیرت انگیز طور پر 70میں سے 28نشستیں جیت لیں۔ اروند کیجریوال کا منشور متاثر کن تھا۔ وہ دنوں میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے اور اتحادیوں کی مدد سے دہلی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے گھروں کو مفت پانی کی فراہمی اور بجلی پر سبسڈی جیسے پرکشش اعلانات کیے۔ ان اقدامات سے وہ ملکی و غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ کیجریوال نے کرپشن کے خلاف جنگ کا نعرہ لگایا تھا۔ انہوں نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر کرپشن کے خلاف ’’لوک پال‘‘ بل منظور کرائیں گے۔ انہوں نے یہ بل ایوان میں پیش کر دیا لیکن بی جے پی اور کانگرس کی مخالفت کے باعث یہ منظور نہ ہو سکا ۔ اروند کیجریوال جذباتی ہو گئے اور صرف 49دن بعد وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

اب حالیہ انتخابات میں کیجریوال ایک مرتبہ پھر دہلی کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ یہ دہلی میں ’’مودی ویو‘‘کے خاتمے کا آغاز ہے۔ بی جے پی کا وہ سحر جو عام انتخابات میں دیکھا گیا تھا، اب ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دہلی کی سیاست بھارت میں اہمیت کی حامل ہے۔ ملکی سیاست پراس کے اثرات خاص انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک دہلی میں بی جے پی ایک منظم اور مضبوط سیاسی قوت تھی۔صرف آٹھ ماہ قبل عام انتخابات میں اس نے دہلی میں کلین سویپ کرتے ہوئے لوک سبھا کی 6میں سے 6 نشستیں جیت لی تھیں۔ ریاستی انتخابات میں بھی بی جے پی نے 31نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جو اسمبلی میں کسی بھی جماعت کی حاصل کردہ نشستوں سے زیادہ تھی۔ لیکن اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔ دہلی پر 15سال تک حکومت کرنے والی انڈین نیشنل کانگرس ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی اور نہ ہی کوئی مقامی سیاسی جماعت اس مقصد میں کامیاب ہوسکی ہے۔ یہ د ہلی کے عوام کا بھارت کی مین سٹریم سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ بھارت میں روایتی سیاست دم توڑ رہی ہے۔

کیجروال کی کامیابی کے کئی بنیادی اسباب ہیں۔ بی جے پی کی مقبولیت میں حیرت انگیز کمی کی سب سے بڑی وجہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی محاذ پر ناکامی ہے۔ اپنے ایک سالہ دور اقتدار میں نریندر مودی ان عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں جو عوام نے ان سے وابستہ کی تھیں۔ ایک طرف بھارت کا کارپوریٹ طبقہ تحفظات کا شکار نظر آرہا ہے اور دوسری طرف معاشی شعبے کی کارکردگی کو بھی غیر معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس دوران ان افراد کو بھی سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن کا خیال تھا کہ شاید مودی سرکار کے آنے سے بھارت کا سیاسی ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل ہوجائے گا ۔ اس کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا پر نریندر مودی کی متعدد پالیسیزہدف تنقیدبنی ہوئی ہیں۔خصوصاً پاکستان سے تعلقات، خارجہ پالیسی، براک اوبامہ کا حالیہ دورہ، مہنگے ملبوسات کا استعمال اور ہندو توا کی طرف جھکاؤ جیسے معاملات کی وجہ سے مودی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

دوسری طرف اروند کیجروال کی انتخابی مہم کافی جاندار تھی۔ کیجروال نے عوام کے بنیادی مسائل پر زیادہ فوکس رکھا۔ انہوں نے پانی، بجلی، مہنگائی، بدعنوانی، رشوت، خواتین کو تحفظ اور گاندھی کے نظریہ سواراج جیسے ایشوز کو زیادہ نمایاں کیا۔ خود نریندر مودی کی انتخابی مہم کا سیاسی فائدہ کیجروال کو ہوا۔ نریندر مودی کیجروال کی شخصیت پر کیچڑ اچھالتے رہے، جب کہ کیجروال نے چپ سادھے رکھی۔ اس سے کیجروال کو اخلاقی برتری حاصل ہو گئی اور ان کی شخصیت مزید ابھر کر سامنے آئی۔ اروند کیجروال کی شاندار کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی انہوں نے اپنی ماضی کی سیاسی غلطیوں کا اعتراف کیا اور اس پر کھلے عام معافی مانگتے رہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کا استعفیٰ دینے کا فیصلہ جذباتی تھا اور یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب وہ سیاست کے اسرارورموز سے چنداں واقف نہیں تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آیندہ وہ ایسا ہرگزنہیں کریں گے۔ اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور تعمیری سیاست کے آغاز کے وعدے سے انہیں عوامی اعتماد حاصل ہوگیا اور وہ انتخابات میں ریکارڈ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

مزید :

کالم -