مٹی دیاں مورتاں 

مٹی دیاں مورتاں 
 مٹی دیاں مورتاں 

  

اب بتائیں میں ذلفی کا کیا کروں،اتنا احمق اتنا احمق جیسے ہماری عوام،اس کے خواب دیکھیں اور اس کی اوقات دیکھیں۔ خواب یہ کہ اسے انصاف ملے اور اوقات یہ کہ اس کے پاس دو ہزار روپے نہیں۔ایسے مزا نہیں آئے گا پہلے اس کی حماقت در حماقت کا پس منظر بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ سن لیں،پھر ہم بطور قوم ملکر اس پر پھٹکار ڈالیں گے۔یہ جو اپنے ذلفی میاں ہیں انہوں نے اپنی بیگم کا زیور بیچا ایک آدھ کمیٹی ڈالی اور کچھ رقم ایڈوانس بنا کر لٹن روڈ لاہور کے رکشہ ایجنٹ سے رکشہ قسطوں پر لے لیا۔بس جتنی رفتار سے رکشہ چلتا رہا اسی رفتار سے قسطیں اترتی رہیں۔ یہاں پر کہانی میں ٹرننگ پوائنٹ آیا۔ اب آپ اس احمقانہ مووی کو زیادہ انجوائے کریں گے۔میرے ساتھ رہیں یعنی وہ جو اینکر کہتے ہیں ”story with us“ کیونکہ فلم میں ایکشن ہے،سسپنس ہے،ایڈونچر اور ڈرامہ ہے۔یعنی چوپڑیاں نالے دو دو۔اچھا تو میرے پیارو،راج دلاروں،جمہوریت کے ٹم ٹم کرتے تارو،ایک دن تاروں بھری رات میں اپنے ذلفی صاحب کا رکشہ چوری ہو گیا۔ذلفی صاحب کی بدقسمتی اور میری بھی،ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔اس نے ٹک کر کے مجھے لوکل کال لگا دی کیونکہ اس کی نظر میں ہمارا خاصہ ٹہور ٹپہ ہے۔

وہ سمجھا ہم ابھی اپنی صحافتی ذنبیل میں ہاتھ ڈالیں گے اور رکشہ اس کے ہاتھ میں تھما دیں گے۔میں نے کہا آپ تھانے جاؤ اور درخواست دو۔کہنے لگا ون فائیو پر کال کی ہے وہ آرہے ہیں بات آگے بڑھاتے ہیں تھانے والوں نے ایک کچی درخواست جمہوریت اور تہتر کے آئین کے تناظر مٰن ”کچیچیاں وٹتے“ ہوئے قبول کر لی۔اگلے دو دن اس کہانی میں مری جیسی برفباری کی صورت حال ہے جس میں ریسکیوٹیمیں پہنچیں نہ ارد گرد مری کے ہوٹل نما انسانوں کو رحم آیا۔ذلفی اور اس کے دو بچے بھوک سے بلبلاتے رہے۔خیر دو دن بعد مجھے ذلفی کا فون آیا۔انکل جی رکشہ مل گیا ہے؟میں نے پنجاب حکومت کی طرح رنگ بازیاں کرتے ہوئے کہا ہاں وہ میں نے تھانے والوں کا جینا حرام جو کر دیا تھا۔وہ بولا انکل رکشہ اس وقت داتا دربار چوکی کھڑا ہے۔ وہاں ایک اے ایس آئی ہیں رانا صاحب وہ کہتے ہیں دو ہزار روپے مٹھائی کے دو اور رکشہ لے جاؤ۔میں نے سوچا ”اس کا مطلب ذلفی صاحب مجھے دو ہزار روپے کی فٹیک ڈالنا چاہ رہے ہیں“۔

میں نے بات سن کر اتنی خاموشی اختیار کی جتنی مری میں مرتے لوگوں کی فریاد پر اداروں نے اختیار کی تھی۔ذلفی نے اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا ایسے لگا جیسے اس نے کہا ہو ”انکل جی فیر میں نا ای سمجھاں“ہمیں نیند آرہی تھی لیکن ہمارا ضمیر رانا شمیم صاحب کی طرح تین سال بعد جاگنے کے بجائے اسی لمحے ہمیں چونڈیاں وڈنے لگا۔ہم نے اللہ دین کے چراغ  کرائم رپورٹر یونس باٹھ کو فون کیا۔شکر ہے ہمارے رپورٹر یونس باٹھ ”رپورٹر کی ڈائری“ کے علاوہ بھی زندہ سلامت مل جاتے ہیں۔کہنے لگے ڈی ایس پی لوئر مال حافظ عمران محمود ہمارے دوست ہیں میں ان سے کہتا ہوں۔ہم خوش ہوئے کہ چلو سیاپہ مکا۔اگلے دن ذلفی صاحب کا فون آیا۔انکل وہ داتا دربار چوکی والے تھانیدار رانا صاحب نے میری بڑی بستی کی ہے اور کہہ رہے ہیں تونے صحافیوں کو شکایت لگائی ہے۔  ”ہن توں رکشہ لے کے وکھامیں تیریاں لیکاں کڈھاں داں گا“۔قانون کے عظیم مجاہد اے ایس آئی رانا صاحب نے ڈی ایس پی صاحب کو بتایا کہ سر رکشہ تو اب عدالت کے ذریعہ ہی ملے گا۔لو جی ہن نواں پنگاپڑ گیا۔ذلفی صاحب نے عدالت میں ثابت کرنا تھا کہ رکشہ ان کا ہے۔

انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اپنے رکشہ ڈیلر لال خان زادہ صاحب سے کاغذات تو لئے ہی نہیں۔لگتا ہے آپ اس طویل بلیک اینڈ وائٹ کہانی سے بور ہو گئے۔چلیں اسے شارٹ کٹ مارتے ہیں جیسے جمہوریت کے مامے چاچے سیاستدان  رات کے اندھیرے میں پنڈی کے دروازوں پر شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں۔ہم نے جناب لال خان زادہ صاحب کو فون کیا وہ بولے ابھی نماز سے فارغ ہوا ہوں مجھے موت اوراللہ یادہیں آپ بچے کو بھیج دیں۔اپنے ذلفی صاحب وہاں پہنچے تو لال خان زادہ صاحب نے تسبیح پھیرتے ہوئے کہا بچے 12  ہزار روپے لاؤ ورنہ رکشہ کا ٹرانسفر لیٹر نہیں ملے گا۔اب  لا ل صاحب کے 12ہزار،رانا صاحب کے دو ہزاراور وکیل صاحب کے پانچ ہزار کا بل تیار ہو گیا۔ ذلفی صاحب کو بہت جلدی تھی ”کاہلیاں آگے ٹوئے“۔انہوں نے سود پر پندرہ ہزار روپے اٹھائے کاغذات لئے،تھانہ پہنچے تو پتہ چلا تھانے سے رکشہ کی بیٹری،گیس سلنڈر اور اوزاروں کی کٹ غائب ہو چکی ہے۔انہوں نے فریاد کی تو متعلقہ افسر نے قانون کی چھڑی کو غلط انداز میں اشار ہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹر ٹر نا کر تے نیواں نیواں  ہو کے نکل جا“ کہیں تجھے ہی اندر نہ کر دوں۔پھر انہوں نے  ”رانا صاحب“ کو دوہزار نذر اللہ پیش کی، تو انہوں نے عدالت جانے سے بچاتے ہوئے، ڈب کھڑبہ رکشہ حوالے کردیا۔

وزیر اعظم پورٹل،وزیر اعلیٰ شکایت سیل پر غیر متزلزل یقین رکھنے والے پاکستانیو،ذلفی نے رانا صاحب کو مٹھائی دے دی ہے۔انہیں رکشہ مل گیا ہے۔اللہ بہتر کرے گا ایک آدھ صدی بعد رکشہ کا سامان بھی وہ خرید لیں گے اگر زندہ رہے تو۔اس جمہوریت میں تحریک انصاف کے نعروں کی کامیابی،ببر شیر بھائیوں اور ان کی جمہوریت کی شہزادی،غریبوں کے بے تاج بادشاہ ون اینڈ اونلی آصف علی زرداری،مذہبی راہنماؤں کی نفیس پوشاکوں اور چمچماتی گاڑیوں اور ادارے کے مقدس سربراہوں،ذمہ داروں کی بقاء اسی میں ہے کہ ایسے کلبلاتے کیڑے دو ہزار کے لئے اسی طر ح ہر طاقتور کے دروازے پر ذلیل ہوتے رہیں،ٹھڈے کھاتے رہیں سب سے آخر میں پنجاب پولیس کو بھی ہمارا سلام۔

دلاں دیاں میلیاں نیں چن جہیاں صورتاں 

ایہناں کولوں چنگیاں نے مٹی دیاں مورتاں 

مزید :

رائے -کالم -