کوئٹہ کے گاڈ فادر کے ہاتھ میں جھاڑو؟

کوئٹہ کے گاڈ فادر کے ہاتھ میں جھاڑو؟
 کوئٹہ کے گاڈ فادر کے ہاتھ میں جھاڑو؟

  

بلدیاتی نظام کے حوالے سے تجزیہ کیا جائے تو سب سے حیرت ناک یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ جب ایک جمہوری حکومت اقتدار میں آتی ہے تو وہ بلدیاتی نظام سے دامن بچاتی ہے اس لئے کہ اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے پاکستان کی بیشتر پارٹیوں میں مفاد پرست طبقات کی شخصیات انتخاب جیت کر آتی ہیں ان میں اکثر جاگیردارِ فیوڈل لارڈزِ، وڈیرے، سردار، چوہدری، سرمایہ دار ایوان میں پہنچتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ضرورت مند ان کے ڈیروں، بنگلوں، کوٹھیوں، اور قلعہ کے باہر کھڑے رہیں اور ذلیل ہوتے رہیں اور گھنٹوں یہ ضرورت مند کھڑے رہتے ہیں اور یہ کئی گھنٹے کے بعد اپنا رخ روشن دکھاتے ہیں یوں یہ لوگ خوش ہوتے ہیں اپنے نفس کی تسکین حاصل کرتے ہیں اگر بلدیاتی ادارے قائم ہوں توکونسلر سے عام لوگ گلی محلوں اور گاؤں میں ان سے باآسانی ملاقات کرسکتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے مسائل حل ہوجاتے ہیں کونسلرز عام لوگوں میں سے ہوتے ہیں اس لئے ان کے نہ محلات ہوتے ہیں نہ کوٹھیاں ہوتی ہیں بلکہ عوام کے درمیان ہی کے لوگ ہوتے ہیں نہ ان کے اردگرد کلاشنکوف بردار ہوتے ہیں یہ عام لوگ ہوتے ہیں اورعام انسان ہوتے ہیں یہ کوئی اعلی مخلوق نہیں ہوتے گلی کے نکڑ، ہوٹلوں اور چوپالوں میں بیٹھے ہوتے ہیں اس لئے عام سائل بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے نمائندوں سے مل سکتا ہے نہ انہیں کوئی ذلیل کرتا ہے نہ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔

دس سال مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی نے حکومت کی لیکن بلدیاتی نظام کو رائج نہیں ہونے دیا۔ ایوب خان، ضیاء الحقِ، جنرل مشرف کے دور میں بلدیاتی انتخاب پر عمل ہوتا رہا۔ لیکن جمہوری دور میں عوام کو ترسا دیاگیا اب بڑی مشکل سے بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے حکم دیا اور بلوچستان نے پہل کی اور انتخابات کرائے لیکن سب سے افسوسناک پہلو تویہ ہے کہ ڈاکٹر مالک کا رویہ بھی ایک جاگیردار کاسا نظر آیا انتخابات کرائے اور انہیں حلف اٹھانے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا اب اس کے بعد دوسرا مرحلہ اختیارات کا ہے تو وہ مفقود ہیں اور مالی اختیارات سے محروم بلدیاتی ممبران حیران وپریشان کھڑے ہیں انہیں مالی اور جوڈیشل اختیارات حاصل ہونے چاہیں عبدالمالک تو خود اپنے کو پرولتاریہ قوم پرست اور انسان دوست ہونے کے دعویدار ہیں ترقی پسند بھی ہیں سیاسی ورکر کی حیثیت سے چلتے ہوئے اعلی منصب پر پہنچے ہیں لیکن اقتدار نے اس راستے پر ڈال دیا ہے جو ا یک جاگیردار وڈیرے اور لینڈ لارڈز کا ہوتا ہے اور حیرت کی بات ہے کہ پارٹی خاموش ہے اور اب وہ اکیلی نہیں ہے بلکہ پشتونخوا سیاسی سفر میں شامل ہے۔

صوبائی دارالحکومت کا میئر اور ڈپٹی میئر سراپا احتجاج بن گئے ان کے صبر کا پیمانہ سیاست چھلک پڑا ہے اور انہوں نے پورے صوبے سے منتخب چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کوئٹہ دعوت دے کر ایک احتجاجی کنونشن کرڈالا اور اعلان کردیا کہ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت اور چیف سیکرٹری ہے۔ اور یہ تمام ادارے فنڈ سے محروم ہیں ان میں پشتونخوامیپ، مسلم لیگ ن نیشنل پارٹی کے منتخب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین شامل ہیں ان کا مطالبہ تھا کہ آئین کے تحت مالی اور انتظامی اختیارات دیئے جائیں اور اعلان کیا کہ حکومت اپنی پالیسی واضح کرے اور آنے والے بجٹ میں رقم مختص نہیں کی ہے اور ہمارے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ حکومت اور چیف سیکرٹری ہے اور ہمیں یہ مجبور نہ کریں ورنہ ہم عدالت کا دروازہ کھٹکٹائیں گے اور زیادہ مجبور کیا تو ہم اجتماعی استعفے دے دیں گے اور میٹروپولیٹن کے چیئرمین ڈاکٹر کلیم اللہ اور ڈپٹی چیئرمین محمدیونس بلوچ اور دیگر عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ اگر ہمارے 14 نکات پر غور نہیں کیاگیا اور اس پرعملدرآمد نہیں ہوا تو ہم مجبوراً اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کا راستہ اختیار کریں گے ہمارے اختیارات پروٹوکول اور مراعات کا تعین کیا جائے لوکل گرانٹ کمیشن میں بلدیاتی ممبران کو شامل کیاجائے گرانٹ کی تقسیم کا واضح طریقہ کار طے کیا جائے 20 فیصد کٹوتی فوری ریلیز کیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کے بجٹ کو منظور کیا اور فنڈز کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ بلوچستان کے تمام چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو بالترتیب میئر اور ڈپٹی میئر کا درجہ دیا جائے 2014-13ء میں ہمارے لئے بجٹ میں سات ارب روپے مختص کئے گئے جس میں سے چار ارب روپے صرف تنخواہوں کی مد میں صرف ہوجاتے ہیں اب ہمارے پاس جون میں تنخواہوں کے لئے رقم موجود نہیں ہے ہم کوئٹہ کے گاڈ فادر ہیں لیکن ہمارے ہاتھ میں جھاڑو تھمادی ہے۔

قارئین محترم:۔ ہم نے فادر کے ساتھ گاڈ اس لئے کہ بلوچستان کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت کا میئر صرف فادر نہیں ہوتا ہے بلکہ گاڈ فادر ہوتا ہے اس لئے ہم نے سرخی میں لفظ گاڈ لگادیا یوں تو اسے بابائے شہر بھی کہا جاتا ہے ایسا بابائے شہر جس کی جھولی خالی ہے۔

کیا حکومت ان کے احتجاج کو اہمیت دے گی۔

مزید : کالم