سیاسی  توازن  اور گڈ گورننس  (ساتواں حصہ) 

سیاسی  توازن  اور گڈ گورننس  (ساتواں حصہ) 
سیاسی  توازن  اور گڈ گورننس  (ساتواں حصہ) 

  

 آج چار دن گزر  گیے  اور ہم ایک دریا سے گاڑی کے اندر پھنسی لاشیں نہیں نکال سکے۔ دریا جہلم طغیانی پر ہے اور کچھ لوگ اس انتظار  میں ہیں کہ ہمارے ایک دوست سیاستدان کی گاڑی خود بخود کنارے آلگے گی۔ اس دنیا کو خیر باد کہنے کے اس  انداز نے کس قدر  افسردہ کردیا ہم سب کو۔ ہم نے چاہا کہ کاش ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہوتی تو اس قدر بے بسی سے دریا کے کنارے کھڑے ہوکر سیکنڈز،  منٹس  اور گھنٹے  نہ گنتے ہم۔ہمارے عوام کے جوش جذبے،  دکھ  اور رنج میں جانی اور مالی قربانی  سے کسے انکار ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ ریسکیو آپریشن سپرٹ ہمارے عوام میں کسی طرح سے بھی باقی اقوام سے کم نہیں ہے۔ چونکہ عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور  سٹیٹ  ریسورسز کو پہنچنے میں تاخیر ہونی ہے۔ اس لیے انتظار ہی نہیں کرنا۔ سٹیٹ مدد کو ہر جگہ لیٹ پہنچتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ سٹیٹ کے پاس ہائی ٹیک  رسورسز موجود ہیں جو بروے کار  لاتے ہوے ریسکیو آپریشن کو کامیاب کیا جاسکے؟

 ایک  بات معذرت سے عرض کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ انسان  کے علاوہ بھی  باقی سارے میملز  اور  چوپایوں میں ریسکیو سپرٹ موجود  ہوتا ہے۔ اور وہ  اپنے ہم نسل کو  بچانے کی اپنی اپنی سمجھ اور بساط کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں۔ ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ان  چوپایوں کو اپنے  ہم نسل کو  بچانے میں دلچسپی شاید کم ہوتی ہے۔ اصل میں یہ انکی بے بسی ہوتی ہے۔انکی دماغی اور جسمانی  استعداد  کے تناظر میں انکے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ  اپنے ہم نسل کی مصیبت یا حادثے کی صورت میں مدد کرسکیں۔ انکے دکھ  اور  افسوس کرنے کا  طریقہ بھی انسان سے مختلف ہے۔ اللہ نے  انہیں اتنی  ہی استعداد  دی کہ  وہ کھڑے کھڑے دیکھتے  رہیں  اور چل دیں۔ یا جنجھلاہٹ میں اپنی گردن کو جھٹکے دیں۔ اور  اپنا راستہ لیں۔اگر اللہ نے ان  چوپایوں کو زبان دی ہوتی تو شاید ہماری طرح روتے  دھوتے  اور  زیادہ  مہذب انداز میں تعزیت کا  اظہار بھی کرتے۔

ہمارے ہاں طوفانی  زلزلے کے نتیجے میں جو لوگ مکانوں کے ملبے کے پاس سے گزرے تو  انہیں پھنسے ہوے لوگوں کی چیخ و  پکار چند دنوں تک سنائی دیتی رہی۔ لیکن ظاہر ہے وہ  بیلچے  اور کدال کے ساتھ مکان کے ملبے تلے پھنسے ہوے لوگوں کی کیا  مدد کرسکتے تھے۔ جن لوگوں نے زلزلے میں پھنسے لوگوں کی چیخ  و  پکار سنی ہے اور  وہ  ان کی کچھ  مدد  نہ کرسکے۔ وہ  اپنی  بقیہ  زندگی ان  چیخوں کے ساتھ گزار  رہے ہیں۔ یہ چیخیں ان کا پیچھا کرتی ہیں۔ صبح  شام۔ سوئے ہوئے اور  جاگے ہوئے۔ اچھا ہے  انہوں نے ترقی  یافتہ  دنیا نہیں دیکھی ہے۔ موت  سے کہاں چھپا جاسکتا ہے لیکن ہم ترقی  یافتہ  دنیا کے ریسکیو آپریشنز کا  ذکر آپ سے کرنا چاہیں  گے۔

   کرسک  روس کی ایک آب  دوز کا نام تھا جو کئی برس قبل  نارویجن سی کے قریب سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ آب  دوز سمندر کی تہہ میں بیٹھ گئی  اور کرو ممبران  کے بارے میں گمان تھا کہ  زندہ ہیں اور خوراک  اور آکسیجن کی ایک محدود  مقدار کے ساتھ ایک خاص وقت تک  زندہ رہ  سکتے ہیں۔ روس نے اپنی  مدد آپ کے تحت بار  ہا کوشش کی کہ آبدوز کو  ان لاک کیا جا  سکے۔ لیکن کامیابی نہیں ملی۔ چنانچہ  ڈوبنے  کے پانچ دن بعد  صدر  ولادیمیر پوتن نے ناروے  اور  برطانوی حکومتوں کی طرف سے مدد کی پیش کش قبول کرلی۔ سات  دن بعد  ایک برطانوی  امدادی  آبدوز  اور گہرے سمندری غوطہ خوروں کے ساتھ ناروے کا  جہاز  نورمنڈ  پانیر حادثے کی جگہ پہنچا  اور  آبدوز  کو  ان لاک کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ سمندر میں ایک کلومیٹر گہرائی میں انتہائی بھاری  اور  ہائی ٹیک فولادی میکنیکل سکل  ورک کی  بات ہورہی ہے۔

چند عرصہ  پہلے  چلی کے ایک صحرا  میں پینتالیس کلومیٹر دور  ایک سونے اور  تانبے کی کان میں ایک حادثہ  ہوا۔ تین سو  افراد  اس  سرنگ میں پانچ  کلومیٹر گہرائی  میں پھنس  گیے۔ اس ریسکیو آپریشن  میں بیس ملین ڈالر خرچہ آیا۔ آمریکی  ادارہ  ناسا  نے ریسکیو آپریشن میں تعاون کیا تھا۔اور کان کن  زندہ  بچالیے گیے تھے۔ 

 ترقی  یافتہ  دنیا کے فنون  لطیفہ،  لٹیریچر میں ریسکیو آپریشن کا بہت تذکرہ ہے۔ ترقی  یافتہ  دنیا  میں ریسکیو آپریشن کو ایک مقدس مشن مانا  جاتا ہے۔ کسے انکار ہے کہ انسان دوسرے انسان کو نہیں بچانا چاہتا۔ لیکن وہ کیا تکنیک اور تدبیر اختیار کرتا ہے یہ اسے ممتاز کرتی ہے باقی  مخلوق خدا  سے۔ تدبیر اور تکنیک کو ہی ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔ جو ہم  بڑی آسانی سے کہہ دیتے  ہیں کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟ اس  پر بھی سوچتے ہوں گے شاید  یا اس سمت میں ہم بلکل نہیں سوچتے۔ ہمارے ریسکیو  ادارے کون کون سے ہیں؟ فوج کے علاوہ کتنے  ریسکیو  ادارے موجود ہیں۔ انکی باقاعدہ  تربیت ہوتی ہوگی۔ انکی  فیلڈ مشقیں بھی ہوتی ہونگی۔اگر  فیلڈ مشقیں نہیں ہوتی تو عام  حالات میں یہ لوگ کیا کرتے رہتے ہیں؟ جب ناگہانی آفت کی صورت میں انکی ضرورت پڑتی ہے تو وہ  مقام حادثہ پر پہنچ جاتے ہیں اور کیا  وہ  ذہنی اور  جسمانی طور پر فٹ ہوتے ہیں کہ ریسکیو آپریشن کے ساتھ انصاف کرسکیں؟ ان  بھائیوں نے ریسکیو  ادارے میں ملازمت  کیوں اختیار کی۔ اس لیے کہ ان میں ریسکیو سپرٹ ایک جنون کی حد تک تھا۔ یہ ہمارے بھائی جاب اپٹیٹوڈ کی وجہ سے سیلیکٹ ہوے ہونگے؟  ادارے کی  ساری بھرتی  اسی  بنیاد پر ہوتی نہیں ہے کیا؟  مختص شدہ بجٹ کے اندر سو فیصد کارکردگی ٹارگٹ ہوتا ہوگا۔ کیونکہ اسی  چیز کا نام فرض شناسی ہے۔ 

 بات تو اب سٹیٹ کی پرسٹیج کی ہے ۔وقت گرزتا جارہا ہے  اور  سارا  بیس  کیمپ بے چین بیٹھا ہے کہ تین لاشیں جو دریا میں گاڑی  کے اندر پھنسی ہوئی ہیں۔ کیسے باہر نکالی جائیں۔ کاش ناروے کئی  قریب تر ہوتا  تو ہم  ان  سے درخواست کرتے کہ ہمارا  یہ کام کردیں۔ ناروے  والے  اپنی  تربیت  یافتہ  ریسکیو  ٹیم بھیجتے۔ ہیلی  کاپٹر  نیچی  پرواز  پر سنسر آپریٹس استعمال کرتے ہوے گاڑی کا سراغ  لگانے کی کوشش کرتے۔ آپ یقین جانیے یہ لوگ اتنے  پروفیشنل ہیں کہ دریائے جہلم میں گاڑی بہہ جانے کی سمولیشن رن کریں گے اور  اندازہ  لگا  لیں گے کہ فلاں نوعیت کی گاڑی  دریاے جہلم کی جتنی گہرائی اور  ٹرہین پر  پانی کی اتنی مقدار  اور سلوپ میں کتنی آگے جاسکتی ہے۔ ایک بات اور مانیں گے۔ دریاے جہلم جس طغیانی میں  بہہ رہا ہے اس پر ترقی  یافتہ  ملکوں کے باشندے اپنی پلاسٹک  ربر  بوٹس کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے شغل میں تیرتے پھرتے اور  ایڈونچر کرتے رہتے ہیں۔

آئیے دل بہلا تے ہیں الیکشن کی بات کرتے ہیں۔مجھے بیس برس  ہوگیے ناروے میں۔ بار ہا  الیکشن  ہوے اور کبھی بھی گاڑیوں اور  موٹر سائیکلوں کی ریلی نہیں دیکھی۔ موٹر سائیکل اب خیر سے وطن  عزیز کے اندر بننے لگے ہیں۔ ریلی نکالنا تو بنتا ہے۔ جاپانی گاڑیوں کی ریلی ہمارے الیکشن کا خاص  فیچر ہے۔ ویسا یہ ریلی نکالی کیوں جاتی ہے؟  یہاں  ناروے میں سیاسی پارٹی اپنا  منشور عوام کو  بتاتی ہے اور عوام پالیسی لائینز پر ووٹ  دیتے ہیں۔ تو ہمارے ہاں گاڑیوں اور  موٹر سائیکلوں کی ریلی کس چیز  پر  زور  دے رہی ہوتی ہے؟ اب  ایسا  نہ کہیں کہ ریلی ایسے ہی نکالی جاتی ہے۔ 

جاپانی گاڑیوں کے ڈیزل  پٹرول کا خرچہ ہی لاکھوں میں چلا جاتا ہے۔ ہم تو  اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ امیدوار  اپنی  طاقت دکھا رہا ہوتا ہے کیا؟ یعنی میں بہت  طاقت  ور  ہوں اور  مجھے ہرانا ممکن نہیں ہے۔ بہتر ہے میری اطاعت  قبول کرلو۔  ورنہ خراب ہوگے۔ ذرا  سوچنے کی بات ہے کہ  جمہوری پراسیس کس کے لیے تھریٹ ہوسکتا ہے؟ عوام کے لیے تو نہیں ہوتا۔یہ  امیدوار  لوگ عوام کو  مرعوب کرنے کے لیے نہیں کرتے ہوں گے۔ یہ  اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ میرا  خیال ہے دوسرے امیدواروں پر رعب ڈالنے کے لیے ریلی کا  انتظام کرتے ہوں گے۔ کس طرح کا رعب؟  میرے ساتھ بہت لوگ ہیں۔وہ بھی بڑی اور  چھوٹی جاپانی گاڑیوں والے۔ تم مجھے نہیں ہرا  سکو گے۔ جلسہ گاہ کی طرف ریلی نکالنے کا  مقصد  زیادہ  سے زیادہ  جلسے کے شراکین خواہش مند  افراد کو  مفت  ٹرانسپورٹ  مہیا کرنا بھی ہوتا ہوگا۔ جلسے میں  زیادہ  لوگ نظر آئیں گے تو  پھر ایک رعب کا مسیج جاے گا۔

یہ محض ہمارے اندازے ہیں کہ امیدوار  گاڑیوں  اور  موٹر سا  یئکلوں کی اتنی لمبی لمبی ریلیاں کیوں نکالتے ہیں؟  ہمارے سوچنے  اور  سمجھنے کا عمل  ابھی  ادھورا ہے۔ سیکھنا  اور سمجھنا  ایک  پراسیس ہے۔ ایک  صاحب جو  آزادی کے بیس  کیمپ کے وزیراعظم رہے ہیں اپنے  ساتھ گاڑیوں کی لمبی  قطار کو پتہ ہے کیسے  ڈیفنڈ کرتے تھے؟کہتے تھے یہ  ریاست کے تشخص کی علامت ہے۔اب  انہیں کون کہے کہ یہ لاش دریا سے نکالو  اور  اپنا  اور  ریاست کا تشخص بچاو۔  

اللہ ہمارا  حامی  اور  ناصر  ہو۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

   اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -