موسیقی پر ایک استاد کتاب

موسیقی پر ایک استاد کتاب

  

استاد بدرالزماں پرائیڈآف پرفارمنس پاکستان کے ایک ایسے عطائی( جو خاندانی لحاظ سے میر عالم نہ ہو، بلکہ سیکھ کر اس شعبہ میں آیا ہو) کلاسیکل سنگیت کار ہیںجو اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور سنگیت کی باریکیوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔۔نصف صدی قبل جو جنون انہیں کاروباری شیخ برادری سے کھینچ کر کشت سنگیت میںلے آیاتھا ،اسی عالم شوق نے ان سے تصنیف و تالیف اور موسیقی کی نایاب وبیش قیمت کتابوں پر تحقیق و ترجمہ جیسے یاد گار کام کروا کے ایک جداگانہ سر فراز ی عطا کی ہے ۔ان کایہ کام اپنے ابلاغ اور افادیت کے حوالے سے موسیقی کا مطلق علم نہ رکھنے والوں کے لئے بھی اتنا ہی کار آمد ہے، جتنا کہ اس میدان میں ناموری حاصل کرنے والوں کے لئے حیران کن ہے ۔پڑوسی ملک بھارت میں موسیقی پر بہت کام ہوا ہے اور ہورہاہے، لیکن جو کام استادبدرالزماں نے کیا ہے، اس پر بھارت میں رہنے والے موسیقی کے پنڈت اور پروفیسر حضرات بھی عش عش کر اٹھے ہیں۔

لگ بھگ ایک درجن کتب کے مصنف ومولف کی جو تازہ ترین کاوش ہمارے سامنے آئی ہے، اس کا نام " صدائے موسیقی "ہے اور اس کتاب کے دو خصوصی پہلواس کوفن موسیقی پر دستیاب کتب میں ممتاز مقام دلانے کا باعث ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس موضوع اور اس نوعیت کا کام اس سے پہلے بھارت میں ہوا ہے، نہ پاکستان میںاور یہ بات موسیقی کے ان بھارتی پروفیسر حضرات کی طرف سے کہی گئی ہے ،جنہوں نے اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے تحریری شکل میں دی ہے۔ دوسری بات جو اسے افضل و ممتاز بناتی ہے، یہ ہے کہ یہ کتاب موسیقی کے ساتھ واجبی سی دلچسپی رکھنے والے سے لے کر سنگیت کے ایک ادنیٰ طالب علم اور موسیقی پر پی ایچ ڈی کرنے والے کے لئے ایک معلوماتی اور ایک فاضل استادکا درجہ رکھنے والی کتاب ہے، جو رموز موسیقی سمجھنے میں رہنمائی کرتی اور سنگیت کی انجانی راہداریوں اورپُرپیچ غلام گردشوں میں سے آپ کی انگلی پکڑ کر آگے لے جاتی ہے۔مَیں بڑے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ موسیقی کی اکثر کتب مزید الجھا دیتی ہیں، جبکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو کہیں بھی الجھاتی نہیں ، اس کے برعکس ہر قدم پر سیکھنے اور سمجھنے والے کی رہنمائی کرتی ہے۔

ایک بات اور کہ استاد بدر الزماں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جسے ٹچ نہ کیا ہو،موسیقی کے بارے میں اگر ایک عام قاری بھی کچھ سیکھنا اور سمجھنا چاہتا ہے تو اس کتاب سے بڑھ کرکوئی دوسرا اتنی بہترین رہنمائی نہیں کر سکتا۔اس کتاب میں موسیقی کی پرانی سنسکرتی ،ہندی ،،فارسی، اردواور انگریزی اصطلاحات کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کے سا تھ ساتھ گلوکاروں کی عام بول چال کی اصطلاحات بھی بیان کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سروں، راگوں اور ٹھاٹھوں پر سیر حاصل، مگر سمجھ میں آنے والی گفتگو کی گئی ہے۔گلوکاروں کی زبان سے یہ جملہ بارہا سنا ہے کہ گانے سے بڑا کام گانا سننا ہے، وہ کہتے ہیں کہ گانے والے تو ہزاروں ہیں، سننے والا کوئی کوئی ہے۔یہ کتاب ایک عام قاری کو جہاں گانے والا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہاں یہ آپ کو ایک اچھا سنویا(سننے والا) بھی بنا سکتی ہے۔ اگرچہ مَیں راگوں اور ٹھاٹھوں کے بارے میں بالکل لا علم ہوں ،مجھے تیور ،کومل،وادی سموادی آروہ ّّّّ اور اوروہ کا ذرا بھی پتہ نہیں تو ایسی لاتعداد ٹرمنالوجی کی کسی حد تک سمجھ آنے لگتی ہے۔اسی طرح انہوں نے گلے کی تانوں کے بارے میں بھی بڑے واضح انداز میں بتایا ہے اور معروف و غیر معروف تانوں کوجامع طریقے سے پیش کیا ہے۔

اس کتاب میں جو فقط 240صفحات پر مشتمل ہے ، مَیں اس بات کو بھی مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کہ کن کن ادوار میں کن کن ماہرین موسیقی نے ٹھاٹھوں پر کام کیا ، یعنی 1056ءسے لے کر 1925 ءتک جتنے بھی ٹھاٹھ بنے ہیں۔ان کی تعداد، سر وغیرہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیاگیا ہے کہ کس طرح پنڈت ونکٹ مکھی جی اور راگ لکشنم نے 72ٹھاٹھ مقرر کئے۔ بھات کھنڈے کے مقررکردہ دس ٹھاٹھ ،ٹھاٹھوں کے نام ،راگوں کے نام ،ان ناموں میں مختلف ادوار میں کی جانے والی تبدیلی ،راگوں اور ٹھاٹھوں کے خواص ،اس کے علاوہ اور بہت کچھ۔نیز وادی سموادی کے اصول،راگ اور ٹھاٹھ میں فرق،دلچسپ ٹھاٹھ اور ان سے متعلق سوالات تحریر کئے ہیں۔اپنے اعلیٰ معیار اوراَن گنت فنی خوبیوں کی بنا پر اس کتاب کو نصاب تعلیم میں بطور سلیبس بک شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ کالجوں اور یونیورسٹیو ںکے طلبہ و طالبات اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس موضوع پر آج تک کوئی تعلیمی و نصابی کتاب پاکستان میں نہیں آئی ،لہٰذا سیکنڈری بورڈ اور پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ جن یونیورسٹیوں میں میوزک کا سبجیکٹ پڑھایا جا رہا ہے ،کو اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔      ٭

مزید :

کالم -