ایف آئی آر میں دفعہ 324کااندراج ، ارادہ قتل کی نیت سے فائرنگ کی گئی

ایف آئی آر میں دفعہ 324کااندراج ، ارادہ قتل کی نیت سے فائرنگ کی گئی

لاہور (تجزیہ: نعیم مصطفےٰ) پانامہ کیس میں شریف خاندان کے خلاف مقدمات کے نگران جج مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کی ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ جہاں چند ہی لمحات میں عالمگیر شہرت حاصل کر گیا، وہاں اس نے تفکر و دانش کے کئی در بھی وا کئے۔ صوبائی دارالحکومت میں محفوظ ترین سمجھے جانے والے مقام پر اس قسم کا واقعہ کئی سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا۔ بالخصوص چھ سات گھنٹے کے وقفے کے دوران دو مرتبہ کی جانے والی فائرنگ نے ماہرین تفتیش اور تجزیہ کاروں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ واقعہ کے فوری بعد اعلیٰ شخصیات سمیت رینجرز کے دستے، پولیس کی بھاری نفری، فرانزک سائنس کے ماہرین اور بعض حساس اداروں کے افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ اگرچہ میڈیا کو متاثرہ مقام سے خاصا دور روک دیا گیا تاہم سینہ بہ سینہ جو تفصیلات میسر آئیں وہ مختلف ٹی وی چینلز پر اتوار کے روز دن بھر چلائی جاتی رہیں اور ان پر مختلف انداز سے تبصرے بھی ہوتے رہے، جن میں سے اکثر کا ٹرینڈ یہی تھا کہ فاضل جج صاحب کے گھر پر فائرنگ کے ذریعے انہیں ان متاثرین کی طرف سے پیغام دیا گیا ہے جن کے خلاف وہ حال ہی میں بڑے بڑے مقدمات کی سماعت کرتے رہے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ فائرنگ کے واقعہ کی اطلاع ملنے کے فوری بعد اس پر ردعمل آسان کام نہیں، ماہرین بھی اس پر کوئی ٹھوس آراء دینے کے قابل نہیں ہو سکتے جب تک معاملے کے تمام پہلوؤں اور باریک بینی سے تفتیش نہ کر لی جائے اس حوالے سے کوئی رائے قائم کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ رات گئے تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق فاضل جج کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ کو چار تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سانحہ پر تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر تعینات سرکاری گارڈ کانسٹیبل محمد آصف نمبر 9392 کی جانب سے جو ایف آئی آر درج کرائی گئی اس میں کسی فرد، ادارے، جماعت یا تنظیم کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا تاہم صرف یہ کہا گیا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 427، 324 کا اندراج کیا گیا ہے۔ اس میں محض یہ کہا گیا کہ جس کوٹھی میں فائرنگ کی گئی اس میں عدالت عظمیٰ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن رہائش پذیر ہیں۔ جہاں فائرنگ کا ذمہ دار کسی کو نہیں ٹھہرایا گیا وہاں وجہ عناد بھی تحریر نہیں ہے۔ انسداد دہشت گردی کی دفعہ اس جملے کی وجہ سے لگائی گئی جو ایف آئی آر میں مدعی نے خوف و ہراس کے حوالے سے تذکرہ کیا تھا جبکہ دفعہ 324 ارادہ قتل کو ظاہر کرتی ہے جس سے تعزیرات پاکستان میں مراد یہ لی جاتی ہے کہ کسی شخص نے دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے فائرنگ کی تاہم وہ محفوظ رہا اور گولی اسے نہیں لگی۔ اگر محض ہوائی فائرنگ مراد ہوتی تو ایف آئی آر میں دفعات 337 یا 506 تحریر کی جاتیں۔ ارادہ قتل کے تحت فائرنگ پر قبل ازیں دفعہ 307 کا اندراج کیا جاتا تھا جو اب تبدیل ہو کر 324 قرار پا چکی ہے۔ واقعہ کی ایف آئی آر میں محض ہراساں کرنے کا تذکر ہ کرنا مقصود ہوتا تو دفعہ 337 یا 506 کا اندراج کیا جاتا لیکن 324 لگا کر اس واقعہ میں ارادہ قتل کا واضح اشارہ دے دیا گیا ہے۔ اس سانحے کا مرکزی نکتہ دو مختلف اوقات میں فائرنگ کا کیا جانا ہے، پہلے واقعہ کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک بجے کے بعد کا ظاہر کیا گیا ہے جبکہ دوسری بار فائرنگ اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے بتائی گئی۔ اس حوالے سے تفتیشی ماہرین بھی سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور ان کا یہ بھی موقف ہے کہ آج تک لاہور میں کسی مخالف پر فائرنگ کا ایسا واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا جس میں ملزم نے چند ہی گھنٹوں میں دو بار فائرنگ کی ہو۔ یہ ضرور ہوتا رہا ہے کہ ایک واقعہ کے چار پانچ روز بعد دوبارہ فائرنگ کی گئی ہو لیکن چند گھنٹوں کے بعد کوئی حملہ آور دوبارہ وہیں آ جائے یہ ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ایک اور اہم نکتہ اس علاقے ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے ہے جو سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے اور شہر کی یہ پوش بستی میں محفوظ ترین مقام پر ہے۔ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور ان کے فرزند حمزہ شہباز سمیت دیگر اہم شخصیات کا رہائشی علاقہ ہونے کے ناطے یہاں کوئی شخص چند گھنٹے کے وقفے میں دو بار فائرنگ کرنے کی جرأت کیسے کر سکتا ہے؟ ویسے بھی ماڈل ٹاؤن کے جی اور ایچ بلاک میں چپے چپے پر پولیس ناکے ہیں، رات بارہ بجے سے دن بارہ بجے تک پولیس کا گشت بھی خوب ہوتا ہے، ایسے میں اوپر تلے دو بار فائرنگ دل گردے کا کام ہے۔ اس حوالے سے پولیس کے ایک ماہر تفتیشی افسر نے استفسار پر بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی بے عقل یا شعور سے عاری شخص نے ایسا کر دیا ہو لیکن عام ذہن یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پہلی بار فائرنگ کا وقت رات ایک بجے کے بعد بتایا گیا ہے لیکن یہ واقعہ بھی اتوار کی دوپہر گیارہ بجے کے بعد منظرعام پر آیا۔ اس دوران گردونواح کے مکینوں سمیت کسی کو محترم جج صاحب کے گھر فائرنگ کی اطلاع نہیں ملی، یہاں تک کہ مقامی پولیس بھی بے خبر رہی جب ساڑھے نو بجے دن دوسرا واقعہ منظرعام پر آ گیا تو پہلے واقعہ کا تذکرہ بھی اس سے جڑا دکھائی دیا۔ اس حوالے سے ایک ریٹائرڈ ڈی آئی جی جنہیں تفتیش کا باوا آدم کہا جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے تمام پہلو اس وقت آشکار ہوں گے جب ان امور کا تعین کر لیا جائے گا کہ فائرنگ کی ڈائریکشن کیا تھی، کتنے فاصلے سے کی گئی، ولاسٹی کیا ہے، رینج کتنی ہے۔ گولی سیدھی لگی ہے یا عمودی یعنی فائرنگ سامنے کھڑے ہو کر کی گئی یا چھت سے گولی چلی؟ ان سوالات کا جواب جانے بغیر معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ تفتیشی افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بظاہر مجھے یہ شرارتی معاملہ لگتا ہے، کہا یہ جا رہا ہے کہ محترم جج جن مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں، ان کے متاثرین کی جانب سے فائرنگ کے ذریعے پیغام دیا گیا ہے کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن مجھے یہ درست معلوم نہیں ہوتا، عین ممکن ہے کہ کسی تیسرے فریق نے معاملہ بھڑکانے کے لئے ایسا کیا ہو جس کا مطمع نظر یہ ہو کہ اوّل الذکر دونوں فریقین میں مخالفت کی آگ زیادہ بھڑکے۔ ایک اور اہم نکتہ فاضل جج کے گھر اور گردونواح کی سیکیورٹی سے متعلق ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا کہ 112-H کے قرب و جوار میں لگے سیکیورٹی کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔ سیف سٹی پروجیکٹ کے آغاز کے بعد کروڑوں روپے خرچ کرکے 6000 سے زائد کیمرے لگائے گئے لیکن اگر یہ بات درست ہے تو کس قدر افسوس ناک ہے کہ ایک ایسے جج کی رہائش گاہ ان کیمروں کی زد میں نہیں ہے جو عام جج نہیں ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سینئر رکن ہونے کے ساتھ ساتھ آج کل ہائی پروفائل کیسز کی سماعت بھی ان کے ذمے ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ متاثرہ مقام کے اردگرد رینجرز بھی گشت کرتی رہتی ہے لیکن اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم یہ ضرور معلوم ہوا کہ فاضل جج کی رہائش گاہ پر ایک تین کی پولیس گارد تعینات ہے، ان میں سے ایک کانسٹیبل محمد آصف مقدمے کا مدعی بنا ہے جس کا کہنا ہے کہ ایک گولی مین گیٹ کے باہر نصب جسٹس اعجاز الاحسن کی نیم پلیٹ پر لگی جبکہ دوسری گھر کے اندرونی حصے میں کچن کے پاس شیشے پر لگی دکھائی دی۔ جو ایک سکہ ملا اس کے حوالے سے فرانزک سائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 9 ایم ایم کے پسٹل سے چلائی گئی ہے۔ اس حوالے سے گرد و نواح کے کسی شخص نے یہ اظہار نہیں کیا کہ اس نے ہفتے کی رات گئے یا اتوار کو دن دہاڑے فائرنگ کی آواز سنی ہو۔ اکثر فائرنگ کے اس طرز کے واقعات موٹرسائیکل سواروں کی طرف سے کئے جاتے ہیں، کسی کی طرف سے موٹرسائیکل گزرنے یا گھر کے سامنے رکنے کا ذکر بھی سننے کو نہیں ملا شاید اسی وجہ سے ایف آئی آر میں واقعہ کے عینی شاہدین کا تذکرہ بھی موجود نہیں ہے۔ تفتیشی ماہرین نے ایف آئی آر کی بنیاد پر ماہرانہ رائے دی ہے کہ یہ مقدمہ ٹارگٹڈ فائرنگ کو ظاہر کرتا ہے، اس مقدمے سے محض ہراساں کرنے کے لئے کی گئی ہوائی فائرنگ مراد نہیں لی جا سکتی۔ مقدمے کا چالان بھی ارادہ قتل کی نیت سے کی جانے والی فائرنگ کے تحت تیار کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس واقعہ کی تفتیش کے لئے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کا سربراہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن چودھری سلطان محمود کو بنایا گیا تھا تاہم بعض اطراف سے یہ اعتراض آیا کہ مذکورہ تفتیشی افسر پر سانحہ ماڈل ٹاؤن (ادارہ منہاج القرآن) میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ڈی آئی جی ڈاکٹر عارف مشتاق نے ایس پی سلمان خان کو واقعہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ملزم قرار دیا تھا اور بعد ازاں وہ اشتہاری مجرم بھی ہو گئے لیکن چودھری سلطان محمود کے ڈی آئی جی تعینات ہونے کے بعد انسپکٹر لیول کے ایک افسر نے ایس پی سلمان خان کو بے گناہ قرار دے دیا تھا۔ ان تمام تر معاملات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فوری طور پر اس واقعہ کے حوالے سے کوئی ٹھوس بات کہنا قبل از وقت ہوگا جب تک چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے نوٹس کی سماعت کے دوران تفصیلات سامنے نہیں آتیں یا جے آئی ٹی کوئی حتمی رائے نہیں دیتی اس بارے میں لگائے جانے والے تمام اندازے غلط ہوں گے۔

ارادہ قتل

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...