ممتاز شاعر....شہزاد احمد کی پہلی برسی

ممتاز شاعر....شہزاد احمد کی پہلی برسی
ممتاز شاعر....شہزاد احمد کی پہلی برسی

  

شہزاد احمد جو گزشتہ برس یکم اگست کو حرکتِ قلب اچانک بند ہو جانے کی وجہ سے اس دنیا سے اٹھ گئے تھے۔ اردو کے ممتاز شاعر اور نامور مترجم ہونے کے علاوہ انسانی زندگی پر نفسیاتی حوالوں سے اور کائنات کے اسرار کو فزکس اور کوانٹم تھیوری سے سمجھنے والے دانشور تھے۔ انہوں نے اپنی دانش کو مطالعے کی کثرت سے فروغ دیا اور نفسیات کو اپنے مزاج کا اس طرح حصہ بنایا کہ یہ علم اشیائ، مظاہر اور شخصیات کو کھوجنے کے لئے ان کی عینک بن گیا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی ابتدائی زندگی کلاسیکی ادب کے گہوارے میں گزری۔ ان کو ادب کی پہلی گھٹی اپنی والدہ سے ملی، جنہیں سعدی شیرازی کی کتابیں ”گلستان“ اور ”بوستان“ زبانی یاد تھیں۔ طالب علمی کے زمانے میں انہیں مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ”آبِ حیات“ نے متاثر کیا اور ”مہتاب داغ“ پڑھی تو ان کے باطن کا شاعر بیدار ہوگیا۔ ان کے بچپن کے دوست صلاح الدین ندیم نے مجھے بتایا کہ بیت طرازی کے مقابلوں میں شہزاد احمد امیر مینائی، فانی بدایونی، اصغر گونڈوی اور جگر مراد آبادی کے اشعار زیادہ پیش کرتے تھے۔ امرتسر کے ایم اے او کالج میں داخل ہوئے تو پرنسپل صاحبزادہ محمود الظفر اور انگریزی کے استاد فیض احمد فیض نے ان کے شعری ذوق کو خصوصی طور پر سنوارا۔ چنانچہ ان کا نام ظہیر کاشمیری، سیف الدین سیف، احمد راہی، عارف عبدالمتین، حسن بخت اور طفیل دارا جیسے شاعروں کے ساتھ لیا جانے لگا۔ سیف الدین سیف نے امرتسر سے رسالہ ”نرگس“ جاری کیا تو اس میں شہزاد احمد کی غزلیں شامل کیں عمر صرف15 برس تھی۔

 آزادی کے بعد شہزاد احمد اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آگئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے نفسیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے دوسرا ایم اے 1955ءمیں فلسفے کے مضمون میں کیا۔ مظفر علی سید کی دوستی نے انہیں نئے علوم کے مطالعے کی طرف راغب کیا جو ان کے علمی اور ادبی ارتقاءمیں بہت معاون ثابت ہوا۔ شہزاد احمد نے پہلی سرکاری ملازمت تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بطور پبلک ریلیشنز آفیسر کی، لیکن اس دور کے جوہر آباد کے ویرانے انہیں راس نہ آئے۔ بتاتے تھے کہ وہ ہر اتوار کو سرگودھا آجاتے، جہاں ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ مجلس آرائی کر تے اور مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری رہتا۔ یہ تعلق اتنا گاڑھا ہوگیا کہ شہزاد احمد کے ساتھ لاہور میں بھی قائم رہا۔ وزیر آغا لاہور آتے تو سب سے پہلے شہزاد احمد کو فون کرتے اور رات گئے تک محفل جمی رہتی۔ شہزاد احمد نے تھل ترقیاتی ادارے کی اعلیٰ ملازمت ترک کی تو ایگل سائیکل بنانے والوں کی فرم میں ملازم ہوگئے۔ بھٹو صاحب کے دور میں وہ روٹی پلانٹ کے جنرل مینجر مقرر کئے گئے۔ ٹیلی ویژن پر انہیں سکرپٹ ڈائریکٹر بنایا گیا، لیکن وہ کسی ملازمت کے ساتھ اپنی آزاد اور سیلانی طبعیت کی وجہ سے منسلک نہ رہ سکے۔ تاہم ادب اور شاعری کے ساتھ ان کمٹمنٹ مضبوط تھی اور یہی ان کی پہچان بن گئی۔

شہزاد احمد کی شاعری کی پہلی کتاب ”صدف“ 1958ءمیں شائع ہوئی۔ اس کے بعد چھپنے والی کتابوں میں۔ ”جلتی بجھتی آنکھیں“.... ”ادھ کھلا در یچہ....”خالی آسمان“ ”بکھر جانے کی رُت“، ”دیوار پر دستک“.... ٹوٹا ہوا پُل“.... ”کون اسے جاتا دیکھے“.... پیشانی میں سورج“ اترے مری خاک پر ستارہ” اور مٹی جیسے لوگ“ بہت مشہور ہیں۔ پنجابی شاعری کی کتابیں اس سے الگ ہیں۔ شہزاد احمد پر 1984ءمیں دل کا پہلا دورہ پڑا تو وہ کراچی کے ایک ادبی جلسے میں شامل تھے۔ انہیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ”کلینیکل ڈیتھ“ ہو چکی ہے، لیکن بجلی کے جھٹکے لگانے سے ان کی حرکتِ قلب جاری ہوگئی اور کچھ عرصے کے بعد وہ ادویات پر انحصار کر کے معمول کی زندگی گزارنے لگے۔

 موت کے اس تجربے کا ذکر آیا تو شہزاد احمد نے بتایا کہ انہیں اس فضائے مرگ میں اچانک آواز آئی.... ”شہزاد اُٹھو اور اُڑو“....مَیں نے کہا:”مَیں اُڑ نہیں سکتا۔ میرے پَر نہیں ہیں“۔ پھر آواز آئی: پَروں کے بغیر اُڑنے کی کوشش کرو“.... اور مَیں نے کوشش کی تو واقعی اُڑنے لگا، لیکن اس لمحے مجھے جھٹکا لگا اور مَیں اپنے پلنگ پر پڑا تھا۔ شہزاد بتاتے ہیں کہ انہیں اس علالت کے دوران کئی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ مدینے کی گلیوں میں پھر رہے ہیں اور خاکِ مدینہ کو بوسے دے رہے ہیں۔ جب صحت مند ہوگئے تو انہوں نے نعت کہنی شروع کر دی۔ ان کے کمرے میں مسجد نبوی کی ایک بڑی تصویر آویزاں ہوگئی۔

دوسری بڑی تبدیلی یہ آئی کہ شاعری کے ساتھ شہزاد احمد نثر اور ترجمے کی طرف آگئے۔ انہوں نے بیکاری کا یہ کڑا دور دیکھا، لیکن کسی کو اپنی معاشی پریشانی کا پتہ نہیں لگنے دیا۔ اس دور میں انہوں نے انگریزی کتابوں کے تراجم سے رزقِ حلال پیدا کیا اور اپنی خودی اور خودداری کو قائم رکھا۔ شہزاد احمد کی نثر کی کتابوں میں ”مذہب، تہذیب اور موت“.... ”ذہن انسانی کا حیاتیاتی پس منظر“.... ”سائنسی انقلاب“ اور ”دوسرا رخ “ وغیرہ شامل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنی ایک کتاب ان سے ترجمہ کرائی جو ”ارمان اور حقیقت“ کے نام سے شائع ہوئی۔ تخلیقی رویے، سائنس کے عظیم مضامین اور نفسیاتی طریقِ علاج میں مسلمانوں کا حصہ ان کی ترجمہ شدہ کم از کم دس کتابیں اب بھی زیرِ اشاعت ہیں۔

شہزاد احمد کو 2006ءمیں مجلس ترقیءادب کا ناظم مقرر کیا گیا۔ قائداعظمؒ لائبریری کے ادبی مجلہ ”مخزن“ کا مدیر بنایا گیا۔ شہزاد احمد نے یہ دونوں خدمات اپنے پیش روو¿ں سے بہتر انجام دیں اور مجلس ترقیءادب کو منافع بخش ادارہ بنا دیا جس کی لائبریری سے اب سینکڑوں طلباءاستفادہ کرتے ہیں۔ شہزاد احمد کو ان اعلیٰ خدمات پر صدرِ پاکستان کا تمغہ حسنِ کارکردگی دیا گیا۔ اس کے علاوہ شاعری کی کتابوں پر آدم جی ایوارڈ، علامہ اقبال پرائز اور نقوش ایوارڈ بھی دئیے گئے۔

مجلسی مزاج کے شہزاد احمد کشادہ نظر ادیب اور روشنِ خیال دانشور تھے۔ انہوں نے نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ سرپرستی کی اور ان کے ذوق کو سنوارنے میں گراں قدر حصہ لیا۔ مَیں ان کی پہلی برسی پر انہیں یاد کر رہا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے ساتھ باتیں کر رہے ہیں اور اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔    ٭

مزید :

کالم -