نوشتہ ءدیوار

نوشتہ ءدیوار
نوشتہ ءدیوار
کیپشن:   1

  

اس بار یوم آزادی جس انداز سے گزرا ہے، کم ا کم مَیں نے تو اپنی زندگی میں ایسا یوم آزادی پہلے کبھی نہیں دیکھا۔سب کچھ اتھل پتھل نظر آیا۔خوشی سے زیادہ خوف اور تجسس نے اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔13اگست کو ملک میں جو کچھ ہوا، ان میں کہیں بھی اس بات کی رمق موجود نہیں تھی کہ ہم 14اگست کو اپنا یوم آزادی منانے جا رہے ہیں، بلکہ یوں لگتا تھا، جیسے ایک بڑے معرکے کی تیاری ہو رہی ہے۔ایک طرف حکومت کے انتظامات، دوسری طرف عدلیہ کے فیصلے اور تیسری طرف آزادی و انقلاب مارچ کرنے والوں کی تیاریاں۔ہر کوئی اس طرح اپنے مشن پر ڈٹا ہوا تھا کہ جیسے باقاعدہ کسی جنگ کا آغاز ہو چکا ہو۔سب کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے اعصاب اتنی بڑی ”آفت“ کے متحمل نہیں تھے، اس لئے وہ ایسے اقدامات اٹھاتی رہی کہ جنہوں نے ماحول کو لحظہ بہ لحظہ گرما دیا۔صد شکر کہ اعصاب کی یہ کمزوری بالآخر ہوش مندی میں تبدیل ہوئی اور دونوں مارچ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔کم از کم ایک خونی منظرنامہ تبدیلی ہوا اور اس کی جگہ کشادگی اور برداشت نے لے لی۔اب اسلام آباد میں کیا ہوتاہے، اس کا علم تو کچھ دیر بعد ہی ہوگا، تاہم یہ ضرور ہے کہ وہ خوف اور جبر جو فضا میں رچا بسا دکھائی دیتا تھا،اب بہت کم رہ گیا ہے۔

یہ دونوں مارچ جب دھرنوں میں بدلیں گے تو کیا مطالبات سامنے آئیں گے اور ان کی تکمیل کے کیا امکانات ہیں، اس بارے میں ہر کوئی اپنی اپنی سوچ کے مطابق قیاس آرائی کررہا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا بنیادی مطالبہ تو نوازشریف حکومت کا خاتمہ ہے،تاہم اس کے بعد کے راستے جدا جدا ہیں۔دونوں کا یہ یک نکاتی ایجنڈا پورا ہوتا ہے یا نہیں، یہ بہت پیچیدہ سوال ہے۔سیاسی قوتیں حکومت اور عدلیہ ایسے مطالبات کو غیر آئینی سمجھتی ہیں، جبکہ ان مطالبات کے حامی انہیں عین جمہوری و آئینی قرار دیتے ہیں۔اب بیل کیسے اور کیونکر منڈھے چڑھے گی۔اس کا فیصلہ اسلام آباد میں ہونا ہے، بس ہر پاکستانی کی طرح میری بھی خواہش یہی ہے کہ جو کچھ بھی ہو، جمہوریت اور آئین کے دائرے میں ہو، اگر کسی کو قربانی دینا پڑے تو قربانی دے اور کسی کو ملک کی خاطر اپنے مطالبات سے دستبردار ہونا پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کرے۔پرانے وقتوں کا مقولہ ہے کہ ساری مانگتے مانگتے اگر آدھی کے جانے کا بھی خدشہ ہو تو آدھی پر ہی اکتفا کر لینا چاہیے۔ابھی تو لانگ مارچوں کے حامی بری جمہوریت کو اچھی جمہوریت میں بدلنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔کہیں یہ نہ ہو کہ یہ بُری جمہوریت بھی نہ رہے اور ہمیں ایک آمریت کو جمہوریت میں بدلنے کا ٹاسک مل جائے، جو لانگ مارچوں سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔

مَیں تو اس ساری صورت حال کو ایک دوسری نظر سے دیکھ رہا ہوں۔ان لانگ مارچوں کا نتیجہ خواہ کچھ بھی رہے، اب انداز حکمران کو تبدیل کرنا پڑے گا۔یہ اندازِ حکمرانی جس پر بادشاہت کا الزام لگ چکا ہے، کم از کم اب چلتا نظر نہیں آتا۔حکمرانوں کو بھی بصیرت سے کام لیتے ہوئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عوام اس نظام سے خوش نہیں ہیں۔جمہوریت کی جتنی مرضی دہائیاں دی جاتی رہیں، اب لوگ اسے اپنے دکھوں کا مداوا نہیں سمجھتے، اس جمہوریت نے جو تمیز بندہ و آقا روا رکھی ہوئی ہے، اس کی موجودگی میں عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔اب سنگ و خشت کی ترقی کو جمہوریت کے ثمرات کی شکل میں پیش کرکے عوام کو مطمئن کرنا مشکل ہے۔فلائی اوور، میٹروبسیں، موٹرویز اور دیگر انفراسٹرکچر کے منصوبے اپنی جگہ ، مگر یہ عوام کی محرومیوں کا ازالہ نہیں کر سکتے۔اس بات کو حاکمانِِ وقت نے محسوس بھی کیا ہوگا۔وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف اسی ترقی کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔عوام ان کے ساتھ ہوں تو سڑکوں پر اس قدراُبال اور بے چینی نظر نہ آئے۔اگر اللہ شریف برادران کو مزید حکمرانی کا موقع دے تو وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کریں۔وہ چند لاکھ افراد کو سامنے رکھ کر منصوبے نہ بنائیں، بلکہ 18کروڑ عوام کو ریلیف پہنچانے کی کوشش کریں۔صرف لاہور کو پاکستان نہ سمجھیں، بلکہ خیبر سے کراچی اور بولان سے اسلام آباد تک پھیلے ہوئے پاکستان کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ سازی کریں۔

اپوزیشن جب یہ اعتراض کرتی ہے کہ پنجاب میں چھ بار اور وفاق میں تین بار حکومت بنانے کے باوجود حکمران عوام کو استحصالی نظام سے نجات دلانے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کر سکے تو اس کی اس بات میں وزن نظر آتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ معاشرے کو ایک فلاحی رنگ میں ڈھالنے کے لئے مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ نظامِ حکومت کو اگر بادشاہت کہا جا رہا ہے تو اس پر غصے میں آنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں کہا جا رہا ہے اور کیوں لوگ اس بات سے متاثر ہو رہے ہیں۔انقلاب یہ نہیں کہ ایک غریب آدمی میٹروبس پر بیس روپے میں سفر کررہا ہے، اس سفر کے بعد جب وہ کسی دفتر،کچہری، تھانے یا پٹواری کے پاس جاتا ہے اور اس کی جو درگت بنتی ہے، وہ اس کا میٹروبس والا نشہ اتار دیتی ہے۔میٹروبس میں تو لوگوں نے چند منٹوں کے لئے سوار ہونا ہے، جس معاشرے میں وہ چوبیس گھنٹے رہتے ہیں، اسے ہمارے استحصالی نظام نے جہنم بنا رکھا ہے۔اصل ضرورت تو اسے تبدیل کرنے کی ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، اس سوال سے قطع نظر دیکھنا یہ چاہیے کہ انہوں نے عوام کے اندر اس حوالے سے کس قدر شعور بیدار کر دیا ہے۔اس شعور کی موجودگی میں کیا اب وہی استحصالی و دقیانوسی نظام قائم رکھا جا سکے گا، جس کے خلاف عوام کے دلوں میں حد درجہ نفرت پیدا ہو چکی ہےّ

جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں کو یہ سوچنا چاہیے کہ آخر کب تک ان کی حرمت کا واسطہ دے کر انہیں بچایا جاتا رہے گا؟ آئین میں تو بنیادی انسانی حقوق پر بھی بہت زور دیا گیا ہے۔اس کے اس پہلو کو یوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔جمہوریت اگر واقعی اپنی اصل شکل میں موجود ہے تو عوام میں بے چینی کیوں ہے۔یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جو عوام کو جوابدہ نہیں۔امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات معاشی ہو تو گزارا ہو جاتا ہے، لیکن جب یہ عدم مساوات قانون کی نظر میں بھی روا رکھی جائے تو نفرت پھیلتی ہے۔بنیادی سہولتوں کے ضمن میں طبقہ ءامراءکو ہر طرح سے مستفید کیا جائے اور عوام علاج معالجے ، صاف پانی، روزگار اور تعلیم کو بھی ترس جائیں تو بات بگڑ جاتی ہے۔اب ملک میں تبدیلی کے دعویدار تبدیلی لائیں یا موجودہ حکمران، تبدیلی آنی ضرور ہے۔اب سیاسی مداخلت سے تعفن زدہ ہونے والا یہ دفتری نظام نہیں چل سکتا۔حاکمانِ وقت کو بھی یہ بات سمجھ آ جانی چاہیے کہ انہوں نے جس نظام کے سہارے خود کو مضبوط سمجھا ہوا ہے، وہ پانی کا بلبلہ ہے۔وہ ایک عوامی ریلے کا جھٹکا برداشت نہیں کر سکتا۔اس کے لگائے ہوئے کنٹینر خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں، اس میں اتنا دم خم نہیں کہ عوام کا سامنا کر سکے۔

جمہوریت کو ایک یتیم دوشیزہ کے روپ میں پیش کرکے اس کی عزت و عصمت بچانے کا واسطہ دے کر اب کام نہیں چلے گا۔لوگ اب ایسی جمہوریت مانگتے ہیں، جو ان کی محرومیوں کا ازالہ کرکے انہیں عزتِ نفس سے معمور زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے۔یہ وہ نوشتہ ءدیوار ہے، جسے پڑھ کر عمل کرنے والا ہی عوام کی توقعات پر پورا اتر سکے گا۔باقی سب عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو جائیں گے۔

مزید :

کالم -