مصری فوج نے منصوبے کے تحت اخوان المسلمین کا قتل عام کیا

مصری فوج نے منصوبے کے تحت اخوان المسلمین کا قتل عام کیا
مصری فوج نے منصوبے کے تحت اخوان المسلمین کا قتل عام کیا
کیپشن:   1

  

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ مصری فوج نے منصوبے کے تحت اخوان المسلمین کے کارکنوں اور رہنماﺅں کا قتل عام کیا تھا۔ہزاروں افراد کی ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ قاہرہ کی رابعہ العددیہ مسجد کے قریب ایک دن میں ایک ہزار یا اس سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے کہا یہ حالیہ تاریخ میں ایک روزمیں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں مصرمیں ہوئیں۔اس حوالے سے دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرنی تھی، تاہم انہیں قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے 12 گھنٹے کے بعد ملک بدر کردیا گیا۔ ادارے کے مطابق مصر میں اس اندوہناک قتل کے واقعات کے وقت سیکیورٹی فورسز کی کمان موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کے پاس تھی۔ السیسی مئی 2014ءمیں مصر کے صدر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے 2013ءمیں سابق صدر محمد مرسی کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور مرسی کے حامی اخوان المسلمین کے کارکنان پر جان بوجھ کر فائر کھولا تھا۔

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو ایک سینئر افسر سمیت مصر میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔ قاہرہ میں موجود کینیتھ روتھ اور سارہ لی ویٹسن کو گزشتہ سال وہاں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ جاری کرنا تھی۔یہ رپورٹ 14 اگست 2013ءکو صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف آواز اٹھانے والے مظاہرین پر پولیس کے تشدد سے ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بارے میں ہے۔ شہریوں کی ہلاکت کے وقت عبدالفتح السیسی فوج کے سربراہ تھے، جو اب مصر کے صدر ہیں۔ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد پولیس اور فوج نے مظاہرین پر براہِ راست گولیاں برسائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جولائی اور اگست 2013ءکے دوران ہونے والے ان واقعات میں کم ازکم 1150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ مصر میں دو احتجاجی کیمپوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا حکم اعلیٰ عہدےداروں نے دیا تھا اور یہ انسانیت کے خلاف جرم تھا۔تنظیم نے اقوام متحدہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمین کے احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لئے مصری سیکیورٹی فورسز نے 817 مظاہرین کو ہلاک کر دیا تھا۔”یہ محض طاقت کے بے مہابا استعمال یا کمزور تربیت کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک متشدد کریک ڈاو¿ن تھا، جس کی مصری حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس کریک ڈاﺅن کے ذمے دار بعض عہدےدار ابھی تک مصر میں اقتدار میں ہیں اور انہوں نے بہت سے سوالوں کے جواب دینا ہیں“۔

اس وقت کے آرمی چیف اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی سمیت بعض عہدےداروں نے اخوان المسلمین کے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف دھرنوں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی ہدایت کی تھی، کیونکہ ان کے بقول ان سے ٹریفک کے بہاﺅ میں خلل پڑرہا تھا اور کاروبار زندگی متاثر ہو رہا تھا۔ مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اخوان کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لئے کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں 62 سیکیورٹی افسر مارے گئے تھے اور گزشتہ ایک سال کے دوران حملوں میں 275 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”وسیع پیمانے پر منظم ہلاکتوں کی نوعیت کے پیش نظر اور شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک پالیسی کا حصہ تھا، جس کے تحت زیادہ تر غیر مسلح مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا اور یہ ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں“۔

رپورٹ میں دنیا بھر کی حکومتوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ قاہرہ کی اس وقت تک فوجی امداد بند کردیں، جب تک وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لئے اقدامات نہیں کرتا۔رپورٹ میں اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مصر میں 30 جون 2013ءکے بعد مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کرے۔ پولیس اور فوج نے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمین کے ہزاروں کارکنون کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا، جس کے نتیجے میں مصر کی جدید تاریخ میں مظاہرین کے قتل عام کا بدترین سانحہ رونما ہوا تھا۔

مزید :

کالم -