منظور وٹو کا بیان.... ایک لطیفہ!

منظور وٹو کا بیان.... ایک لطیفہ!
منظور وٹو کا بیان.... ایک لطیفہ!
کیپشن:   1

  

سیاست اور سیاسی عمل کے دوران عموماً لطیفے بھی ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے اپنے پیشہ ¿ صحافت میں بھی کئی بار ہنسی کے مقام آ جاتے ہیں جیسے جمعرات کو ایک مقبول ٹی وی چینل پر ایک معقول سینئر رپورٹر نے جذباتی انداز اختیار کیا تو خود سوال کرنے والے اینکر بھی ہنس رہے تھے اور گھروں میں بیٹھے ناظرین بھی محظوظ ہو رہے تھے، اینکر نے دراصل سوال تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اس ہدایت اور اعلان کے بارے میں کیا تھا کہ لاہور میں کم از کم ایک لاکھ موٹر سائیکلوں کا جلوس نکلنا چاہئے۔ جب اینکر نے پوچھا تو رپورٹر جذباتی تھے، ان کو عام شہریوںکی پریشانی پر تشویش تھی، انہوں نے بڑے ہی سخت اور پُر زور لہجے میں کہا:”عمران خان نے یہ بیان دے کر بیڑہ غرق کر دیا ہے اور اب غریب آدمی اپنی اپنی موٹر سائیکل واپس لینے کے لئے پریشان ہیں جو پولیس نے عمران خان کے اعلان یا ہدایت کے بعد پکڑ کر بند کر دیئے تھے۔ رپورٹر کے لاہوری لہجے اور تلفظ کے ساتھ جذبات نے عجیب تاثر پیدا کیا۔ اینکر کو ہنسی آئی تو ناظرین بھی ہنستے چلے گئے تھے۔ بہرحال بات ختم ہوئی کہ اعلان کے مطابق موٹر سائیکلوں کا جو حشر ہوا وہ کوئی پوشیدہ عمل نہیں ہے“۔

ہم نے پہلے اپنے ہم پیشہ بھائیوں کی اس حالت کا ذکر کیا ہے تو ایک اہم سیاسی لیڈر کے ایک اور اہم ترین اعلان کا بھی کر دیتے ہیں جو معروضی حالات میں ملک کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔ بیان تو دو روز قبل چھپا، لیکن ہم دیگر امور کی وجہ سے اس طرف توجہ نہ دے سکے۔ اب یا د آیا تو سوچا اگر اس بیان پر بات نہ ہوئی تو جرم ہو گا کہ قوم کو اصل حالات بتائے بغیر معاملات نہیں سلجھیں گے۔

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ جاری ہے اور اس جماعت کے سربراہ کی تقریروں میں جو کچھ بھی کہا اور سنا جا رہا ہے۔ وہ وہی مطالبات ہیں جو پہلے ہی پیش کئے جا چکے ہوئے ہیں۔ ان میں مڈٹرم انتخاب بھی شامل ہے۔ ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان پیپلزپارٹی اس مطالبے کے خلاف ہے اور جمہوری نظام کو چلنے دینا چاہتی ہے۔ ان حالات اور پارٹی پالیسی کے دوران پیپلزپارٹی پنجاب (وسطی) کے صدر میاں منظور احمد وٹو مڈٹرم کے حمایتی نکلے اور انہوں نے برملا اعلان بھی کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی مڈٹرم انتخابات کے لئے تیار ہے۔

میاںمنظور احمد وٹو ایک زیرک سیاست دان ہیں، جو نچلی سطح سے ترقی پاتے ہوئے وزارت اعلیٰ تک پہنچے اور اب ان کے پاس سابق حکمران جماعت کا ایک اہم عہدہ بھی ہے، اس لئے ان سے یہ توقع نہیں کہ وہ ایسا بیان دیں۔ پھر بھی امکان تو بہرحال موجود ہے کہ اگر ان کے میڈیا آفس کی طرف سے بھی یہ بیان جاری ہوا تو بھی ان کی نظر سے تو ضرور گزرا ہو گا، کیا ان کو بیان کی اہمیت کا احساس ہوا یا نہیں؟

بہرحال میاں منظور احمد وٹو سے یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ2013ءکے انتخابات سے قبل اور مابعد پنجاب میں پارٹی پوزیشن کیا تھی اور پھر اس کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ان میں کسی پر بھی مسلم لیگ(ن) کے مقابلے میں پیپلزپارٹی نے کوئی امیدوار ہی کھڑا نہیں کیا اور یہ تاثر بناءکہ اب تو پیپلزپارٹی کو ادھار پر بھی امیدوار دستیاب نہیں ہوئے۔ اب تو میاں صاحب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ بھی موجودہ جمہوری بساط کے خلاف ہو گئے ہیں یا پھر انہوں نے پنجاب میں اتنا زیادہ تنظیمی کام کر لیا ہے کہ پارٹی پھر سے متحرک ہو گئی اور اب ٹکٹوں کے امیدوار ٹکٹ کے لئے سفارشیں ڈھونڈ رہے ہیں، ویسے میاں منظور 2013ءمیں خود بھی ہار گئے تھے۔

ہمارا خیال تو یہ ہے کہ میاں منظور وٹو نے بھی یہ بیان خود نہیں دیا، بلکہ ان کے میڈیا منیجر ان کی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تو لوکل باڈیز کے انتخابات تک نہیں ہوئے اور ضرورت ایسے قومی امور پر رائے دینے کی ہے۔ یہاں تو پارٹی پالیسی کے خلاف عمل کیا گیا ہے کیا ان سے کوئی پوچھنے والا ہے اور اگر یہ حرکت ان کے میڈیا منیجر کی ہے تو ان سے باز پُرس کی گئی؟ سوال پھر یہی پوچھا جا سکتا ہے کہ میاں صاحب! کیا آپ کے پاس پورے امیدوار بھی ہیں۔

مزید :

کالم -