ڈاکٹر عبدالمالک کی پیش کش پر غور کرلیں

ڈاکٹر عبدالمالک کی پیش کش پر غور کرلیں

  

بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ناراض بلوچوں کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کردی ہے، جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمہوریت صبر، برداشت اور تحمل کا نام ہے۔بلوچستان کے ناراض لوگوں کو یہ دعوت کسی حکمران نے پہلی مرتبہ نہیں دی، ڈاکٹر عبدالمالک نہ صرف خود یہ دعوت پہلے دے چکے ہیں بلکہ ان سے پہلے بھی وزرائے اعلیٰ نے یہ دعوت دی تھی لیکن بدقسمتی سے مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا، دنیا میں کوئی بھی مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے حتیٰ کہ دو ملکوں میں طویل جنگیں بھی ہوں تو بھی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں جن لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں انہیں یہ بات سمجھنے (اور سمجھانے) کی ضرورت ہے کہ اس طرح اُن کا نہ صرف کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، اس لئے عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ اُن کے جو بھی مطالبات ہیں وہ میز پر بیٹھ کر حل کر لئے جائیں۔ اگرچہ یہ کوئی آسان کام نہیں مگر حل اسی طرح نکل سکتا ہے۔ عبدالمالک بلوچ کوئی سردار نہیں ہیں انہیں وہاں کے عام آدمی کے مسائل سے ہمدردی اور دلچسپی ہے۔ وہ ان کے مسائل حل کرنے میں مخلص بھی ہیں لیکن یہ حل جنگ و جدل سے نہیں مکالمے اور دلیل سے ہوگا اس لئے جنہوں نے ہتھیار اٹھار رکھے ہیں وہ ڈاکٹر عبدالمالک کی پیش کش پر ٹھنڈے دل سے غور کرلیں۔

مزید :

اداریہ -