کپتان نے پاکستان کا سیاسی نظام شارٹ سرکٹ کردیا ہے،سیاست اور جمہوریت متاثر ہوگی

کپتان نے پاکستان کا سیاسی نظام شارٹ سرکٹ کردیا ہے،سیاست اور جمہوریت متاثر ...
 کپتان نے پاکستان کا سیاسی نظام شارٹ سرکٹ کردیا ہے،سیاست اور جمہوریت متاثر ہوگی
کیپشن:   1

  

اگرچہ وفاقی دارالحکومت میں موسلا دھار بارش سے گرمی کی حدت میں نمایاں کمی کے ساتھ موسم خوشگوار ہوگیا ہے لیکن آزادی اور انقلاب مارچوں کی بدولت سیاسی موسم کی شدت میں اضافہ برقرار ہے ،ایسا لگتا ہے کہ کپتان نے پاکستان کا سیاسی نظام شارٹ سرکٹ کردیا ہے ،اس کے اثرات پاکستان کی سیاست اور جمہوریت پر بری طرح اثر انداز ہونگے ۔لیکن یہ امر طمانیت کا باعث ہے کہ پاکستان کی سیاست کی تمام بالغ جمہوری طاقتیں ایک ساتھ کھڑی ہیں جبکہ جنرل (ر) پرویز مشرف ”حکمرانی“کے ان کے حمایت جمہوریت کی صفوں میں تو ضرور گھس گئے لیکن ان سیاسی قوتوں نے جمہوری نظام میں اپنی ”جداگانہ “حیثیت نہ صرف برقرار رکھی ہے بلکہ اس کا عملی مظاہرہ آزادی اور انقلاب مارچوں کے موقع پر نظر آرہاہے ،کپتان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملانے والے ڈاکٹر طاہرالقادری ،چوہدری برادران اور شیخ رشید جیسی شخصیات شامل ہیں ،جو آج بھی جنرل (ر) پرویز مشرف کی چھتری کے سائے تلے ایک ہیں ،پاکستان کی جمہوری سیاست میں عوام سے اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتاہے کہ یہاں انقلاب برپا کرنے اور نیا پاکستان بنانے والوں میں چوہدری برادران اور شیخ رشید احمد ،شاہ محمود قریشی ،شفقت محمود جیسی سیاسی شخصیات کپتان عمران خان اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہونگی ،جیسے کہ ان سیاسی شخصیات کو کبھی اقتدار نہیں ملا اور اگر ملا تو شائد انہیں پاکستان کی تعمیر کا ایجنڈا پورا کرنے کا موقع نہیں ملا ،یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 68سال سے حکمران اشرافیہ اور فوجی آمروں کے ہاتھوں استحصال ہونے والی بے کس عوام کے غصہ کو کس طرف موڑا جاسکتا ہے ،اگرچہ جمہوری نظام میں عوام اپنا غصہ انتخابات کے ذریعے ہی نکالتے ہیں ،اوراس عمل سے جمہور کا اپنی طاقت پر اعتماد بڑھتا ہے جس سے جمہوری نظام مستحکم ہوتا چلا جاتاہےء،لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ،اگرچہ تخت اسلام آباد پر آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے حملہ کے لئے انتخابات میں دھاندلی کو ایشو بنایا گیا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے الیکشن ڈے کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات پر ایک منتخب حکومت کو رخصت کرنے کی باتیں تو ہورہی ہیں اگر واقعی الیکشن ڈھاندلی کو پاکستان میں اصلاحات کے حوالے سے ایک پیمانہ مقرر رکرنا ہے تو پری پول رگنگ کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کو کیوں شنوائی نہیں ملی ،پاکستان بھر میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ خیبر پختونخواہ میں اے این پی ،ملک کے باقی پاکستان پیپلزپارٹی ،اور سندھ میں ایم کیو ایم کو طالبان کے حملوں کے نام پر انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا ،عام انتخابات سے قبل یہ تاثر عام تھا کہ دہشت گرد ی کے واقعات کو جواز بناکر مذکورہ سیاسی جماعتوں کا قافیہ تنگ کیا جا رہاہے ،جس کی وجہ سے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی ،سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ،پاکستان مسلم لیگ ن کی پاور بس پنجاب تک بالخصوص جی ٹی روڈ پر نمایاں تھی ،تاہم حکومت کی رخصتی کے لئے احتجاجی اور محاذ آرائی کی سیاست کرنے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے بھی مسلم لیگ ن کی ”پاور بیس“پر اپنی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ۔اگرچہ خیبر پختونخواہ میںپاکستان تحریک انصاف کو ملنے والی انتخابی کامیابی کو پاکستان مسلم لیگ ن نے خوش دلی سے تسلیم کیالیکن ایسا لگتا ہے کہ کپتان کو کسی نے ایسی یقین دہانی کرائی ہے کہ خیبر پختونخواہ میں اے این پی کے ساتھ ہونے والی مبینہ انتخابی دھاندلیوں پر توان کے کان پر جوں تک رینگی لیکن پنجاب کو انہوں نے اس حوالے سے نشانہ بنایا ہواہے جس کے نتیجہ میں انتخابات کے ڈیڑھ سال کے بعد ہی وہ اسلام آباد میں آزادی مارچ کے ہزاروں شرکاءکے ہمراہ دھرنا دیئے ہوئے ہیں ان کے آزادی مارچ سے قبل پاکستان عوامی تحریک کا اپنے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں انقلاب مارچ پہنچا ،اگرچہ پاکستان عوامی تحریک کو زیرو پوائنٹ سے پمز اور پاکستان تحریک انصاف کو آبپارہ پر دھرنے کی اجازت دی گئی ہے ،آبپارہ وفاقی دارالحکومت کا انتہائی حساس علاقہ ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی سرینا ہوٹل اورڈپلومیٹک انکلیو ہے ،تاہم یہ حساس عمارات آبپارہ سے ملحقہ ریڈ زون میں ہین ریڈ زون کو آہنی کنٹینروں سے مکمل طورپر سیل کردیا گیا ہے ۔ اگرچہ مظاہرین بارش کی بدولت اسلام آباد کے خوشگوار موسم کے مزے لوٹ رہے ہیں اگرچہ بارش موسم کی حدت اور حبس کے اعتبار سے ان کے لئے ایک طرف باران رحمت ہے تود وسری طرف ہزاروں کے مجمع میں ”ہائی جین“کی صورتحال ناگفتہ بہ ہونے کے باعث ہوکر باران زحمت بھی بن سکتی ہے ،جبکہ رات گئے مزید موصلادھار بارش سے متاثرین بارش سے بچنے کےلئے مختلف مارکیٹوں کا رخ کرکے برآمدوں میں پناہ لے رہے تھے ،وفاقی دارالحکومت میں دھرنوں کی بدولت باقی ماندہ شہر میں ایک ویرانی سی چھائی ہوئی تھی تمام بڑے شاپنگ ایریاز بند تھے صرف اشیائے ضروریہ کی دکانیںکھلی تھیں ،دھرنوں کے علاقوں کے علاوہ شہر کے باقی ماندہ حصوں میں ٹریفک بھی بہت کم تھی ،خدا بہتر جانتا ہے کہ ان دھرنوں کی مدت کیا ہوگی اور اس حوالے سے منتظمین نے صحت و ستھرائی کے حوالے سے کیا انتظامات کر رکھے ہیں ،دھرنے کے شرکاءکی صحت کے ساتھ ان کی حفاظت کے حوالے سے بھی بہت سے تحفظات ہیں،دھرنے کے قائدین سمیت حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان شرکاءکی صحت اور سلامتی کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے ۔حکومت نے اپنے اعلان کے مطابق آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے راستوں میں کہیں رکاوت ڈالی نہ دھرنے پر کوئی قدغن لگائی ،اب دھرنوں کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنوں کو تشدد پر اکسائیں نہ قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب دیں ،بالخصوص پاکستان عوامی تحریک کے کارکان نہ صرف ڈنڈا بردار ہیں بلکہ ان کی قیادت بھی انہیں بعض اوقات تشدد پر اکساتی ہے ،دوسری طرف حکومت کو بھی کسی بھی صورت صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے تاوقتیکہ عوامی امن عامہ کو سنگین خطرات لاحق نہ ہوں ،تاہم وفاقی دارالحکومت میں ریڈ زون میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح سر گرم ہیں ،پاکستان میں پنپنے والے اس سیاسی بحران کی بدولت امریکہ برطانیہ اور کئی مغربی ملکوں نے اپنے شہریوں کو پاکستان میں غیر ضروری سفر سے روک لیا ہے ،دریں اثنیٰ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کے حق میں بیان بھی جاری ہوا ہے ،تاہم کپتان اور طاہرا لقادری کے دھرنے حکومت کے لئے ایک اعصابی جنگ ہے ،اس لئے اسے پر امن رہنے کے لئے حکومت کو اپنے اعصاب قوی رکھنے ہونگے تاکہ جمہوریت اور حکومت کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہ ہوسکے ،اگرچہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اس بحران کے حل کے لئے پوری طرح سر گرم عمل ہیں اوران کا حکومت کو مشورہ صائب ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ کپتان کے ساتھ بات چیت کے عمل کا آغاز کیا جائے تاکہ ٹکراﺅ یا ڈیڈ لاک کی شکل میں کسی ریفری کو مدعو کرنے کا موقع نہ بنے ،کپتان نے عوام کو متحرک تو ضرور کیا ہے لیکن اس کے ذریعے انہوں نے کیا مقاصد حاصل کرنے ہیں ابھی تک ایک معمہ ہے کیونکہ وزیراعظم محمد نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ تو بہت حد تک سیاسی ہی نظر آرہاہے ،اگرچہ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تمام ادارے آئین اور قانون کے تحت رہیں ۔اگرچہ ”رولنگ “ بہت اہم ہے لیکن زمینی حقائق کے مطابق ایک سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے تمام فریقین کے لئے ایک قابل قبول اور قابل عمل فارمولا تشکیل دینا نہایت ضروری ہے ،حکومت کو اس حوالے سے پہل کرنی چاہئے تاکہ بحران کو ٹالنے ”تھرڈ ایمپائر“کی ضرورت نہ پڑے کپتان کے دھرنے اور مطالبے کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جارہاہے کہ عمران خان پاکستان کی فیڈریشن کے حوالے سے ایک اہم اقدام صوبوں اور وہاں کی سیاسی قوتوں کو آن بور ڈلیئے بغیر تن تنہا ءکیوں کررہے ہیں ،کپتان کو اگر جی ٹی روڈ سے کوئی سیاسی حمایت میسر بھی ہے توصرف اس پر تکیہ کرتے ہوئے فیڈریشن کی باقی اکائیوں کو نظر انداز کرکے وفاق کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار اُنہیں کس نے دیا ۔

مزید :

صفحہ اول -