وزیراعظم پاکستان کے کرنے کے کام

وزیراعظم پاکستان کے کرنے کے کام
وزیراعظم پاکستان کے کرنے کے کام

  

یہ خوشی کی بات ہے کہ تیسری بار منتخب ہونے والے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ایک ترقی پسند سیاست دان ہیں۔ یہ وہی میاں نواز شریف ہیں، جنہوں نے مالی مشکلات کے باوجود لاہور والا موٹر وے کا منصوبہ جنگی بنیادوں پر مکمل کیا تھا۔ یہ بات یاد رکھنی پڑے گی کہ کسی بھی ملک کی معاشی اور اقتصادی ترقی کے لئے ذرائع آمد و رفت کا وہی رشتہ ہوا کرتا ہے جو روح اور جسم کا ہوتا ہے۔ اگر روح اُڑ جائے تو جسم گوشت اور ہڈیوں پر مشتمل ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ اگر کسی ملک میں جدید ذرائع آمد و رفت نہ ہوں گے تو وہ ملک کبھی بھی جدید ترین دنیا میں شامل ہونے کا سوچ نہ سکے گا۔ دنیا میں سب سے پہلے جرمنی نے موٹر ویز کے نظام کو شروع کیا تھا۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے جرمنی دنیا کی اول درجے کی طاقتوں میں شامل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد یورپ، امریکہ اور جاپان وغیرہ میں جدید ترین موٹر ویز کا جال بچھ گیا تھا۔ اگر ہم پاکستان کو دنیا کے پسماندہ ممالک کی صف سے باہر نکالنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے بلوچستان، سندھ،پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے کونے کونے تک موٹر ویز کو تعمیر کرنا ہوگا۔ ہمیں اس منصوبے کو تین سال کے عرصے میں مکمل کرنا پڑے گا۔ ایسے کیا جانا بالکل ممکن ہے۔ پاکستان کی لمبائی لنڈی کوتل سے لے کر گوادر بندرگاہ تک تقریباً 3 ہزار میل بن جاتی ہے اس لمبائی کو کم از کم دس حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس طرح 300 میل کے ہر حصے پر ایک ہی وقت میں کام شروع ہوگا۔ اس کام کے مکمل ہوتے ہی پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں جہالت کو دشمن تسلیم کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا اعلان بھی کرنا ہوگا۔ جہالت کی وجہ سے ہی ہم بہت سی برائیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس ترقی کے دور میں بھی ہمارے ملک میں اب بھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو تعلیم کو شجر ممنوعہ تصور کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی اور جہالت ہو سکتی ہے۔ قرآن پاک، اللہ تعالیٰ کے الفاظ پر مشتمل کتاب ہے۔ قرآن کو پڑھنا اور لکھنا بذات خود تعلیم کی ابتداءاور بنیاد ہے۔ تعلیم کے بغیر ہم کیسے قرآن کو پڑھ اور لکھ سکیں گے اوراس کے اندرونی معانی پا سکیں گے۔ جب ہم جدید علوم کو حاصل کریں گے تو صرف اس وقت ہی ہم قرآن پاک کی روح کو سمجھ سکیں گے۔ عربی زبان کو اچھی طرح سمجھنا کوئی معمولی کام نہ ہے۔ ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں۔ عربی زبان میں جلد مہارت حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے آسان کام ہے اور ضروری بھی ہے۔ اَن پڑھ لوگ بھی عربی زبان میں نازل قرآن کو اچھی طرح سے پڑھ لیتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم قرآن کا مطلب اور اس کے معنی کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ عربی کے علاوہ ہمیں فارسی زبان کو بھی سیکھنا ہوگا۔ فارسی زبان دنیا کی انتہائی اہم زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایرانی ہمارے ہمسائے اور مسلمان بھائی ہیں۔ ایران وہ واحد ملک ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل اوقات میں ساتھ دیا ہے۔

میری اپنی سوچ کے مطابق ہماری پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے۔ کتنے دُکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ قوم کے کروڑوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم چلے آ رہے ہیں اور وہ آوارہ گلیوں اور بازاروں میں پھرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں بالغان اب بھی کروڑوں کی تعداد میں ان پڑھ پاکستان کے کونے کونے میں موجود پائے جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ حکمرانوں کے پاس جہالت کو سرزمین پاکستان سے ختم کرنے کا کیا پروگرام ہے؟ وزیراعظم سب سے پہلے پاکستان سے 100 فیصد جہالت کو ختم کرنے کا اعلان کریں۔ قانون بنائیں جس کے تحت قوم کا کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ سکے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ملک کے کونے کونے میں لاکھ جدید سکول کھولنے کی ضرورت ہوگی۔ اس مد پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے قومی بجٹ میں کم از کم 5 سے 7 فیصد رقوم رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ جہالت کے خلاف یہ ایک جہاد کا مقدس منصوبہ ہوگا۔ اس جہاں میں ہر پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو تیار بیٹھا ہے۔ پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم کو رائج کرنا ہوگا۔ ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ آج تک دنیا میں کوئی بھی ملک سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو حاصل کئے بغیر ترقی نہیں کر سکا۔ موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں جماعت اول ہی سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو پڑھانے کا بندوبست کرنا ہی ہوگا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا موجودہ زمانے کی ترقی سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دیکھیں ہمیں قرآن پاک بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اسی سوچ کی بدولت ہی آج کا انسان ہر میدان میں بے حساب ترقی کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس سوچ کے میدان میں دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم سب”من حیث القوم“ سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف بھرپور توجہ دینے کا اعلان کریں گے دیکھتے ہی دیکھتے جدید علوم کے حاصل کرنے کے ساتھ ہی ہم ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔ چین کی مثال کی ہمیشہ سامنے رکھیں کہ کس طرح اس نے سائنس کی بدولت حیرت انگیز حد تک ترقی کر لی ہے۔

 ہمارے رہنما زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے ذاتی خرچ پر چین اور اس جیسے اور ملکوں کا تعلیماتی دورہ کریں۔ پھر چینی قوم جیسے جذبے اور عزم کے ساتھ پاکستان کی تعمیر میں لگ جائیں۔ تعمیراتی کاموں میں جو لوگ کرپشن اور بدعنوانی کرتے ہوئے پائے جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ سزائیں دینے کا قانون بنانا ہوگا۔ کرپشن کی سزا موت یا عمر قید رکھیں۔ یہ دنیا کے کئی ایک ملکوں میں اس طرح کی سخت سزائیں کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کو دی جا رہی ہیں۔ ان ملکوں میں بہت حد تک کرپشن ختم ہوگئی ہے۔ ملک کے تمام گاو¿ں کو شہروں کے ساتھ پختہ سڑکوں سے جوڑ دیا جائے۔ تعلیم بالغاں کے سنٹر بھی کھولے جائیں۔ تحریک آزادی کشمیر کو نئے جذبے اور جوش سے پُرامن فضا میں ساری دنیا میں چلانا پڑے گا۔ کشمیر میں پاکستان کی جان ہغ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں شاندار ترقی بذاتِ خود کشمیر کی بھارتی غلامی سے نجات دلانے میں کارگر ثابت ہوگی۔ ہر پاکستانی کو اس سچے اور پکے قومی نعرے کا علم ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اگر آپ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں تو ان گرمی کے دنوں میں کچھ پنجاب کے اضلاع جھنگ، سرگودھا، بہاولپور وغیرہ کا دورہ کریں اور آپ آسانی سے کروڑوں پیاسے اور گرم ہواو¿ں سے ستائے ہوئے پاکستانیوں سے ملاقات کر سکیں گے۔ وہاں پانی کی کمی کربلا کا سماں پیدا کرتی ہے۔ میں نے ان علاقوں کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اگر اس کو قیامت صغرا کا نام دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ وزیراعظم ان علاقوں کا جلد از جلد دورہ کریں اور وہاں پیاسے لوگوں اور جانوروں کی حالت زار کو دیکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب وزیراعظم ان متاثرہ لوگوں کو دیکھیں گے تو خود بخود ان کی آنکھوں سے آنسوو¿ں کی لہریں چل پڑیں گی اور وہ وہاں ریسٹ ہاو¿س میں پہنچ کر صدمے کی بدولت لنچ نہ کھا سکیں گے۔ اس کا علاج مجھے یہی نظر آتا ہے کہ جلد از جلد کالا باغ ڈیم بنایا جائے اور اس علاقے کو ایک نہر سے جوڑ دیا جائے:

جمع کر لو پانی کا قطرہ قطرہ

ہوگا اس سے ختم قحط کا خطرہ

      (کلام افراسیاب)   ٭

مزید :

کالم -