خون کی گرمی

خون کی گرمی

ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا،سب خاص و عام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔بادشاہ کے تخت کے سامنے ایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔وزیر ، مشیر اور امرا سب دربار میں تھے ، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔پھر ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔اجازت مل گئی تو اس نے کہا "میرے پاس دو اشیاء ہیں ، میں ہرملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اوراپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا ، تمام ہارچکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کرلوٹتا ہوں "اب آپ کے ملک میں آیا ہوں۔بادشاہ نے کہا "کیا اشیاء ہیں ؟"تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔وہ دونوں اشیاء دیکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک رکھتی تھیں گویا یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں، لیکن ہیں مختلف۔ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں ، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کون سا ہے اور کون سا شیشہ ؟اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پاتا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔

بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا ، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے، کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے، لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا ، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا، کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اْن کی سْبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔آخر کارایک ہلچل ہوئی۔ ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا ، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا۔ اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ویسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں ،لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے، تاکہ میں بھی ایک بار اپنی ذہانت جانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔بادشاہ نے سوچا کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھو نے کے لئے دے دی گئیں اور پوچھا گیا ،اس میں کون سا ہیرا ہے ؟اور کون سا شیشہ؟یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔

اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔جو آدمی اتنے ملکوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا"ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا "تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کون سا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں ، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا۔جو ٹھنڈا رہا وہ ہیراجو گرم ہو گیا وہ شیشہ اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے وہ ہیرے کی مانند ہے،جبکہ ہمارے خون میں اتنی گرمی ہے کہ ہم معمولی بات پر اگلے بندے کا خون پینے تک تیار ہوجاتے ہیں برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے آئے روز چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے لوگ قتل ہورہے ہیں۔ قتل کرنے والا تو سزا بھگتے گا ہی مگر اسکے گھر والے بھی دن رات جیتے اور مرتے ہیں لوگوں کے تلخ رویوں کو برداشت کرنا ،تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا کمزوری اور بزدلی کی نشانی نہیں بلکہ بڑے پن کا مظاہرہ ہوتاہے اور وہ انسان نہایت ہی عظیم ہوتا ہے جو اپنے خون کی گرمی کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرے دوسروں کی مشکلات کو کم کرے، مگر ہم الٹا کام کرتے ہیں خوشیوں کو اپنے تک محدود رکھتے ہیں،جبکہ غموں اور دکھوں کو دوسروں تک پھیلانا چاہتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارے بزرگ کسی باادب ،انتہائی ٹھنڈے مزاج اور دوسروں کی کڑوی کسیلی باتوں کو برداشت کرنے والے بچے کو ہیرا بچہ پکارتے تھے، مگر آج ہمارے نوجوانوں سمیت بچے اور بڑے سب کے خون میں گرمی بڑھ چکی ہے بعض دوست تو ایسے بھی ہیں جو کسی کا مذاق بھی برداشت نہیں کرتے ہماری جیلوں میں اکثریت ایسے قیدیوں کی ہے جنہوں نے غصہ میں آکر کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کردی کہ قانون کی گرفت میں آگئے ایسی غلطیاں جو انسان غصہ اور خون میں گرمی کی وجہ سے ایک بار کربیٹھتا ہے اس پر ساری عمر پچھتاتا رہتا ہے ہمارے مذہب نے غصہ کو حرام قرار دیا، مگر ہم پھر بھی اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑا غصہ نکالتے ہیں انسان کو ہیرے کی طرح اپنے دل ،دماغ اورخون کوٹھنڈا رکھنا چاہیے غصہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر بعد میں پچھتاوا ساری عمر کا بن جاتا ہے اس لئے والدین ،اساتذہ ،بہن بھائی ،یار دوست اور محلے داروں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اوراردگرد بسنے والوں کو اپنے جذبات ٹھنڈے رکھنے کا سبق دیتے رہیں بڑوں کو اپنے غصے پر کنٹرول رکھ کر بچوں کے لئے ایک نمونہ بننا چاہیے، تاکہ ہمارا آنے والا کل پر سکون اور بغیر کسی جھنجٹ کے گزر سکے۔

مزید : کالم


loading...