دین و دنیا یعنی امت وسط مفسرین کی نظر میں

دین و دنیا یعنی امت وسط مفسرین کی نظر میں

  

اُمتِ وسط کا ذکر قرآن حکیم کی سورہ البقرہ آیت نمبر 143 میں ہے جس کا ترجمہ ”اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو اُمتِ معتدل کہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر اور رسولؐ ہو تم پر بتانے والا“ یہ ترجمہ تفسیر معارف القرآن مولانا محمد ادریس کاندھلوی سے لیا گیا ہے۔ اس کی تعبیر میں لکھتے ہیں کہ اُمتِ محمدیہ تمام اُمتوں پر فضیلت رکھتی ہے اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔ اسی طرح ہم نے تم کو اُمتِ وسط بنایا کہ جو اخلاق اور اعمال اور عقائد کے اعتبار سے متوسط اور معتدل ہے۔ افراط اور تفریط کے درمیان میں واقع ہے گویا یہ اُمت اپنے کمال توسط اور کمال اعتدال کے اعتبار سے حلقہ امم کے درمیان عین مسند پر بیٹھی ہوئی ہے اور تمام اُمتیں اطراف و جوانب سے اس کی جانب متوجہ ہیں اور ہم نے تم کو اس توسط اور اعتدال کی فضیلت اس لئے عطا کی تاکہ تمہاری عدالت اعلیٰ وجہ الکمال ثابت ہو جائے اور قیامت کے دن تم لوگوں پر گواہ بن سکو۔ اس لئے کہ شہادت کے لئے عدالت شرط ہے اور جب تم کامل بعدالت ہو گئے تو ٹھیک شہادت دے سکو گے۔ کمال اعتدال کی وجہ سے کسی ایک جانب تمہارا میلان نہ ہوگا اور تمہاری شہادت حق ہو گی اور طرفداری کے شائبہ سے پاک ہو گی۔قیامت کے دن حق تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا اور گزشتہ اُمتوں کے کافروں سے خطاب فرمائے گا کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر یعنی ڈرانے والا نہیں آیا، وہ صاف انکار کریں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔

جس سے ہم کو تیرے احکام کی اطلاع ہوتی اللہ تعالیٰ انبیاء کرام سے دریافت فرمائیں گے، تمام انبیاء کرام متفق اللفظ یہ عرض کریں گے کہ اے اللہ ہم تیرے احکام کو پہنچا چکے،یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہیں اس کو سب معلوم ہے مگر اتمام حجت کے لئے انبیاء کرام سے گواہ طلب کریں گے۔ حضرات انبیاء کرام اپنی گواہی میں، اُمتِ محمدیہ کو پیش کریں گے۔اُمم ِ سابقہ کے کفار کہیں گے کہ ان کو کیا معلوم یہ تو ہم سے قرنہا قرن بعد میں آئے۔ اُمتِ محمدیہ یہ جواب دے گی اگرچہ ہم ان کے بعد آئے، مگر ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے معلوم ہو گیا کہ تمام انبیاء کرام نے اپنی اپنی اُمتوں کو اللہ کے احکام پہنچا دیئے اور شہادت کے لئے علم قطعی اور یقینی کافی ہے۔خاص مشاہدہ ضروری نہیں اور نبی کی خبر مشاہدہ سے ہزار درجہ قطعی اور یقینی کافی ہے۔ مشاہدہ میں غلطی کا امکان ہے۔ نبی کی خبر میں غلطی کا امکان نہیں۔اس لئے نبی نبا سے مشتق ہے اور وقت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جائے گا اور آپؐ سے آپؐ کی اُمت کی اس شہادت کے متعلق دریافت کیا جائے گا تو اے اس اُمت کے مسلمانو! اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہوں گے اور تمہاری عدالت اور صداقت کی شہادت دیں گے تو پھر تمہاری شہادت کے مطابق حضرات انبیاء کرام کے حق میں فیصلہ ہو گا اور کفار مجرم قرار دیئے جائیں گے۔

اس اُمت کو متوسط اس معنی میں فرمایا کہ یہ اُمت عقائد، اعمال اور اخلاق کے اعتبار سے معتدل ہے۔ افراط و تفریط کے درمیان ہے۔ بر خلاف یہود کے وہ تفریط میں مبتلا ہیں۔ حضرات انبیاء کرام کی تنقیص کرتے ہیں۔ان کو معصوم نہیں سمجھتے جو کہ نبوت کا خاصہ لازم ہے اور نصاریٰ افراط میں مبتلا ہیں کہ اپنے نبی کو مرتبہ بندگی سے درجہ ئ فرزندی پر پہنچایا اور توسط اور اعتدال ہی بالا جماع عقلاء اعلیٰ درجہ کا کمال ہے۔ اسی لئے علماء کرام نے اس آیت سے اُمتِ محمدیہ کے اجماع کے حجیت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ کیونکہ اس اُمت کے اجماع کو نہ قبول کرنا اس عدالت سے عدول کرنا ہے امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اُمتِ محمدیہ کے وسط (درمیان) میں ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ اُمت،انبیاء کرام، اولیا کرام کے درمیان ہے۔ انبیاء کرام سے نیچے اور اولیا کرام سے اوپر۔ چونکہ اس خطاب کے بالذات مخاطب صحابہ کرامؓ ہیں اس لئے اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام کا مقام انبیاء کرام سے نیچے اور تمام اولیاء کرام سے بلند اور اونچا ہے۔

مولانا شبیر احمد عثمانی ؒتفسیر عثمانی میں رقمطراز ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کی اہم ترین فضیلت یعنی تمہارا قبلہ کعبہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ کا قبلہ اور تمام قبلوں سے افضل ہے۔ ایسا ہی ہم نے تم کو سب اُمتوں سے افضل اور تمہارے پیغمبرؐ کو سب پیغمبروں سے کامل برگزیدہ کیا تاکہ تم اس فضیلت اور کمال کی وجہ سے تمام اُمتوں کے مقابلہ میں گواہ مقبول شہادت قرار دیئے جاؤ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری عدالت اور صداقت کی گواہی دیں۔ جیسا کہ احادیث میں وارد ہے کہ جب پہلی اُمتوں کے کافر اپنے پیغمبروں کے دعوے کی تکذیب کریں گے اور کہیں گے کہ ہم کو کسی نے بھی دنیا میں ہدایت نہیں کی۔ اس وقت آپؐ کی اُمت، انبیاء کرام کے دعویٰ کی صداقت پر گواہی دے گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنے اُمتیوں کے حالات سے پورے واقف ہیں۔ان کی صداقت و عدالت پر گواہ ہوں گے اس وقت وہ اُمتِیں کہیں گی کہ انہوں نے تو نہ ہمارا زمانہ پایا نہ ہم کو دیکھا پھر گواہی کیسے مقبول ہو سکتی ہے؟اس وقت آپؐ کی اُمتِ جواب دے گی۔

وسط یعنی معتدل کا یہ مطلب ہے کہ یہ اُمتِ ٹھیک سیدھی راہ پر ہے جس میں کچھ بھی کسی کا شائبہ نہیں اور افراط تفریط سے بالکل بری ہے۔

تفسیر ضیاء القرآن میں پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ جیسے ہم نے قبلہ کے معاملہ میں تمہیں راہِ راست اختیار کرنے کی توفیق بخشی،اسی طرح ہر معاملے میں تمہیں اُمت ِ وسط“ بنایا، وسط کا لفظ قابل غور ہے۔ اس کے معنی ہیں درمیان ہر چیز کا درمیانی حصہ ہی اس کا عمدہ ترین حصہ ہوا کرتا ہے۔ انسان کی زندگی کا درمیانی عرصہ عہد شباب اس کی زندگی کا بہترین وقت ہے دین کے درمیان کا حصہ دوپہر میں روشنی اپنے نقطہ عروج پر ہوتی ہے۔ اسی طرح اخلاق میں میانہ روی کو سخاوت، بزدلی اور طیش کے درمیانی حال کو شجاعت کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُمتِ محمدیہ کو اس عظیم المرتبت خطاب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے عقائد کی شریعت اور ان کے نظام اخلاق، سیاست اور اقتصاد میں افراط و تفریط کا گزر نہیں۔ یہاں اعتدال ہے، توازن ہے، موزونیت ہے۔جب مسلمانوں کو اپنے عظیم منصب کا پاس تھا، اس وقت ان کا ہر قول اور فعل آئینہ تھا اس ارشادِ ربانی کا۔ لیکن آج تو ہم یوں بگڑ چکے ہیں کہ قرآن میں جس اُمت کے محاسن بیان کئے گئے ہیں۔

ہم پہچان ہی نہیں سکتے کہ وہ ہم ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرمائے۔ آمین! اُمتِ محمدیہ گواہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس کا ہر قول ہر فعل اس کی انفرادی اور اجتماعی خوشحالی اس کی سیرت کی پختگی اور اس کے اخلاق کی بلندی، ہر چیز اسلام کی صداقت پر گواہی دے رہی ہے اور قیاُمتِ کے روز جب اگلے پیغمبروں کی اُمتِیں اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کریں گی کہ ہمیں کسی نے تیرا پیغام ہدایت نہیں پہنچایا تو اس وقت اُمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے گی کہ یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام حرف بحرف پہنچا دیا تھا اور جب ان پر اعتراض ہوگا کہ تم اس وقت موجود نہ تھے، تم گواہ کیسے بن گئے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اے اللہ! تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ تیرے رسولوں نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کی صداقت و عدالت کی گواہی دیں گے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اُمتیوں کے حالات سے پورے واقف ہیں۔چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز اپنی تفسیر فتح العزیز میں تحریر فرماتے ہیں۔ ترجمہ: تمہارا رسولؐ تم پر گواہی دے گا کیونکہ وہ جانتے ہیں اپنی نبوت کے نور سے اپنے دین کے ہر ماننے والے کے رتبہ کو کہ میرے دین میں اس کا کیا درجہ ہے؟ اور اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ اور وہ کونسا پردہ ہے جس سے اس کی ترقی رکی ہوئی ہے۔ پس وہ تمہارے گناہوں کو بھی پہچانتے ہیں۔ تمہارے ایمان کے درجوں کو تمہارے نیک اور بد سارے اعمال کو اور تمہارے اخلاص اور نفاق کو بھی خوب پہچانتے ہیں۔

بہر کیف اس اُمت کو اُمتِ وسط یا اُمتِ معتدل بنایا ہے اعتدال تو اُمتِ محمدیہؐ کی خاص صفت ہے۔ اس تصور اسلام کو اجاگر کرنے اور عوام تک پہنچانے کے لئے بہترین فورم مساجد ہیں۔ جمعتہ المبارک کے خطبہ میں اس تصور کو عام کیا جائے تو نہایت ہی قلیل عرصہ میں اس تصور اسلام کو عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس اُمتِ وسط یا اُمتِ معتدل کو زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال کا لانا ہے۔ خواہ عبادات ہوں یا دنیوی معاملات دین و دنیا دونوں برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی ایک طرف جھکاؤ ہوگا تو زندگی کے توازن کو قائم رکھنا ممکن نہ ہوگا جس کے لئے مؤثر تعلیم و تدریس اور تربیت کا ہونا لازم ہے۔ انہی تصورات کو نصابی کتب میں شامل کیا جائے تاکہ دین و دنیا کا صحیح مفہوم اور اُمتِ معتدل کا صحیح تصور ابھر کر سامنے آ سکے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -