فحاشی، ماہر نفسیات اور ٹیلی ویژن مذاکرہ

فحاشی، ماہر نفسیات اور ٹیلی ویژن مذاکرہ
 فحاشی، ماہر نفسیات اور ٹیلی ویژن مذاکرہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کام پر جانے کے لئے مجھے روزانہ50کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ جس بس میں دفتر آنا جانا ہوتا ہے۔ اُس میں بہت سے ایسے افراد ہوتے ہیں جو میری طرح روزانہ سفر کرتے ہیں۔جس طرح تمام شعبوں میں اکٹھا کام کرنے والے آپس میں پیٹی بھائی بن جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا جائز ناجائز ساتھ دینے کو بددیانتی نہیں سمجھتے ،بلکہ عین ایمانداری تصور کرتے ہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کی دوستی زیادہ ہوتی ہے ،وہ ساتھ ساتھ بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ گپ شپ ہوتی رہے اور سفر آرام سے کٹ جائے۔میرے ساتھ بھی روزانہ ایک ایسے ہی صاحب سفر کرتے ہیں، جن سے میری کافی انڈر سٹینڈنگ ہوچکی ہے۔آج صبح وہ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تو چہرے سے کافی پریشان لگ رہے تھے۔وجہ پوچھی تو خاموش رہے بلکہ جس طرح ہم سب خیریت دریافت کرنے والے کو کہتے ہیں کہ اﷲ کا شکر ہے،ٹھیک ٹھاک ہوں گے کہ ٹھیک ٹھاک والی کوئی بات نہیں ہوتی۔اِسی طرح احسان صاحب بھی زور دار آواز میں کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں۔ٹھیک ٹھاک ہوں۔پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

جس طرح ہم جتنے زیادہ پریشان ہوں، اتنی ہی زور دار آواز میں ٹھیک ٹھاک کہتے ہیں۔اِسی طرح احسان صاحب بھی معمول کی آواز سے بھی بلند آواز میں ٹھیک ٹھاک کے الفاظ ادا کرتے تھے جوبظاہر ایک طرح کی ایکٹنگ تھی۔ایکٹنگ مَیں اِس لئے کہہ رہا ہوں کہ احسان صاحب حقیقت میں پریشان تھے اور قطعی طور پر ٹھیک ٹھاک نہیں تھے ۔جیسا کہ بعد میں اُ ن کی حرکات اور طرز عمل سے واضح ہوا۔ میری عادت ہے کہ مَیں سفر میں سونے کی کوشش کرتا ہوں۔اِس طرح وقت ضائع نہیں ہوتا اور نیند بھی پوری ہوجاتی ہے۔مَیں ابھی سونے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ احسان صاحب نے گاڑی سے باہر اشارہ کیا اور مجھے بازو سے جھنجھوڑ کر کہنے لگے کہ وہ دیکھو کیا ہے؟ مَیں نے باہر دیکھا تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا ،لیکن احسان صاحب نے دوبارہ مجھے جھنجھوڑنا شروع کردیا اور تقاضا کیا کہ مَیں باہر دیکھوں۔مَیں نے دوبارہ باہر دیکھا تو کچھ بھی نہیں تھا۔بس ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی آپس میں باتیں کررہے تھے۔دونوں دیکھنے میں طالب علم لگتے تھے اور ہوسکتا ہے کہ کلاس فیلوز بھی ہوں ۔جب مَیں نے احسان صاحب کی بات پر توجہ نہ دی تو احسان صاحب بڑے جذباتی انداز میں گویا ہوئے اور فرمانے لگے کہ مجھے شرم آنی چاہیے اور مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ باہر کیا ہورہا ہے۔مَیں نے احسان صاحب کی زبان سے اِس طرح کے الفاظ پہلے کبھی نہیں سنے تھے۔مَیں یہ الفاظ سُن کر کافی حیران اور پریشان ہوا۔ لیکن احسان صاحب نے پھر بھی میری جان نہیں چھوڑی اور فرمانے لگے کہ مَیں تمہیں کچھ دکھا رہا ہوں اور تم دیکھنے سے انکاری ہو۔مَیں نے احسان صاحب کو غصے سے گھورا اور کہا”تو پاگل ہوگیا ہے۔باہر کچھ بھی نہیں،آخر میں دیکھوں تو کیا دیکھوں“میری بات سُن کر احسان صاحب کو بھی غصہ آگیا اور فرمانے لگے کہ بے وقوف میں وہی تو تمہیں دکھانا چاہتا ہوں، جس کا اِن دنوں بہت چرچا ہے۔مَیں نے احسان صاحب کی طرف غصے سے دیکھا اور اُن کی ذہنی حالت پر مجھے شبہ ہوا کیونکہ احسان صاحب مجھے کچھ دکھانا چاہتے تھے جبکہ مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ دوسری طرف احسان صاحب مجھے سونے بھی نہیں دیتے تھے۔مَیں غصے میں اپنی سیٹ سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔میر ا خیال تھا کہ مَیں اپنی سیٹ تبدیل کرلیتا ہوں،لیکن احسان صاحب بھی میری جان چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔احسان صاحب بھی سیٹ سے کھڑے ہوگئے۔مَیں پہلے سے ہی کھڑا تھا۔ مَیں سیٹ تبدیل کرنا چاہتا تھا، لیکن احسان صاحب مجھے ایسا کرنے سے روک رہے تھے۔ہم دونوں بیوقوفوں کی طرح سیٹ کے ساتھ کھڑے جھگڑا کررہے تھے اور پوری بس ہمارا تماشا دیکھ رہی تھی۔احسان صاحب مجھے آگے نہیں جانے دے رہے تھے تو مَیں نے سوچا کہ پوری بس ہمارا مذاق اُڑا رہی ہے ۔اِس لئے مجھے ہی عقل سے کام لینا چاہیے۔ یہ سوچ کرمَیں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ بیٹھ کر مِیں نے پیار محبت اور آہستہ آہستہ احسان صاحب سے کہا کہ یار کیوں تماشا بن رہے ہو۔پوری بس ہمیں دیکھ رہی ہے۔آہستہ سے بتاﺅ آخر تمہیں کیا نظر آرہا ہے جو مجھے نظر نہیں آرہا؟ مَیں نے بات آہستہ اور پیار سے کی تھی،اِ س لئے احسان صاحب نے بھی میرے کان میں سرگوشی کی ۔ یار بُرا نہ مناﺅ۔ مَیں تمہیں فحاشی دکھانا چاہتا ہوں۔باہر دیکھو، ہر طرف فحاشی اور عریانی نظر آرہی ہے۔مَیں نے احسان صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ احسان صاحب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب تمہارا وہم ہے۔”وہم ہے“.... احسان صاحب دوبارہ سنجیدہ ہوگئے ۔اچھا یہ وہم ہے تو پھر وہ لڑکا اور لڑکی کیا کرنے والے تھے۔مَیں نے کہا، بھائی کچھ بھی نہیں۔ وہ طالب علم تھے اور سکول یا کالج جارہے تھے۔لاحول ولاقوة پڑ ھ کر احسان صاحب کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے۔اُن کی زبان خاموش ہوگئی تھی، لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئے تھے۔مَیں نے دوبارہ سونے کی کوشش کی تو احسان صاحب دوبارہ مجھے جھنجھوڑنے لگے:”وہ دیکھو،کیا ہونے جارہا ہے“؟ مَیں نے باہر دیکھا تو ایک موٹی خاتون نے گلے میں دوپٹہ ڈالا ہوا تھا اور ایک مریل سا انسان اُس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔شاید دونوں میاں بیوی تھے۔ ایک گھنٹے کے سفر میں احسان صاحب نے مجھے آج جتنا پریشان کیا، پوری زندگی میں کسی نے بھی اتنا نہیں کیا تھا۔مَیں جب بھی سونے لگتا، احسان صاحب مجھے زور سے جھنجھوڑتے اور وہی فقرے دہرانے لگتے۔ مَیں باہر دیکھتا تو میرے مطابق سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا، لیکن احسان صاحب کو فحاشی اور عریانی کے مناظر نظر آنے لگتے۔

مجھے احسان صاحب کے اِس رویے پر کافی حیرانی ہوئی اور چونکہ میری اُن سے دوستی کافی پرانی ہے۔اِس لئے مَیں نے سوچا کہ دفتر جانے کی بجائے مَیں احسان صاحب کا کہیں معائنہ کروا لوں تاکہ اِس بات کا تو پتہ چلے کہ آخر احسان صاحب کا مسئلہ کیا ہے کہ وہ اچانک خلاف معمول گفتگو کرنے لگے ہیں اور اُنہیں قدم قدم پر فحاشی اور عریانی نظر آنے لگی ہے۔ایک ہسپتال میں میرے ایک دوست ڈاکٹر ہیں جو ماہر نفسیات ہیں۔مَیں احسان صاحب کو بہلا پھسلا کر اُس ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور اُنہیں صورت حال سے آگاہ کیا۔ڈاکٹر صاحب نے سونے سے پہلے احسان صاحب کے معمولات کے بارے میں استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ احسان صاحب نے رات کو سونے سے پہلے ایک ٹیلی ویژن چینل پر عریانی اور فحاشی کے بارے میں ایک مذاکرہ دیکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو جب معلوم ہوا کہ احسان صاحب نے وہ ٹیلی ویژن مذاکرہ دیکھا تھا، جس میں دو معروف کالم نگار جو صرف ٹیلی ویژن پر ایک دوسرے کے خلاف بولتے ہیں۔عریانی اور فحاشی پر گفتگو کررہے تھے۔ ایک صاحب کو ہر چیز میں فحاشی نظر آرہی تھی اور دوسرے صاحب کو فحاشی کا نام ونشان بھی نہیں مل رہا تھا تو میرے دوست ماہر نفسیات نے زوردار قہقہہ لگایا اور فرمانے لگے کہ احسان صاحب آپ انتہائی احمق انسان ہیں۔ احسان صاحب نے احمق کہنے پر غصہ کیا تو ماہر نفسیات نے کہا کہ آپ اکیلے نہیں، دراصل ہم سب احمق ہیں جو اِن مذاکروں کو سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہیں ، جنہوں نے پوری قوم کو نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔مَیں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ جناب آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے میری طرف دیکھا اور پھر احسان صاحب کی طرف متوجہ ہوکر مسکرائے اور بولے کہ آپ نے کبھی ڈرامہ دیکھا ہے؟ مَیںنے کہا،ہاں ڈاکٹر صاحب!مجھے تھیڑ وغیرہ دیکھنے کا شوق تو نہیں، لیکن مَیں ٹیلی ویژن کے ڈرامے اکثر دیکھتا رہتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ پھر تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ڈرامے میں ایکٹنگ ہوتی ہے۔ایک ایکٹر ہیرو بن جاتا ہے ،دوسرا ویلن بنتا ہے اور کوئی جھوٹ موٹ کا ایماندار اور بااُصول بن جاتا ہے۔احسان صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ ایکٹنگ کو بس دیکھنا چاہیے،سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ ڈرامے کو ڈرامہ ہی رہنا چاہیے۔اگر ڈرامے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو پھر دیکھنے والا نفسیاتی مریض بن جاتا ہے،جس طرح احسان صاحب بن گئے ہیں اور ایک پروگرام دیکھنے کے بعد اُنہیں ہر طرف عریانی اور فحاشی نظر آنے لگی ہے۔مَیں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ ڈراموں کا موازنہ مذاکروں سے کریں گے تو زیادتی ہوگی۔ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ ڈرامے کا سکرپٹ ہوتا ہے ،ایک رائیٹر ہوتا ہے۔کردار ہوتے ہیں۔انتہا ہوتی ہے،کشمکش ہوتی ہے۔ٹرننگ پوائنٹ ہوتا ہے،ڈراپ سین ہوتے ہیں۔اِس طرح مذاکروں میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔مذاکروں کے میزبان ڈرامہ رائیٹر کی طرح ایسے ایکٹر ڈھونڈتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔ اُن کی مخالفت اور نظریات سکرین تک ہی ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔حقیقی زندگی اِن سب کی ایک جیسی ہوتی ہے۔عریانی اور فحاشی کے حمایتی اور مخالف لباس بھی ایک طرح کا پہنتے ہیں۔کھانا بھی ایک طرح کا کھاتے ہیں۔ چیک کی رقم بھی تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔کوٹھی اور کار وغیرہ میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ اُنہیں مراعات بھی ایک جیسی حاصل ہوتی ہیں۔موقع ملے تو یورپ امریکہ بھی جاتے ہیں۔ بچوں کو وہاں پڑھانا پسند کرتے ہیں۔مذہبی شعار ادا کرتے وقت تصاویر وغیرہ بھی بنوا لیتے ہیں ۔اِن کے تعلقات بھی ایک دوسرے کے ساتھ مثالی ہوتے ہیں۔اپنے گینگ میں کسی کو آسانی سے شامل نہیں کرتے اور تکبر اور غرور میں بس کچھ عادات کے سوا ایک جیسے ہوتے ہیں۔ صرف ٹیلی ویژن پر ایک گھنٹے کے لئے ایک دوسرے کے دشمن نظر آنے کی ایکٹنگ کرتے ہیں اور احسان جیسے شریف انسانوں کو نفسیاتی مریض بنادیتے ہیں۔ مَیں اور احسان خاموشی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سنتے رہے۔ جب ہم دونوں اُٹھے تو واقعی ہم بے وقوف نظر آرہے تھے۔   ٭

مزید : کالم