ویل ڈن طاہر القادری.... حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پھر متحد!!

ویل ڈن طاہر القادری.... حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پھر متحد!!
ویل ڈن طاہر القادری.... حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پھر متحد!!

  



اسلام آباد کی ٹھنڈی ٹھار سڑکوں اور ملکہ کوہسار سے آنے والی برفانی ہواﺅں میں تحریک منہاج القرآن کے 4 روزہ کامیاب دھرنے نے ایک مرتبہ پھر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو ”اکٹھا“ کردیا ہے۔ حالات و واقعات کا تجزیہ کیاجائے اور صدر، وزیراعظم ، وفاقی وزراء اور ان کی اتحادی جماعتوں سمیت اپوزیشن جماعتوں کے بیانات پر غور کیاجائے تو ایک ہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا کسی بھی غیر جمہوری اقدام کے خلاف مذمت پر اتفاق کرنا درحقیقت طاہر القادری کے خلاف نہیں بلکہ ان غیر جمہوری قوتوں کو پیغام ہے کہ کس نے طاہر القادری کی آڑ لے کر جمہوریت کی بساط لپیٹنا چاہی یا اس پر شب وخون مارنے کے لئے کوئی مہم جوئی کی تو تمام مذہبی و سیاسی متحد ہوں گی بظاہر یہ لوگ ملک کے سب سے بڑے ادارے پارلیمینٹ کے مدح خواں اور اس کی بالادستی کے قائل ہیں مگر خوف زدہ اس کے ماتحت ادارے سے ہیں، ڈرنے والوں کے دلوں میں ”چور“ ہے اور خیال ہے کہ ان میں جعفر بھی موجود ہونگے۔ کہا جارہا ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے کامیاب دھرنے کے چوتھے روز حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے طاہر القادری کو اپنا مشترکہ دشمن تسلیم کرتے ہوئے ان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح طاہر القادری کی بدولت پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف، اے این پی، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، جے یو آئی اور ان کی دیگر ہم خیال جماعتیں پارلیمینٹ اور جمہوریت کے تحفظ کے نام پر ایک ہوگئی ہیں اور ایک کوئی طاہر القادری کو پارلیمینٹ اور جمہوریت کا دشمن قرار دے کر ایک مو¿قف اختیار کرچکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے طاہر القادری کے مطالبے پر عام انتخابات کا اعلان اور نگران سیٹ اپ کے بارے کوئی اعلان نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے اس تشویشناک صورتحال میں دیکھا جائے تو مقتدر حلقوں میں اندر خانے تشویش موجود ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ فیصلہ ساز قوتیں زیادہ دیر موجودہ صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکیں گی۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت نے دھرنا ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کا پروگرام بنالیا ہے اس کے لئے حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کی ”اندر خانے“ حمایت تو حاصل ہوگئی ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ دھرنے میں معصوم بچے اور خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ انہیں ”محفوظ“ بنانے کے بعد ہی کوئی ایکشن لینا ہوگا ؟ اور اس ایکشن میں طاہر القادری کو حراست میں لے کر ان کے خلاف حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں دہشت گردی کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے تاہم اس سے انارکی میں اضافہ ہوگا۔ اگر ملک میں سیاسی انتشار پھیلتا ہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ بہت جلد کچھ ہونے والا ہے۔

مزید : تجزیہ