پولینڈ میں امریکی فوج کے درپردہ مقاصد

پولینڈ میں امریکی فوج کے درپردہ مقاصد
 پولینڈ میں امریکی فوج کے درپردہ مقاصد

  

پولینڈ میں امریکی فوج کی آمد تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ ایک ایسا ملک جو کئی دہائیوں تک امریکہ کے خلاف سرگرمیوں کا حصہ رہا اور سوویت افواج کے زیر نگین رہا، آج وہ ملک امریکی فوج کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ وہ پہلے بھی اس دور سے گزر چکا ہے ۔ پولینڈ میں پہلی مرتبہ نیپولین کی افواج آج سے200سال پہلے داخل ہوئی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم میں پولینڈ میں ایک طرف جرمنی کی افواج داخل ہوئیں تو دوسری طرف سوویت یونین کی افواج بھی پولینڈ میں گھس گئی تھیں۔ جس سے پولینڈ دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ۔ جنگ کے دوران پولینڈ کے زیادہ فوجیوں کو روسیوں نے پولینڈ سے دور محاذوں پر بھیج دیا۔ جرمنی نے بھی پولینڈ کا شدید نقصان کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں پولینڈ کے 60لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جو جنگ عظیم دوئم میں سب سے زیادہ سویلین کی تعداد تھی۔ پولینڈ کی آبادی اس قدر کم ہو گئی کہ اسے 1939ء کی سطح پر دوبارہ آتے آتے30سال لگے۔ پولینڈ کے 20فیصدعلاقے دشمن کے قبضہ میں چلے گئے۔ تب سے پولینڈ سوویت یونین کے زیرنگیں ہوگیا اور وہاں کٹھ پتلی کمیونسٹ حکومت نفاذ کر دی گئی۔

1988ء میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد کیمونسٹ نظام کی بساط پولینڈ سے بھی لپیٹ دی گئی ا ور پولینڈ نے تیزی سے مغربی یورپ کے ساتھ اپنے سیاسی، خارجی، معاشی اور دفاعی تعلقات مضبوط بنانا شروع کر دیئے۔ مشرقی یورپ اور بالٹک ریاستوں کو اپنے دفاع کے لیے زیادہ پریشانی نہیں تھی لیکن2014ء میں جب روس نے کریمیہ پر قبضہ کیا تو ان ریاستوں کی پریشانی میں شدید اضافہ ہوا۔ اس کے بعد روسی طیاروں نے کئی مرتبہ مشرقی یورپ اور بالٹک ریاستوں کے فضائی حدود کے اردگرد پروازیں کیں جنہیں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا تھا۔ جرمنی نے امریکی افواج کی جرمنی میں موجودگی کو ختم کرنے کا عندیہ دیا تو ان افواج کو پولینڈ میں تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس وقت جرمنی میں36000امریکی فوجی موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پولینڈ کی حکومت اور عوام امریکی فوجیوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ وہ مظالم ہیں جن سے پولینڈ کی عوام کئی دہائیوں تک گزر چکی ہے۔ یہ تمام فوجی اگلے نو ماہ میں پولینڈ سمیت کئی بالٹک ریاستوں میں ٹینکوں، توپوں اور دیگر ہتھیاروں کی بڑی تعداد لے کر روانہ ہوں گے۔

روس کے لیے یہ صورتحال نا قابل قبول ہے۔ روس نے اس صورتحال کو ناپسندیدگی سے دیکھا ہے اور اس صورتحال کو خرابی کی طرف دھکیلنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ بالٹک ریاستوں نے روس کے اس خیال کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے کیونکہ ان کو پچھلے کئی سالوں سے روس کی طرف سے جارحانہ خدشات تھے۔ پولینڈ کے علاوہ لتھونیا، لٹوویا اور اسٹیووینا نے پہلے مشترکہ فورسسز بنانا شروع کر دی تھیں جبکہ فن لینڈ، ناروے اور آسٹریا بھی اس سلسلے میں اقدامات کر رہے ہیں ۔ یہاں کئی ممالک نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بھی منتظر ہیں۔ ٹرمپ پولینڈ میں امریکی فوجوں کو کس قدر رہنے دیتے ہیں یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔مستقبل میں امریکی پالیسیوں میں کسی بڑی تبدیلی کی صورت میں امریکہ اور یورپ میں فاصلے بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جرمنی کا اس سلسلے میں پہلے ہی محتاط رویہ ہے اور جرمنی یورپ میں نئے امریکی کردار کے بارے میں شکوک کا شکار ہے۔ اگرچہ برطانیہ اور فرانس نے مشرقی یورپ میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی نے بھی نئے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔

یورپ میں روسی دباؤ اور امریکی افواج کی نقل و حمل بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یورپی خود روسی دباؤ محسوس کر رہے ہیں لیکن مغربی یورپ امریکہ پر بھی مکمل اعتبار کرنے کو تیار نہیں ۔اگرچہ نئی یورپی دفاعی تنظیم کا قیام آسان نہیں لیکن یورپ نیٹو کا خاتمہ اور امریکی تسلط سے آزادی کا خواب دیکھ رہا ہے جو عنقریب پورا ہونے جارہا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -