خوش بخت یا بدبخت ؟؟؟

خوش بخت یا بدبخت ؟؟؟
خوش بخت یا بدبخت ؟؟؟

  

حالانکہ ایساہونانہیں چاہیے مگرحقوق والدین بل کے بعدنجانے کچھ بدبختوں کو کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں؟؟؟کون بدبخت ہوگاجووالدین کیساتھ حسن سلوک کرکے اپنانیکیوں کا پھلڑا بھاری نہیں کرنا چاہے گا؟؟؟کون ہوگا جو ماں کے قدموں تلے ملنے والی جنت نہیں حاصل کرنا چاہے گا؟ کون ہوگاجووالدکی شفقت سے محروم رہنا چاہے گا؟؟؟مگرجہاں کروڑوں لوگ والدین کی خدمت کوسعادت سمجھتے ہیں وہیں کچھ بدبخت بھی ہیں اور یہ بھی ہمارے معاشرے کاہی حصہ ہیں۔۔اور تو اورایک خاتون نے تواس پر بلاگ بھی لکھ دیااور عنوان دیاکہ’’کیااولادنے والدین کاٹھیکہ لیاہواہے‘‘؟۔۔لکھنے والی نے تو اپنی سوچ کازہراگل ہی دیا،اس پرافسوس یہ بھی کہ کئی نامرادوں نے اس پر واہ واہ کیا اور تعریفوں کے پل باندھنے کی بھی کوشش کی۔۔

اگرتوآپ مسلمان ہیں تو پھر قرآن پاک سے بڑھ کرآپ کو کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے جہاں کئی بار اللہ تعالیٰ نے والدین کیساتھ حسن سلوک کاحکم دیاہے،پھراگرکوئی شخص ارادتاایسا کرتاہے تو پھراس میں کوئی شک نہیں کہ وہ احکامات الہیٰ کی روگردانی کرتاہے اور اس پراسے کیاسزاملے گایہ معاملہ اس بندے اور اس کے خالق کے درمیان ہے،بحرحال یہ انتہائی بدبختی ہے۔

اگرہم عقلی دلیل کی بات کریں توکوئی بھی ذی شعورانسان نیکی کا بدلہ بدی سے نہیں دے گا،بلکہ ایک شخص اگر آپ کیساتھ اچھا سلوک کرتاہے تو پھر بدلے میں آپ بھی اس کیساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے کیوں کہ آپ کو اس شخص کی وہ نیکی یاد ہوگی جو اس نے آپ کے مشکل وقت میں آپ کیساتھ کی،اس سے بڑھ کر نیکی کیاہوگی جب آپ نا سمجھ تھے،آپ نے دنیا میں قدم رکھاہی تھا تو والدین سایہ بن کر ساتھ ساتھ رہے،راتوں کی نیند اور دن کاآرام تمہارے آرام پر قربان کیا، خود بھوکے رہے مگر بھوک کی وجہ سے تمہیں رونے نہ دیا،خود کے بدن پر کپڑا ہو نہ ہو ،مگر تجھے موسم کی سختیوں سے بچانے کیلئے ہرموسم کے لحاظ سے کپڑوں کا بندوبست کیا،والدین کی نیکیاں بے شمارہیں اوران کا بدلہ اولاد چاہ کر بھی نہیں دے سکتی۔

بلاگ لکھنے والی خاتون یہ چاہ رہی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بھی بزرگوں کے لیے اولڈ ایج ہوم کارواج عام ہوناچاہیے اوروالدین کوبڑھاپے میں اُدھر ہی رہناچاہیے نہ کہ اولاد کے سر پر سوار رہیں کیوں کہ اولاد نے والدین کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا ۔۔۔اس پرگزارش یہ ہے کہ پاکستان کے کئی شہروں میں بے سہارا بزرگوں کے لیے اولدایج ہومزکام کررہے ہیں جہاں کسی بھی وجہ سے بے سہارا ہونے والے بزرگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے اور معاشرے میں تنہائی کاشکارہونے سے بچایاجاتاہے مگرکیا یہ درست ہے کہ سگی اولاد ہونے کے باوجود بزرگوں کو اولڈایج ہوم میں قید کردیں؟جن ماں باپ نے کئی منتوں مرادوں اورمشکلات کے بعد اولاد کی نعمت حاصل کی ہو،انہیں پالاپوسا ہو،ان کے نازنخرے اٹھائے ہوں، انہیں بچپن کی ہرمشکل سے بچایاہو،تعلیم کے بعداپنے پاؤں پر کھڑاہونے کے قابل بنایاہو،وہ جب سکون کے دن آئیں تو اسی اولادسے دور ہوجائیں،جب سہارے کی ضرورت ہو،وہ بے سہاروں کے فنڈزسے زندگی بسر کریں۔

ہمیں احکامات الہیٰ کی روشنی میں والدین کیساتھ حسن سلوک کو فروغ دینے کی ضرورت ہےتاکہ جس طرح انہوں نے ہماری خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کیں،عمر کے آخری حصے میں وہ بھی ہمارے ساتھ خوش رہیں،نہ کہ اولڈ ایج ہومز کی دیواروں سے باتیں کرتے کرتے اپنی سانسیں پوری کریں۔میں حقوق والدین بل کیخلاف لکھنے والی بلاگرکواپنی سوچ پر نظرثانی کرنے کی گزارش کروں گا کہ اگر والدین کو بڑھاپے میں اولاد سے دور کرنے کا رواج عام ہوگیا تو یہ ہماری  خوش بختی نہیں بلکہ بدبختی ہوگی۔

( بلاگرمناظرعلی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز کےنیوزروم سے وابستہ رہ چکےہیں،آج کل لاہور کےایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں۔عوامی مسائل اجاگرکرنےکےلیےمختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں۔ان سےفیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے) 

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -