2050 ۔۔ کیسا ہو گا پاکستان ؟؟؟

2050 ۔۔ کیسا ہو گا پاکستان ؟؟؟
2050 ۔۔ کیسا ہو گا پاکستان ؟؟؟

  

ویسے تو ہمارے یہاں ایک عرصہ سے نجومیوں کا کام صحافیوں نے فی سبیل اللہ اپنے ذمہ لے رکھا ہے ۔ جس طرح فٹ پاتھ پر بیٹھ کر توتا فال نکالی جاتی ہے اب اسی طرح ٹی وی چینلز پر بعض اینکر اپنی چڑیا کبوتر اڑاتے نظر آتے ہیں اور پھر انتہائی گھمبیر لہجہ میں بتاتے ہیں کہ اگلے 24 گھنٹے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کے بعد جو بھی ہو اسے اپنی کامیاب پیشن گوئی قرار دے دیتے ہیں ۔ یہ پیشن گوئیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ 2049 تک کی بکنگ مکمل ہو چکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نظر2050 پر ہے ۔ 

ہمارے دوست ب المعروف شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ 2050 تبدیلی کا سال ہو گا ۔ جو لوگ ابھی 20 برس کے ہیں وہ 53 برس کے ہو چکے ہوں گے جبکہ 53 برس والوں کی اکثریت اس دنیا میں نہیں ہو گی ۔ یہ اتنی بڑی تبدیلی ہے جو واضح طور پر نظر آئے گی ۔ 2050 میں پاکستان کے اکثر ادارے ، میڈیا ہاؤسز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خواتین کی بھرمار ہو چکی ہو گی اور ملازمت کے اشتہارات کے ساتھ نوٹ لکھا ہو گا کہ اس ملازمت کے لئے لڑکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ نوجوان لڑکیاں ہر محفل میں یہی شکوہ کرتی نظر آئیں گی کہ ہم جتنی مرضی ڈگریاں لے لیں لیکن ان بڈھی کھوسٹ آنٹیوں نے لڑکوں کو ہی رکھنا ہے۔ لڑکوں کے لئے اوپن میرٹ کے ساتھ ساتھ کوٹہ بھی مختص ہو گا۔ اس کے باوجود انہیں ریسیپشنسٹ اور پرسنل سیکرٹری کی ملازمت ہی ملا کرے گی اور وہ اسی پوسٹ سے ڈائریکٹ کمپنی کے مالک اور مالک کے دل اور گھر پرقبضے کا خواب دیکھا کریں گے ۔والدین گھر سے نکلتے وقت لڑکوں پر پھونکیں مارا کریں گے تاکہ کوئی لڑکی انہیں اغوا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ انٹرویوز میں لڑکے مکمل اعتماد سے جائیں گے اور لیڈی باس ان سے ملازمت یا ڈگری کی بجائے نجی نوعیت کے سوال کیا کرے گی ۔

2050 میں حالات یہ ہوں گے کہ لڑکیاں لڑکوں کو ایزی لوڈ بھیجا کریں گی اور ایک ایک لڑکا کئی کئی لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر جینز اور ٹی شرٹس بٹور رہا ہو گا۔ دس دس لڑکیوں کو بے وقوف بنانے والے لڑکے کو بھی یہی شکوہ ہو گا کہ اسے سچی محبت نہیں ملی ۔ کو ایجوکیشن میں بی سی ایس اور کیمسٹری کی کلاسوں میں لڑکیاں ہر دوسری بات کے جواب میں یہی کہیں گی کہ یار یہ اچھا کو ایجوکیشن ہے ، سارے خوبصورت لڑکے تو بائیو ٹیکنالوجی یا ماس کمیونی کیشن میں ہیں ۔ پوری کلاس میں صرف ایک لڑکا ہے اور وہ بھی اتنی بڑی عمر کا ، در فٹے منہ ایسی کو ایجوکیشن کا ۔ دفاتر میں لڑکے کی موجودگی میں لڑکیاں خوامخواہ مہذب پن کا مظاہرہ کرنے لگیں گی ۔ لڑکوں کو گھر سے صرف یونی ورسٹی جانے کے لئے کرایہ کے پیسے ملیں گے لیکن پھر بھی وہ میکڈونلڈ کے برگرز کھاتے ہوئے سیلفیاں اپ لوڈ کرتے نظر ٓئیں گے ۔ زیادہ تر لڑکوں کی سیلفیوں میں باتھ رومز کی ٹائیلیں بھی نظر آیا کریں گی جبکہ لڑکیاں’’ واقعی بڑے شوارمے ‘‘کے سٹال کے باہر بھی سیلفیاں بنایا کریں گی ۔

2050 میں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بہت شاندار ہو گا ۔اس وقت تک پاکستان کی آبادی 50 کر وڑ جبکہ سیاسی جماعتوں کی تعداد 60 کروڑ تک پہنچ چکی ہو گی۔ آدھے سے زیادہ سیاست دان اینکر بن چکے ہوں گے تو دوسری جانب آدھے سے زیادہ صحافی بھی وزیر لگ چکے ہوں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تب بھی وزیر لگنے کے لئے’’ تھلے ‘‘لگنا ضروری ہو گا لیکن اس وقت میرٹ کا خاص خیال رکھا جائے گاَ جو جتنا زیادہ ’’تھلے ‘‘ لگے گا اسے اتنا ہی اوپر بٹھایا جائے گا ۔ سرکاری نوکریوں پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ ایک بار پھر کیا جائے گا ۔ تمام محکموں کی سربراہی کالم نگاروں کو مل چکی ہو گی ۔ اکثر ایماندار صحافیوں کے بچے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر چکے ہوں گے ۔ آج کل غریبوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے زیادہ تر لوگ تب تک امیر ہو چکے ہوں گے اور تاریخ کے سبق پر عمل کرتے ہوئے نئے لوگ ان کی جگہ آواز بلند کرنے پہنچ چکے ہوں گے ۔ صحافیوں کی 60 تنظیمیں بن چکی ہوں گی جن میں سے ہر تنظیم ہی اصلی ہو گی ۔ این ٹی ایس کا امتحان لینے والے ملک ریاض جیسوں کو غریب سمجھا کریں گے ۔لوگ تب بھی دھڑا دھر این ٹی ایس اور دیگر امتحانات کے لئے چندہ جمع کروائیں گے لیکن نوکریاں انہیں تب بھی نہیں ملیں گی ۔

2050 کا پاکستان بہت امیر ہو گا لیکن اربوں ڈالر کی یہ ملکی دولت تب بھی سیاست دانوں کے پیٹوں سے باہر نہیں نکل سکے گی ۔ سیاسی بیانات تب بھی عروج پر ہوں گے اور ہر سازش کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہی ملوث پائے جائیں گے ۔طاہر القادری کے عالمی شہرت یافتہ دھرنے کی ہر سال دھوم دھام سے سالگرہ اور برسی منائی جائے گی ۔ الیکشن سے قبل تمام سیاسی لیڈر ایک دوسرے کے جانی دشمن سمجھے جائیں گے اور سیاست کے بعد جمہوریت کی خاطر مل کر’’ ترقی‘‘ کے لئے کام کرنے لگیں گے ۔

2050 کی سب سے خوفناک بات یہ ہو گی کہ ڈالر گرل ایان علی بوڑھی ہو چکی ہو گی ، نرگس کو نئی نسل جانتی تک نہ ہو گی ، ریما اپنی پوتی کی پیدائش پر اپنی اٹھارہویں سالگرہ کا کیک کاٹ رہی ہو گی اور وینا ملک کسی کے سمجھانے پر ایک بار پھر اپنے ہی شوہر سے صلح کر لے گی ۔ اس سال کی سب سے اچھی بات یہ ہو گی کہ پی سی بی کا چیئرمین ایک کرکٹر کو ہی لگا دیا جائے گا لیکن یقین جانئے وہ کرکٹر عمران خان نہیں ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ چیئرمین بننے والا شخص اس عہدے پر آنے کے بعد کرکٹربنے گا۔ 2050 کے حوالے سے سب سے اہم پیشنگوئی امریکا ، بھارت اور اسرائیل کے لئے ہے اور وہ یہ کہ تب ہم ہوں یا نہ ہوں لیکن پاکستان ایک حقیقت کے طور پر ضرور ہو گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -