ریونیو ریکارڈ میں سنگین غلطیاں ،افسران کی کارکردگی کا پول کھل گیا

ریونیو ریکارڈ میں سنگین غلطیاں ،افسران کی کارکردگی کا پول کھل گیا

لاہور عامر بٹ سے)بے نامی ملکیت کا اندراج ،زائد از حصہ کھاتہ جات کی فیڈنگ ، وراثت تقسیم میں بوگس انٹری ،سمیت انتہائی سنگین اور اغلاط سے بھرے ہوئے ریونیو ریکارڈ کی فیڈنگ نے محکمہ مال کی انتظامی سیٹوں پر براجمان کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز ،اسسٹنٹ کمشنرز سمیت دیگر افسران کی کارگردگی کا پول کھول کررکھ دیا (ایل آر آئی ایم ایس) کے ذریعے کمپیوٹر سسٹم میں محفوظ کیے جانے والی سرکاری و نیم سرکاری جائیداوں کا ریکارڈ بھی غیر محفوظ ہو گیاہے فراڈ جعلسازی کے پے درپے واقعات سے صوبے بھر کی عوام اور اورسیز پاکستانیوں کی کثیر تعدادبھی جعلسازی کی زد میں آچکی ہے مزیدمعلوم ہوا ہے کہ ورلڈ بینک کے تعادن اور بورڈآف ریونیوکے زیرنگرانی (ایل ای آر ایم ایس)پراجیکٹ کے ذریعے صوبے بھر میں پٹواریوں کے خاتمہ کے لیے صاف شفاف اورغلطیوں سے پاک ریکارڈ کمپیوٹر میں فیڈ کیے جانے کی پر یکٹس شروع ہو ئی جو کہ اب تک صوبے بھر کے 36اضلاع میں جاری و ساری ہے، در حقیقت تمام ریکارڈ انتہائی سنگین خامیوں او ر اغلاط سے بھراہوا فیڈکیاگیا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی انتظامی افسر جس میں ڈپٹی کمشنرز ،اسسٹنٹ کمشنرز ،ڈسٹر کٹ سیٹلمنٹ آفیسرز او رافسر اشتمال کی جانب سے کلیئرنس سٹرٹیفکیٹ نہیں دئیے بلکہ پٹواریو ں نے اپنی نوکریوں کے خاتمہ کے خوف سے تمام تر ریکارڈ اغلاط سے بھرا ہو ا فیڈ کردیا ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں انتہائی قیمتی جائیداد ہونے کے سبب فرا ڈ جعلسازی کی زیاد ہ تر وارداتیں ڈالی گئی ہیں،جان بوجھ کر ناموں کے غلط اندراجات کیے گئے ہیں اور ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے فراڈ کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے وراثت کے اندراج او ر تقسیم کے دوران بھی پے بناہ غلطیاں ،کٹنگ اور مشکوک ریفرنس ڈالے گئے ہیں جس سے جعلسازی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس کی مثال صوبائی درالحکومت تحصیل ماڈل ٹاؤن کے پٹوار سرکل لدھیکے بلھڑ میں کروڑوں روپے کے 9 کنال اراضی سکینڈل کو دیکھ کر بحوبی لگائی جاسکتی ہے جس میں پٹوا ری غیاث الدین نے ایک مرے ہوئے شخص کے ہم نا م شخص کوشناختی کار ڈ کی بنیاد پر تیار کیا اور ایک منصوبہ بندی کے تحت کمپیوٹرائز ڈ سسٹم سے فرد حاصل کی جو کہ بعدازاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کی مداخلت پر جعلسازی عیاں بھی ہو گئی تاہم محکمہ ریونیو کے انتظامی افسران نے اس پر تاحال کو ئی نوٹس نہ لیا تحصیل رائیونڈ میں بھی ایک اوورسیز پاکستانی کی زمین تین دفعہ آگے ٹرانسفر کی گئی جس پرفراڈ جعلسازی عیاں ہونے پر بعدازاں محکمہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ کار اندراج کیا او ر اس میں ملوث جعلسازوں کوگرفتا ر کیا اس کے علاوہ موضع رکھ سلطان کے میں بھی 90کنال کی سرکاری اراضی کی جعلی رجسٹری کے ذریعے کمپیوٹرئز ڈسسٹم سے فرد حاصل کی گئی جس کی اطلاع وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی وصول ہوئی ہے او ر اس کیس کے تمام ملزمان تین دن کے اندر اندر گرفتار کئے گئے، ڈی سی او جام پور کی جانب سے بھی اراضی ریکارڈ سینٹر میں پائی جانے والی خامیوں اور سنگین اغلاط سے بھرے ہوئے ریکارڈ کی بابت نشاندہی کی گئی ۔ تحصیل شرقپور اراضی ریکارڈ سنٹر میں بھی سروس سنٹر انچارج انعام گجر کی جانب سے بذریعہ ٹاسک صوبائی حکومت کا رقبہ غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا ۔ گذشتہ دنوں موضع بدری میں بھی 45 کنال سے زائد قیمتی رقبہ کی حکم امتناعی کی موجودگی اور اسٹنٹ کمشنرکینٹ سمیت تحصلیدار، قانونگو جعلی رپورٹس اور احکامات کی روشنی میں فردیں جاری کی گئی جس میں متعلقہ پٹواری اور خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ شازیہ بشیر گوندل بھی شامل نکلی تھی، جسکے نتیجے میں محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ خاتون کو معطل کر دیا گیا۔ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ جو موضع جات آن لائن کیے گئے ہیں جب تک ان کے ریکارڈ کی بستہ پڑتال نہ کی گئی تب تک فراڈ جعلسازی کے واقعات ہوتے رہیں گئے۔دوسری جانب پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ترجمان کاکہنا ہے کہ فراڈجعل سازی کی روک تھام کے لیے سوفٹ وئیر کا بھی استعمال کر دیا گیا ہے اس کے علاو ہ جو ریونیو ریکارڈ کمپیوٹر ائزڈ سسٹم میں فیڈ کیا گیاہے اس کی تمام تر ذمہ داری ڈسٹر کٹ ایڈ منسٹریشن پر عائد ہوتی ہے چو نکہ فیلڈ ریونیو سٹاف نے اس ریکارڈ کی دوبارہ ویری فکیشن او ر تصدیق کی تھی تاہم روز نامہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نشاندہی پر ضرور نوٹس لیا جائے گا ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی،

مزید : میٹروپولیٹن 1