جے آئی ٹی رپورٹ حقیقت پر مبنی مگر حتمی فیصلہ نہیں،آئینی وقانونی ماہرین

جے آئی ٹی رپورٹ حقیقت پر مبنی مگر حتمی فیصلہ نہیں،آئینی وقانونی ماہرین

لاہور(نامہ نگار)جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کرائے جانے کے بعد ہونے والی سماعت کے حوالے سے آئینی و قانونی ماہرین نے مختلف رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حق اور سچ پر مبنی ہے ،حکمران جماعت اپنی روائتی ٹکراؤ کی سیاست سے ملک کے حالات خراب کرنے کی پلا ننگ کررہی ہے ،جے آئی ٹی نے شواہد کی روشنی میں اپنی تفتیش مکمل کرکے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے ،مسلم لیگ(ن) کا اس رپورٹ کو مسترد کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جانے کے مترادف ہے ۔ممبر پنجاب بار کونسل انتظار حسین نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنا کام کردیا ہے ان کی رپورٹ حکمرانوں کے فوری مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا تمام سیاسی جماعتیں وزیر اعظم کے مستعفی ہونے پر متحد ہیں ،اب میاں نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنی چوری پکڑے جانے کے بعد استعفیٰ دے دیں اور یہ ہی ملک کے لئے بہتر ہوگانہ کہ وہ تصادم کی طرف بڑھیں۔سابق پاکستان بار کونسل کے کوارڈینیٹر مدثر چودھری اورسینئر ایڈووکیٹس مرزا حسیب اسامہ، مجتبی چودھری نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی چوری پکڑی گئی ہے ،اب وہ ہیلے بہانوں سے خود کو سچا ثابت کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن یہ ان کے لئے بے سود ثابت ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف سے تمام بڑی سیاسی پارٹیاں استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہیں لیکن وہ وزیراعظم کی سیٹ چھوڑنے پر رضامند نہیں،ان کا اقتدار سے چمٹے رہنا کسی بھی طرح سے ملکی مفاد میں نہیں ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکن اور سینئر ایڈووکیٹ مشفق احمد خان نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اب اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا ، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تہمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے کیوں کہ جے آئی ٹی نے صرف سپریم کورٹ کے حکم پر اپنی تفتیش مکمل کرکے رپورٹ جمع کروائی ہے اس پر حتمی فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہی کرنا ہے ،اس لئے کسی صورت بھی مناسب نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل اس پر کوئی رائے دی جائے ۔

ماہرین ، ردعمل

مزید : صفحہ اول