صدر نے پنجاب پارٹی میں تبدیلیاں کرکے ن لیگ کو بھی اہم پیغام دیا

صدر نے پنجاب پارٹی میں تبدیلیاں کرکے ن لیگ کو بھی اہم پیغام دیا
صدر نے پنجاب پارٹی میں تبدیلیاں کرکے ن لیگ کو بھی اہم پیغام دیا

  

انتخابات جوں جوں قریب آتے جارہے ہیں، ایسے ایسے میں سیاست میں نت نئے پینترے بدلنے کے نام سے مشہور ہونے والے صدر مملکت آصف علی زرداری اپنی سیاسی صف بندیوں میں نئی چالیں چلنا شروع ہوگئے ہیں اور انہوں نے ماضی میں پی پی پی کے کمزور مورچے کے طور پر سامنے آنے والے پنجاب کو ”قابو“ کرنے کے لئے پیپلز پارٹی میں نظر آنے والے اہم لیڈروں کو آزمانے کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔ صدر کی تازہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے ایسے لگ رہا ہے جیسے محترم آصف علی زرداری آئندہ انتخابات کا میدان پنجاب میں لگانا چاہتے ہیں اور انہوں نے اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو کو پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بناکر مسلم لیگ (ن) کو پیغام دے دیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے اندر میاں کا مقابلہ میاں سے ہوگا۔ جبکہ دوسری طرف پنجاب میں اپنے اہم اتحادیوں مسلم لیگ ق کے چودھری برادران کوبھی بتایا ہے کہ وہ ان پر زیادہ انحصار کا ارادہ رکھتے ہیں نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ اگرچہ صدر مملکت کی میاں منظور وٹو کو پنجاب میں پیپلز پارٹی کا صدر بنانے کی حکمت عملی اور فیصلے سے اگرچہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت تمام پرانے رہنماﺅں کو ہی دھچکا نہیں لگا ، میرے خیال کے مطابق اس سے چودھری برادران اور میاں برادران کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے چونکہ اگر میاں منظوروٹو کے ماضی کو دیکھا جائے تو میاں برادران کو اتنا نقصان شاید پرویز مشرف نے 9 سالہ جلاوطنی کے دوران نہیں پہنچایا جتنا منظور وٹو نے چند مہینوں میں پہنچا دیا تھا۔ ایک طرف ماضی میں میاں منظور وٹو نے پنجاب اسمبلی میں میاں برادران کے خلاف کامیاب بغاوت کی اور ان کا تختہ الٹ دیا بلکہ خود وزیراعلیٰ بن گئے اور میاں برادران کے گھروں کے باہر لگائے گئے جنگلے تک توڑ دیئے،گھاس اجاڑ دی، شاید صدر مملکت نے اس وقت پیپلز پارٹی کی ”مدد“ سے ن لیگ کا پنجاب میں تختہ الٹنے میں خدمات کے اعتراف میں میاں منظور وٹو کے کندھے پر پھر وہ بندوق رکھ دی ہے جس کا نشانہ انہوں نے ماضی میں اکیلے میاں برادران کو بنایا تھا مگر اس مرتبہ میاں برادران کے علاوہ میاں منظور وٹو کے سامنے چودھری برادران بھی ہوں گے مگر چودھری برادران کو صرف وٹو دکھانا مقصد ہے۔ ایسا نشانہ میاں برادران ہوں گے مگر آصف علی زرداری اگرمنظور وٹو کو ماضی والاوٹو سمجھتے ہیں تو انہیں اس بات کو سامنے رکھنا ہوگا کہ نہ وہ ماضی کے وٹو ہیں نہ ماضی کے میاں برادران۔ اس مرتبہ انہیں یہ سودا مہنگا پڑسکتا ہے۔ اس فیصلے سے انکی پارٹی کے اندر بغاوت کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس فیصلے سے پیپلز پارٹی میں بڑے بڑے بددل ہوگئے ہیں اور پہلے سے بددلی کا شکار جیالوں میں مزید مایوسی پھیلے گی جس سے بڑے بڑے سونامی یا ن لیگ میں نہ بھی گئے تو گھروں میں ضرور بیٹھ جائیں گے۔

مزید :

تجزیہ -