او مرن کیوں لگا ایں

او مرن کیوں لگا ایں
او مرن کیوں لگا ایں

  

چھوٹے بھیا اگرجمہوریت کی ارتھی ٹک ٹاکرز کے نازک کندھوں پر آ گئی ہے تو میری مانیں اس کا کسی اچھے سے میڈیا ہاؤس کے شمشان گھاٹ میں انتم سمسکار  کرا دیں، سنا ہے پانچ چھ زبانوں پر عبور رکھنے والے چھوٹے بھیانے ازبکستان میں اینی اینہہ واہ کارکردگی کا ڈھول پیٹنے کیلئے ٹک ٹاکرز رکھے ہیں۔ بقول گبھر سنگھ دیکھ لو گاؤں والوں ٹھاکر نے گبھر سے ٹکر لینے کے لئے۔۔۔۔کی فوج رکھی ہے۔

(اس ڈائیلاگ کا کہیں مطلب ٹک ٹاکرز کی تضحیک نہیں) دوسری جنگ عظیم کے دوران برصغیر میں فوجیوں کی بھرتی کے لئے ٹیم جب ایک گا?ں پہنچی تو سنتا سنگھ کی والدہ نے افسر سے پوچھا میرے بیٹے کو زبردستی کیوں بھرتی کر رہے ہیں، وہ بولا ماں جی ملکہ برطانیہ کا حکم ہے ان کی ہٹلر سے جنگ ہو رہی ہے، سنتا کی والدہ بولیں ”پت ملکہ نو آکھیں اگر بات سنتا سنگھ تک آ گئی ہے تو بہتر ہے وہ ہٹلر سے صلح ہی کر لے۔ سارے میڈیا بہترین اینکرز  اپنے ”پیٹے پانے“ کے بعد بھی اگر آپ کپتان خان کا مقابلہ نہیں کر پا رہے اور آپ کو اپنی تشہیر کے لئے ٹک ٹاکرز کا سہارا لینا پڑ رہا ہے تو کسی نئے پنگے سے چنگا  ہے کہ آپ انتخابات کا اعلان کر کے پتلی گلی سے نیوے نیوے ہو کر نکل جائیں اور اس بندے کو تلاش کریں جس نے پیوٹن سے ملاقات کے دوران آ پکے کان کیلئے ترجمہ کرنے والی ٹوٹی خراب رکھی ایویں پیوٹن ورگے سنجیدہ بندے کا ہاسہ نکل گیا۔ چلیں اتنا تو ٹھیک ہے کہ آپ  بھی باقی سربراہوں کی طرح پیچھے سے نکل کر انگور چکھ لیں اور تصویر ایسی بنا لیں کہ لگے سارے حکمران آپ کو دیکھ کر "وے سب توں سوہنیا ہائے وے من موہنیا“ کا کورس گا رہے ہیں، بھئی کسی کو چاہے میری لگے بات بری ہمیں تو یہ رنگ بازی پسند آئی۔بس موگیمبو خوش ہوا۔ آپ ہماری تحریر بالا کو "چک چکیا" پروگرام کا حصہ سمجھیں، سنتا ایک پیر کا مرید ہو گیا، پیر نے کہا سنتا تم بہت بدتمیزی سے بولتے ہو لوگوں میں خیال رکھنا، شام کو سنتا آستانے گیا اور دور سے بولا اوئے پیرا ابھی اتنا ہی کہا تو پیر صاحب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ سنتا سر جھکا چیخا اوئے مرن کیوں لگا ایں،میں نے   پیر کے بعد ’جی“ بھی بولنا تھا۔ ہم ٹہرے ازل کے سنتے بنتے اور چھوٹے بھیا ہمارے ہمارے دائمی پیر۔بس اسی لیے "جی" بعد میں لگایا 

پاکستانی سیاست میں مولانا فضل الرحمان، شیخ رشید بھانجے بلاول کی مخولیوں کے بعد اگر کسی نے شب شبھا بنائی ہے تو وہ مریم بی بی ہیں، میڈیا ہینڈلنگ سے لیکر بیانات تک انہوں نے گج وج کے اپنا سکہ جمایا ہے۔ مجھے تو ان سے جتنی انسپائریشن ملتی ہے اتنی تو تنخواہ ملنے سے نہیں ہوتی۔ وہ اپنی گفتگو میں اکثر ایسی شرلی چھوڑتی ہیں کہہ بندہ بدوبدی تاڑیاں مارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بے شک کپتان عدلیہ کا لاڈلہ ہے۔ اسے کسی نہ کسی بہانے چھوٹ مل ہی جاتی ہے۔ لیکن آپی یہ ملک اور اس کے تمام قوانین ہمیشہ سے طاقتور لاڈلوں  کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال چل چھیاں چھیاں گاتے پھرتے ہیں۔ مولانا تمیز الدین کیس سے لیکر پچاس رویے کے شٹامپ پیپر پر بڑے بھیا کو باہر بھجوانے تک اتواروں سے لیکر رات گئے تک ایوان عدل سجنے تک سب کہانیاں امیروں طاقتوروں پیاروں اور لاڈلوں کی کہانیاں ہیں، ضمانتوں پر ہمیشہ کیلیے باہر آئے  "میں وی بدنام سیاں توں وی بدنام وے" گانے والوں کا ایک ہجوم ہے اور سب ہی بریلی کے بانسوں کی طرح نوگزے ہیں۔ ہاں آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ چیک کرنا پڑے گا کہ کپتان کا کوچ کون ہے۔ سنتا سنگھ اپنی بیوی سے بولا بنتے کی بیوی بہت احمق ہے میں اسے کرکٹ کوچ کو بتا رہا تھا تو یہ پوچھنے لگی کہ یہ کرکٹ کوچ کے کتنے پہیئے ہوتے ہیں۔ سنتا سنگھ کی بیوی بہت ہنسی اور بولی جاہل عورت ہے۔ پھر اپنا دوپٹہ  عادتاً ارادتاً درست کرتے ہوئے بولی ویسے کرکٹ کوچ کے چار پہیے ہوتے ہیں نا؟ آپی آپ تو آپ ہیں کوچ اور کوچنگ کو آپ سے زیادہ کون جانتا ہو گا، ماشاء اللہ یہاں تو لاڈلوں کو ایسا کوچ بھی ملا کہ بندے نے صوبائی وزیر خزانہ سے ڈریکٹ وزیر اعلیٰ پر چھلانگ لگائی۔"شڑکوں شڑک" جانے کے بجائے بلہے کی ہوا بن کر لاہور سے اسلام آباد پہنچا یہاں سارے کیسارے شرطیہ میٹھے ہیں جنہوں بھنوں گے اوہی لال اے وئی لال ہے نکلے گا۔1947ء سے آج تک کوچنگ کورس کبھی ختم ہوا ہے بھلا؟ یہ کوچ ہی ہیں جو جب چاہیں کس کی ٹوپی کس کے سرمنڈھ سکتے ہیں۔ پلیئر نو بال ہونے سے پہلے ایل بی ڈبلیو قرار دے سکتے ہیں۔ اس لئے یہ میدان  آپ کا یا کپتان کا ہے، جب چاہیں جو چاہے ٹاس کے بغیر اننگز شروع کر دے اور ہم تماشائی بڑی سکرین پر میچ کے بعد ایک دوسرے پر کرسیاں اچھالتے ہیں۔ سروں میں گومڑے  ڈالتے ہیں اور پھڑے جاتے ہیں۔ جن پلیئرز کیلئے ہم "ست اکونجا" کراتے ہیں وہ ائیرکنڈیشن ڈریسنگ روم میں کوچ سے ہدایات لینے چلا جاتا ہے۔ 

پڑھتے ہیں اللہ نے ابراہہ کے بد مست  ہاتھیوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا انہیں معمولی ابابیلوں سے کھائے  ہوئے بھس کی طرح کر دیا تھا۔ قادر مطلق ہم تو مر مر کے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر تھک گئے، ہم پہ بیٹھے حکمران اشرفا لاڈلے  ابراہہ کے ہاتھیوں سے بھی زیادہ بدمست ہو گئے، سیلاب آئے ہم مریں، طوفان آئے ہم مریں، مہنگائی ہو ہم مریں، آسمانی زمینی بجلی سے  ہم مریں، پٹرول  سے ہم مریں، رب ذوالجلال کچھ کنکریاں اس دھرتی پر بھی عطا ہوں۔ بدمست سیاسی ہاتھی اپنی زبان اور قدموں سے ہمیں کچلے جا رہے ہیں۔اور پھر بیانات کے قہقہے لگاتے ہیں،

مزید :

رائے -کالم -