شام کا بحران اور نئی سیاسی صف بندیاں

شام کا بحران اور نئی سیاسی صف بندیاں
شام کا بحران اور نئی سیاسی صف بندیاں

  

شام کے بحران پر عالمی سطح پر ایک نئی صف بندی سامنے آئی ہے، جس کا سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد مکمل خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس سے قبل امریکہ اور سوویت یونین دو عالمی طاقتیں تھیں اور دنیا کے یہ دو بڑے چودھری غریب اور چھوٹے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ جب تک یہ دونوں بڑی طاقتیں قائم رہیں، عالمی سطح پر ایک توازن برقرار رہا، اگر ایک چودھری کوئی شرارت کرتا تو دوسرا چودھری مختلف ذرائع اور طریقے استعمال کر کے اس کا ہاتھ روک دیتا، اس طرح عالمی سطح پر ایک مستحکم سیاسی نظام وجود میں آ گیا اور دنیا کسی غیر معمولی ہلچل اور غیر متوقع تبدیلیوں سے محفوظ رہی۔ امریکہ اور سوویت یونین نے عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے کچھ حلیف بنا لئے تھے۔ ان حلیفوں کو نیٹو اور وارسا جیسے فوجی معاہدے بنا کر یکجا کر دیا گیا اور دنیا میں طاقت کا یہ بائی پولر نظام کافی عرصے تک برقرار رہا۔ جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور افغان جنگ میں سوویت یونین کو شکست ہوئی تو دنیا میں بائی پولر سسٹم کا خاتمہ ہو گیا اور یونی پولر سسٹم وجود میں آیا، امریکہ واحد سپر پاور بن گیا۔

اسی مختصر سے عرصے کے دوران امریکہ نے دنیا میں اپنی چودھراہٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کیا اور اس کی سپر پاور نے کسی کو دھمکایا، کسی کو ڈرایا، کسی پر فوج کشی کی، کسی پر معاشی پابندیاں لگوا دیں، کسی ملک کے خلاف اقوام متحدہ میں من مرضی کی قرار دادیں پیش کیں اور پاس بھی کروا لیں....اس صورت حال کے نتیجے میں کویت پر حملہ ہوا، عراق پر قبضہ ہوا اور اسے تہس نہس کر دیا گیا۔ افغانستان پر یلغار کی گئی اور امریکی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز ہوا جو اب تک لڑی جا رہی ہے۔ ان جنگوں کے علاوہ امریکہ کی طرف سے کمزور ممالک کو دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ لیبیا کے مسئلے پر بھی امریکہ، یورپ، فرانس وغیرہ اکٹھے ہو گئے اور بیرونی مداخلت کر کے کرنل قذافی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا، لیکن موجودہ واقعات سے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ امریکی چودھراہٹ کے لئے کچھ خطرات پیدا ہونے جا رہے ہیں اور امریکہ کو من مرضی کی کارروائیاں کرنے کی اجازت شاید آئندہ سالوں میں اس طرح نہ مل سکے۔جس طرح اسے ماضی میں ملتی رہی ہے۔

عراق ، کویت ، افغانستان اور لیبیا کے معاملے پر امریکی اقدامات کو کسی سطح پر بھی کسی جانب سے چیلنج نہیں کیا گیا۔ یورپی ممالک تو ان تمام معاملات میں امریکہ کے اتحادی بن گئے۔ عرب ممالک مخمصے میں مبتلا رہے اور چیلنج کرنے کی بات تو درکنار، ان مسائل پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے بھی قاصر رہے۔ سابقہ سپر پاور روس نے بھی خاموش تماشائی بننے میں ہی عافیت سمجھی اور ”انتظار کرو اور دیکھو“ کی پالیسی پر ہی اکتفا کیا....عوامی جمہوریہ چین کی تمام تر توجہ اپنی معیشت کو مضبوط کرنے اور یورپی و امریکی منڈیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے تک محدود رہی اور اس نے سیاسی معاملات پر امریکہ اور یورپی ممالک کو چیلنج کرنا مناسب نہیں سمجھا، لیکن تازہ ترین واقعات سے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید عالمی سطح پرطاقت کے توازن کی موجودہ صور ت حال تبدیل ہونے لگی ہے اور طاقت کے توازن کے پرانے نظام بائی پولر سسٹم کے دوبارہ قائم ہونے کی راہ ہموار ہو رہی ہے.... اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آئندہ سالوں میں امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں روس اور عوامی جمہوریہ چین کھڑے ہو سکیں گے یا نہیں ؟ شام کے موجودہ بحران سے کچھ ایسے شواہد ضرور ملے ہیں، جن سے کسی حد تک اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شاید مستقبل میں دوبارہ بائی پولر سسٹم وجود میں آ جائے اور امریکہ کے مقابلے میں روس اور چین ایک دوسری سپر پاور کے طور پر سامنے آئیں اور ایک نئی سردجنگ کا آغاز ہو جائے ، شام کے بحران کے خاتمے کے لئے امریکہ اور یورپی ممالک کافی عرصے سے روس اور چین پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ وہ شام کے مسئلے پر اپنی پوزیشن تبدیل کر لیں، شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت ترک کر دیں اور شام کی حکومت کے خاتمے کے لئے بیرونی مداخلت کی حمایت کریں اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی نئی قرار دادوں کی حمایت کریں ۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ بیلری کلنٹن نے گزشتہ ہفتے روس کو دھمکی دی تھی کہ اگر شام پر اس نے اپنا موقف تبدیل نہ کیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، اس کے بعد شام کی اپوزیشن کے لیڈر نے روس کا دورہ کیا اور شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف تعاون حاصل کرنے کی درخواست کی تو روس نے انہیں صاف جواب دے دیا اور واضح الفاظ میں بتایا کہ روس بشار الاسد کی حمایت ترک نہیں کرے گا۔

روس نے شام کی اپوزیشن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کر کے مسئلہ حل کرے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کوفی عنان نے روس کا دورہ کیا اور روس کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ روس شام کے معاملے میں اپنا موقف تبدیل کرے، لیکن روسی وزیر خارجہ سر گئی لاوروف نے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر روسی پوزیشن تبدیل نہیں ہو گی اور روس اقوام متحدہ کے ذریعے شام پر لگانی جانے والی پابندیوں کی حمایت نہیں کرے گا، بلکہ روسی وزیر خارجہ نے شام کے مسئلے پر اقوام متحدہ اور امریکی موقف کو بلیک میلنگ قرار دیا ہے ، روس شام کو اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے، جس سے شام کے صدر بشار الاسد کو اپوزیشن کو دبانے اور اپنی حکومت برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ اس صورت حال کا یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ شام کے بحران پر روس اور عوامی جمہوریہ چین میں مسلسل صلاح مشورہ جاری ہے اور دونوں ملک اس عالمی مسئلے پر مشترکہ موقف قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کوفی عنان کے منصوبے کی حمایت کی ہے، جس میں شام کا بحران بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

روس اور چین اس سال کے شروع میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لئے اقوام متحدہ میںمیں ویٹو کا حق استعمال کر چکے ہیں اور حالات و واقعات سے لگتا ہے کہ اگر امریکہ نے آئندہ بھی اقوام متحدہ کے ذریعے شام کی حکومت کو کمزور کرنے یا گرانے کی کوشش کی تو روس اور چین دوبارہ ویٹو کا حق استعمال کریں گے اور شام کی حکومت کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ دوسری طرف عرب ممالک میں شام کی حکومت کے خلاف جس طرح کی ہوا چلی تھی ، روس اور چین کے موقف کی وجہ سے وہ قدرے تھم چکی ہے۔ جمعرات کو عراق میں شام کے مسئلے پر عرب ممالک کی ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، اس کانفرنس کے بارے میں عراقی وزیر خارجہ نے پیشگی عندیہ دیا ہے کہ اس میں شرکت کرنے والے عرب ممالک شام کے صدر سے استعفے کا مطالبہ نہیں کریں گے، حالانکہ عرب ممالک میں سعودی عرب اور قطر نے شام کی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کرنے کا کہا ہے، لیکن عرب ممالک میں اس مسئلے پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا اور تمام عرب ممالک اس موقف کی حمایت نہیں کرتے۔

شام کے بحران پر روس اور چین نے جو موقف اختیار کیا ہے، اس طرح کا موقف سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے.... اقوام متحدہ میں بھی ماضی کے برسوں میں امریکی رائے کو ہی فوقیت حاصل رہی ہے اور امریکہ اس فورم کے ذریعے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں کامیاب ہوتا رہا ہے، لیکن شام کے بحران اور اس پر امریکی مو¿قف کی روس اور چین کی جانب سے بھرپور مزاحمت اور مخالفت سے محسوس ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہونے والا ہے.... اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ امریکی اور یورپی نقطہءنظر کو آئندہ سالوں میں اقوام متحدہ اور اس کے باہر کتنی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے من مرضی کی کارروائیاں کرنے اور اپنے فیصلوں کی تائید میں عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے میں امریکہ اور یورپ کو شاید مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس طرح عالمی سطح پر طاقت کا بائی پولر سسٹم قائم ہونے کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ شام کے حالیہ بحران نے نئی سیاسی صف بندیوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کے مستقبل میں عالمی سیاست پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

مزید :

کالم -