آبادی کا المیہ؟

آبادی کا المیہ؟
آبادی کا المیہ؟

  

اقوامِ متحدہ کا عالمی ادارہ برائے آبادی UNFPA، ہر سال آبادی کا عالمی دن 11جولائی کو منا تا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد آبادی سے متعلق مسائل، چھوٹے کنبے کی افادیت اور بڑھتی آبادی کے ہنگامی اثرات پر اقوام عالم کی توجہ دلائی جاتی ہے۔اس سال عالمی یوم آبادی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی نے 48ملین سے زیادہ عورتوں اور بچیوں کی صحت و سلامتی کے لیے انسان دوست خدمات کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ادا رے کی اس اپیل کو ''انسان دوست اقدامات کا جائزہ''کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ عورتوں اور بچیوں کو صحت کی موثر اور محفوظ خدمات کی عدم فراہمی ایک بڑا چیلینج ہے۔جس کی بنا پر دنیا میں ہر سال لاکھوں عورتیں حمل اور بچے کی پیدائش سے متعلق پیچیدگیوں کی بنا پر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ صنفی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک ان خطرات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر 2020میں انسانی فلاح کے کاموں میں نقصان دہ حد تک کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ہر 45افراد میں سے ایک اس آفت سے متاثر ہو رہا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر 168ملین افراد کو فوری طور پر صحت کی انسان دوست خدمات مہیا کی جائیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دنوں میں خاص طور پر کمزور اور غیر محفوظ خواتین کو تولیدی صحت کی خدمات کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔اس وبا نے لوگوں کو انفرادی، معاشی اور ثقافتی طور پر بری طرح متاثر کیا ہے۔ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے۔ خواتین جو اس وبا کے خلاف مختلف حیثیتوں سے خدمات انجام دے رہی ہے، وہ زیادہ خطرناک حالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ان حالات میں تولیدی صحت کی خدمات لاک ڈاؤن کی وجہ سے بری طرح نظر انداز ہو رہی ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں سالانہ شرح پیدائش دیگر ترقی پزیر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ نوزائدہ اور چھوٹے بچوں میں شرح اموات اور حمل و پیدائش سے متعلق پیچیدگیوں کی بنا پر ماؤں کی اموات کی شرح بھی مقابلاتہً زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر 37منٹ کے بعد ایک ماں حمل اور بچے کی پیدائش سے متعلق مسائل کی بنا پر مر جاتی ہے۔اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے آبادی اور یونیسیف کی رپورٹس کے مطابق دنیا میں زچگی کی اموات ایک لاکھ پر 178ہے جبکہ پاکستان میں یہی شرح 276ہے۔ہمارے ہاں 15فیصد حمل اور پیدائش خطرناک او ر پیچیدہ تصور کیے جاتے ہیں جبکہ زچگی کی 4500اموات کو روکا جا سکتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ صحت کی سہولتوں کے نظام کو بہتر اور معیاری بنایا، بنیادی مراکز صحت اور بالخصوص تحصیل ہیڈ کواٹرز ہسپتالوں کی خدمات کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے۔ کم عمری کی شادی بھی اموات کی ایک وجہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچیوں کی کم عمر یا زیادہ عمر میں شادی، بچوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ پاکستان میں اب بھی 70فیصد پیدائش گھروں پر ہوتی ہے۔اکثر پیدائش غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں ہوتی ہے جو خطرناک علامات سمجھ نہیں پاتیں اور اس وقت ہسپتال ریفر کرتی ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

مذ کورہ بالا وجوہات کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ اور بھی ہے جس پر ماضی میں کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ یعنی زچہ بچہ سنٹرز، میٹرنٹی ہومز اور کلینکس پر دی جانے والی صحت کی سہولتوں کے معیار، ضروریات اور ان کا مستند ہونا ضروری تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ گاؤں اور چھوٹے شہروں حتیٰ کہ بڑے شہروں میں بھی اکثر میٹرنٹی ہومزاور ماں بچہ کی صحت کے مراکز پر کوالیفائیڈ اسٹاف، ڈاکٹرز، گائنا کالوجسٹ اور درکار طبی سہولتوں کا فقدان دیکھنے میں آیا ہے۔ ہم اکثر اخبارات میں پڑھتے اور ٹیلی ویژن میں دیکھتے ہیں کہ نا تجربہ کار اور غیر متعلقہ اسٹاف کے ہاتھوں کیس کے دوران ماں یا بچے کی موت واقع ہو گئی ہو۔ پیسے کی لالچ میں اکثر نارمل ڈلیوری کو بھی بڑا آپریشن تجویز کیا جاتا ہے اور غیر ضروری آپریشن کر دیا جاتا ہے۔یہ آپریشن اکثر مستند ڈاکٹروں کی بجائے زچہ بچہ سنٹریا میٹرنٹی ہومزکا اسٹاف کر دیتا ہے۔ یہ مراکز کسی قانونی اور حکومتی کو نسل سے رجسٹرڈ بھی نہیں ہوتے۔ یہ جعلی یا عطائی علاج گاہیں کہلاتے ہیں۔ ان تمام حالات کے پس منظر میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ایسے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایسے جعلی اور عطائی زچہ بچہ سنٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں نہ صرف سیل کر دیا بلکہ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ کمیشن نے صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قواعدو ضوابط مرتب کیے ہیں جنھیں صحت کی مختلف خدمات فراہم کرنے والی علاج گاہوں میں نافذ کیا گیا ہے۔ان میں صحت کی کم سے کم معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا، زچہ بچہ سنٹرز اور میٹرنٹی ہومز میں لازمی طور پر مہیا کرنا ہے۔

غیر مستند اور غیر متعلقہ طبی عملے کا کیس کرنا قانونی طور پر قابل سزا جرم ہے۔ لہذا اس سے اجتناب برتنا چاہئے۔ کمیشن نے ایسے زچہ بچہ سنٹرز اور میٹرنٹی ہومزکے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہوا ہے۔ عوام الناس سے بھی التماس ہے کہ وہ ماں بچے کی صحت و زندگی کی سلامتی کے لیے خوشخبری آنے کی صورت میں صرف کمیشن کے رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ علاج گاہ سے ہی کیس کروائیں اور ضروری وزٹ کارڈ بنوائیں تاکہ بچے کی پیدائش کے قریب کسی جعلی یا عطائی علاج گاہ پر نہ جانا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -