لو جی فیر نواں کٹا کھل گیا۔

  لو جی فیر نواں کٹا کھل گیا۔
  لو جی فیر نواں کٹا کھل گیا۔

  

 اسے کہتے ہیں ساری رات روتے رہے مریا کوئی وی نہیں،بے شک کامیابی کے سب ابّے ہوتے ہیں ناکامی کی کوئی امّاں نہیں ہوتی لیکن میں جانتا ہوں فیٹف کا ابّاکون کون ہے اور اماں کون ہے فی الحال مجھے آپکو بتانے کی ضرورت نہیں ”ایویں ٹکور“کرتا پھروں قومی مفاد میں پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے بعد”آیوڈیکس“ ایویں مہنگی ہوگئی ہے۔سنتا سنگھ کی والدہ اپنی بہو سے بولیں پت جب سنتا ہونے والا تھا تو میں جو کھاتی تھی آج اسے وہی پسند ہے،بہو بولی ماں جی تہانوں اس وقت چرس نہیں پینی سی۔بہنوں تے بھائیو قیام پاکستان سے قبل اگر ہم نے کچھ اچھا کھایا پیا ہوتا تو آج یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا،آج فیٹف کی فٹے منہ کی طرح ہمارے بوتھے پہ ہر دو سال بعد چپیڑ پڑجاتی ہے۔جو مرضی کرلو ہر بار نواں کٹا کھل جاتا ہے،میری درخواست ہے اب فیٹف کی ٹیم آرہی ہے لہذا جو جو منی لانڈرر ہیں انہیں ”نیوا نیوا“کرکے ملک سے باہر بھیج دیا جائے پھر سوچتا ہوں ہونجا پھر جانا اے تخت حکومت خالی ہو جائے گا بہتر ہے کہ حکمران اس منحوس ٹیم سے نہ ہی ملیں۔بنتا سنگھ نے ہار چوری کرکے اپنی محبوبہ کو پیش کیا  اس کی محبوبہ بولی بنتا جی اس ہار کی کیا قیمت ہے وہ بولا چار سال قید تے لتر وکھرے۔چلو جی یہ وکھری سزا ہے چور باہر کاروبار کریں بچے موجیں کریں اور لتر پڑیں عوام کو۔عوام بھوکے مریں انکے بچے ایڑیاں رگڑیں مہنگائی روزانہ کفن فروشوں کا کاروبار چمکائے،دو وقت کی روٹی ایک خواب بن جائے،زندگی امتحان ہوجائے، قرضے کے بلیک ہولز اس قوم کی مسکراہٹ مستقبل کو ہڑپ کرجائیں کیا فرق پڑتا ہے۔اس تباہی کے ذمہ داروں کی اولادیں اثاثے،فیوچر پلاننگ سب فارن فنڈنگ کی طرح پہلے ہی یورپ،امریکا،برطانیہ سیٹل ہیں،وہ یہاں تب تک رہیں گے جب تک ہم دیوالیہ نہیں ہوتے،جیسے کسی بنائی تصویر کا گدھ بچے کی موت کا انتظار کرتا رہا تھا۔انکا ایک ایک عمل کہتا ہے کہ”جاگدے رہنا تے ساڈے تے نہ رہنا“ لیکن ہم ہیں کہ مرتے مرتے بھی حق غلامی نبھائیں گے، انہی  کے ہاتھوں مریں گے، انہی کے ہاتھوں چھتر کھائیں گے اور کہیں گے واہ بادشاہو سواد آگیا چس آگیا۔

او میرے لکھے کبوترو بڑھتی موت کو دیکھ کے بھی آنکھیں بند کرکے آوے ای آوے جیوے جیوے کی  غٹرغوں غٹرغوں کرنے والو آنکھیں کھولو اب”اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے“ والا وقت لنگھ گیا،ہوش کرو۔خوف کی دیواریں گرادو اس سے پہلے اس کا سایا ہٹے اور تم سورج میں جھلس کے رہ جاؤ۔میں جانتا ہوں نیند اور جہالت جتنی گہری ہوگی ا سے اٹھانے والے پہ اتنا ہی غصہ آتا ہے،لہذا بھائی جان سواری اپنی ذمہ داری پہ،اپنے سامان کی حفاظت فرمائیں،مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ جو خاتون آپکو پسند آئے اسے نکاح کا پیغام دے دو سنتا بولا مولوی صاب ہن او بلاک کردیندیاں نے،میرے پیارے شناختی کارڈ ہولڈرز پاکستانیو، چن مکھنو یہ ڈیجیٹل دور ہے،دنیا چاند ٹپ کے کہکشاں تسخیر کررہی ہے اور ہم ابھی نیب آرڈیننس بہتر بنانے،ای سی ایل سے نام کٹانے میں لگے ہیں اور مہربان منہ میں مصلحت کا گٹکا ڈالے”مجھے دنیا والو شرابی نہ سمجھو“ گاتے پھر رہے ہیں۔”او اللہ والیو اوچیاں شاناں والیو“کنپٹی پہ انگلی رکھنے کی بجائے عوام کی نفس پر انگلی رکھو،عوام کو دیکھو کیا کہہ رہے ہیں۔”دیکھ لاں گے،نبڈ لاں گے“یہ مسائل کا حل نہیں ہے ان کی بات سنیں،ان کی بات سمجھیں وہ کہہ کیارہے ہیں،ورنہ جس حال میں ہم پہنچ گئے ہیں اس کے بعد آگے کیا رہ جاتا ہے یہ ملک ہے غریب عوام کا ملک ہے۔یہاں پیڈ انٹرن شپ اس طرح دی جاتی ہے جیسے اپنوں میں ”ریوڑیاں بانٹی“جاتی ہیں۔بلاول بھٹو پیڈ انٹرن شپ پہ پوری دنیا پھر رہا ہے خارجہ امور سیکھ رہا ہے،حمزہ شہبازپیڈ انٹرن شپ سرکاری پہ وزیر اعلیٰ شپ سیکھ رہا ہے،مولانا فضل الرحمن کا بیٹا اسدپیڈ انٹرن شپ پہ وزارت سیکھ رہا ہے۔یہ ملک پیڈ انٹرن شپ والوں کے لئے نہیں ہے یہ ملک ان کے لئے ہے جنہوں نے اس ملک کے لئے خون کے نذرانے دیئے ہیں۔بھائی جان ہم کہے دیتے ہیں کہ ”بچ موڑ توں“اب اگر کوئی موڑ سے نا بچنا چاہے توہم کچھ نہیں کر سکتے۔

مزید :

رائے -کالم -