میری اور حکومت کی کارکردگی:ایک جائزہ

میری اور حکومت کی کارکردگی:ایک جائزہ
میری اور حکومت کی کارکردگی:ایک جائزہ

  

ہم وطنوں کی اکثریت کی طرح مجھے بھی بچپن سے ہی کارکردگی دکھانے کا بہت شوق ہے۔ اِن دنوں حکومت کی کارکردگی کی بات ہو رہی ہے، تو میرے مُنہ میں بھی پانی آ رہا ہے۔ پینے کو خالص پانی ملے نہ ملے، بحیثیت قوم ہمارے مُنہ میں پانی بہت آیا اور ہم کرپشن وغیرہ اور دیگر غلط کاموں میں ایک دوسرے سے پیچھے رہنے کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ ان وجوہات کی وجہ سے مَیں نے اپنی اور حکومت کی کارکردگی کا رضاکارانہ طور پر از خود جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی کارکردگی کے بہت سے پہلو ہیں، جن کا موازنہ مجھ جیسے غریب سے نہ کیا جائے، جس کے پاس پھوٹی کوڑی تو درکنار ٹوٹی سائیکل بھی نہیں۔ مَیں صرف ایک شعبے میں کارکردگی کے موازنے کا متحمل ہو سکتا ہوں۔ یہ شعبہ ہے حکومت کی طبعی عمر پوری کرنے کی کارکردگی کا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی جمہوری حکومت ہے، جس نے پانچ سال پورے کئے ہیں اور جو حاتم طائی کی طرح انتخابات کے بعد اگر خود نہ جیتی تو اقتدار منتقل کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

 حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے نامساعد حالات میں اپنے پانچ سال پورے کئے۔ یہ واحد حکومت ہے، جس کے جانے کی پیشین گوئی سالانہ، ماہانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر نہیں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر کی جاتی رہی۔ اگر حکومت کو درپیش چیلنجوںکی بات کی جائے، تو یہ کالم انہی باتوں میں ختم ہو جائے گا، اس لئے ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ حکومت تو حکومت ہے، مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ مَیں نے اپنی زندگی میں کتنے چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔ کتنے امتحانات میں مجھے کامیابی ملی اور مَیں سرخرو ہوا۔ میری سب سے بڑی کا میابی تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ماشا اللہ مَیں 58سال کا ہو گیا ہوں۔ وطن عزیز میں58سال تک زندہ رہنا اور موت سے بچے رہنا، ایک ایسا کارنامہ ہے، جو حکومت کے پانچ سال پورے کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

 اس حقیقت کے باوصف کہ مَیں مصدقہ شریف اور غریب آدمی ہوں اور اسلحہ تو درکنار، میرے پاس جان بچانے اور دشمن کا وار سہنے کے لئے ایک لاٹھی تک نہیں، میری آدھی زندگی ایک گاﺅں میں گزری جس میں انسان، حیوان، چرند، پرند، اور جنگلی جانور ایک ہی جگہ سے پانی پیتے تھے۔ اس گاﺅں میں ایک ایسا بدمعاش بھی تھا جو شوقیہ انسانوں کو قتل کرتا تھا۔ اس بدمعاش کا یہ شوق مجھ پر پورا نہیں ہوا۔ ہمارے گاﺅں میں اگر کوئی بیمار ہوتا تو مولوی صاحب سے تعویز لینا اور دم کروانا بڑی عیاشی تھی۔ ڈاکٹر اور دوائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ان حالات میں بھی مَیں بچا رہا۔ چھوڑیئے یہ تو گاﺅں کی پرانی باتیں ہیں ، آپ اِن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ شہر کی بات کرتے ہیں۔ مَیں جس علاقے میں رہتا ہوں، وہاں پینے کے پانی کے پائپ گندے نالوں سے گزارے گئے ہیں تاکہ بوقت ضرورت میٹھے پانی کا ذائقہ تبدیل ہو اور شہری یکسانیت کا شکار ہونے سے بچے رہیں۔

 ایک بیرونی ملک میں رہنے کا اتفاق ہوا، تو حیران ہوا کہ پینے کے پانی کی ٹونٹی لگانے والے پلمبر کو بھی میڈیکل کرانا پڑتا ہے، اس لئے کہ کہیں اسے ٹی بی یا اور کوئی خطرناک بیماری تو نہیں۔ مَیں صبح جس جگہ سیر کرتا ہوں، وہاں ٹی بی کے مریض بھی آتے ہیں، جگہ جگہ تھوکنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایک دو بار تو میرے مُنہ کے قریب بھی تھوک چکے۔ مَیں جس ریڑھی والے سے پھل خریدتا ہوں، وہ بھی مریض ہے۔ وہ پھل ڈال کر لفافہ ڈبل کرتا ہے اور دوسرے لفافے کو مُنہ میں ڈال کر یہ عمل سرانجام دیتا ہے، لفافے کو لگنے والے تھوک کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ مَیں جس پارک میں سیر کرتا ہوں، اس کے گیٹ پر خاکروب کوڑے کو آگ لگاتے ہیں۔ پلاسٹک کے خطرناک دھوئیں میں سانس لیتے ہوئے مَیں سیر مکمل کرتا ہوں۔ مَیں سالہا سال سے جو دودھ استعمال کرتا رہا، اب پتہ چلا ہے کہ اس میں سرف اور کاسٹک سوڈا وغیرہ ڈالا جاتا تھا۔ مَیں جس ریڑھی سے گنے کا رَس پیتا ہوں، وہاں پر موجود گلاسوں میں یرقان کے مریض بھی رَس لیتے ہیں۔

 میرے پاس سواری نہیں، اکثر پیدل چلتا ہوں۔ پانچ بار مجھ سے موٹر سائیکل ٹکرا چکے ہیں۔ مَیں 15سال سے جس سڑک پر سفر کر رہا ہوں، وہاں روزانہ حادثات ہوتے ہیں۔ مَیں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ مَیں ایک غریب آدمی ہوں۔ کوئی بھی امیر آدمی مجھے کہیں بھی اور کسی بھی وقت گولی مار سکتا ہے یا مروا سکتا ہے اور باعزت بَری بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تو آپ کو بتایا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے 58سال تک مجھے دہشت گردی سے بچائے رکھا۔ ان تمام چیلنجوں کے باوجود مَیں اس وقت تک زندہ ہوں۔ ایمانداری سے بتایئے میری کارکردگی بہتر ہے یا حکومت کی؟.... صرف میری ہی نہیں، پاکستان کے ہر اُس شہری کی کارکردگی حکومت سے بہتر ہے، جو اِن حالات میں زندہ رہنے میں کامیاب ہے۔   ٭

مزید : کالم