روس کی یورپ پر نئی یلغار 

روس کی یورپ پر نئی یلغار 
روس کی یورپ پر نئی یلغار 

  

برطانیہ میں روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو نکالنا شروع کر دیا ہے اور یورپ میں روسی کارروائیوں پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے ۔اس سے پہلے کافی عرصہ تک روسی طیارے ناروے،آئیس لینڈ،سویڈن ،برطانیہ اور ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔امریکہ اگرچہ یورپ کا حلیف ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی یورپی ممالک اور ان کے سربراہان کے بارے میں جو رویہ رکھا اس کے بعد یورپی ممالک کے لیے آپشز کافی کم رہ جاتی ہیں ۔

روس کے جس جاسوس کو زہر دیا گیا اس پر دوہرے جاسوس ہونے کا الزام تھا ،اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی ہلاک ہو گئی ہے ۔اسی تناظر میں ایک روسی بزنس مین بھی ہلاک ہوا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے حالانکہ اس قتل کا ظاہری طور پر جاسوس کے قتل سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ برطانیہ نے اسے اپنے ملک میں روسی مداخلت قرار دیا ہے جبکہ روسی اسے برطانیہ کا بے جا غصہ اور جلد بازی کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ روس نے حیرت انگیز طور پر اسے شام کے حالات اور اس میں روسی کامیابی کو اس ردعمل کی وجہ قرار دے دیا ہے ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

امریکا نے مغربی یورپ اور روس نے مشرقی یورپ کو سرد جنگ کی آڑ میں بہت استعمال کیا ہے ۔یورپی یونین کی وجہ سے یورپ بہت مضبوط ہوا تھا لیکن برطانیہ کے نکلنے سے نہ صرف یورپی یونین کو خطرہ لاحق ہوا بلکہ نیٹو کا مستقبل بھی خطرہ میں پڑ گیا۔ اگرچہ امریکہ نیٹو کو ختم ہونے نہیں دے سکتا کیونکہ یہ اس کے اپنے مفاد میں نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نیٹو کا خرچہ برداشت کرنے والے اس کی قیمت تو برداشت کر رہے ہیں لیکن وہ اسے امریکی مفاد پرستی کا کھلونا بھی نہیں بنتا دیکھنا چاہتے۔اسی لیے امریکی بھی خطرہ کی صورت میں یورپ کی مدد کو تو آجائیں گے لیکن امریکیوں کا ریکارڈ اس معاملے میں زیادہ اچھا بھی نہیں۔امریکا سے کئی معاملات میں کئی یورپی ممالک احتجاج بھی کر چکے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو امریکا کے خلاف ترتیب دے رہے ہیں۔

یورپی یونین کا قیام امریکا کے خلاف تھا نہ کہ روس کے خلاف۔اس وقت یورپ کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ یہاں کئی ممالک کی اپنی فوج ہی نہیں۔ آئیس لنیڈ کی اپنی کوئی فوج نہیں۔ 2006ء تک امریکی افواج اور طیارے اس کی رکھوالی کرتے تھے ۔اب نیٹو کے ممبر ملک اپنی افواج باری باری تعینات کرتے ہیں۔ ۔ ناروے کی افواج کی تعداد محض پچیس ہزار ہے۔ چند لڑاکا طیارے اور دیگر اسلحہ میسر ہے جو روس جیسے خطرے کے سامنے چند لمحوں کی مار ہے۔یہی حالت بلجیئم،اسپین، ، یونان، ہالنیڈ، ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ کی بھی ہے ۔ان ممالک میں اٹلی ،سویڈن ،فرانس ،جرمنی،برطانیہ اور ترکی کا دفاع مضبوط ہے اور یہ ممالک روسیوں سے ٹکر لینے کے قابل ہیں۔

خطرہ یہی ختم نہیں ہوتا ۔اب وہ ریاستیں بھی شدید خطرے میں ہیں جو اب نیٹو کا حصہ ہیں لیکن کسی دور میں وہ روس کی چھتری کے نیچے تھیں۔ اس میں جمہوریہ چیک، جمہوریہ سلاوکیہ ،ہنگری،رومانیہ،اور پولینڈ سمیت کئی دیگر ممالک بھی تھے جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی بلاک کا حصہ بن گئے تھے 150

اس وقت روس اپنی پرانی پالیسیوں کو پھر سے زندہ کر رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کی معیشت اب پہلے جیسے بحران میں نہیں رہی اور اس کی افواج بھی اب پہلے سے کافی جدید اور تازہ دم ہیں۔اس وقت روسی صدر نئے انتخاب کے باعث بہت جلدی میں نہیں لیکن روس نے یہ ثابت ضرور کر دیاہے کہ روس اپنے مفاد کے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور یورپ اب اس کے نشانے پر ہے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -