”23مارچ اور ہم“

”23مارچ اور ہم“
”23مارچ اور ہم“

  

مقرراپنے منفرد انداز میں انگریزی میں تقریر کر رہا تھا۔منٹو پارک لاہور میں لگ بھگ ایک لاکھ افراد پر مشتمل مجمع دنیا و مافیہا سے بے خبر مقرر کے ایک ایک لفظ کو ایسے سن رہا تھا،جیسے کوئی طالب علم امتحان سے قبل کی رات کتاب کو توجہ سے پڑھتا ہے۔مجمع میں جہاں چند اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔وہاں غالب تعداد میں نیم خواندہ اور ان پڑھ افراد شامل تھے۔حاضرین میں سے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی میں کوئی بات کرنا چاہی توتیسرے شخص نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ کہہ کر چُپ رہنے کو کہا کہ لوگوں کو توجہ سے تقریر سننے دیں۔اس شخص نے کہا،”مقرر تو انگریزی میں تقریر کر رہا ہے۔کیا تمہیں انگریزی آتی ہے؟“وہ شخص کہنے لگا،”بھلے مجھے اس کے لفظوں کی سمجھ نہیں آتی مگر اس کا لب و لہجہ بتا رہا ہے کہ اس سے بڑا اس زمین پر میرا کوئی اور ہمدرد مند نہیں ہے۔صرف یہی شخص مجھے ہندو بنیے سے آزادی دِلا سکتا ہے۔اور انگریز کو سات سمندر پار اس کے وطن بھیج سکتا ہے۔

دنیا میں کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کے کردار اور الفاظ پر لوگ بِلا چُون و چراں اعتماد کرتے ہیں۔اعتماد کی یہ دولت اور معراج پانے کے لئے ذاتی اَنا،آرام وسکون تعیشات،د ولت کی قربانی دینا لازم ہوتا ہے۔وگرنہ لیڈربننے کا شوق گلی،محلے،کالونی، شہر ہر گھر میں بہتات سے پایا جاتا ہے اور اسی شوق کی بدولت کئی ڈاکہ زَن لیڈر بن جاتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒایک ایسے شخص کا نام ہے جس نے بے یارومددگار، تسلط و جبر کی چکی پیستے برصغیر کے مسلمانوں کو نہ صرف الگ تشخص دلوانے میں کردار ادا کیا بلکہ اپنی اور اپنے قافلے کی ہر طرح کی قربانی کی بنیاد پر آزادی کی نعمت گود میں لاڈالی۔

بھارت میں انگریز کی متعارف کردہ اصلاحات نے مسلمانوں کو جمہوری نظام کے اندر اقلیت بنانے کا اہتمام کیا،جس سے مسلمانوں کو اپنے بنیادی حقوق کا تحفظ غیر یقینی نظر آیا،کیونکہ ہندو اکثریت کی ریاست میں اُن کی تعداد ایک چوتھائی تھی۔اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لئے انہوں نے علیحدہ رائے دہندگی کا مطالبہ کیا،لیکن اُنہیں جلد ہی احساس ہوگیاکہ صرف جُداگانہ حقِ رائے دہی شاید اُن کے حقوق کا تحفظ نہ کر سکے۔

علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے باہمی روابط و مراسلت کے بعدان کا اس بات پر اتفاق ٹھہرا کہ مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل ہندوستانی مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کا قیام تھا۔جہاں وہ قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال سکیں۔اس بات کا باقاعدہ اظہار کرنے کے لئے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کا ستائیسواں اجلاس لاہور میں 22تا24مارچ 1940ء کو منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔اس اجلاس میں شرکت کرنے والے نمایاں افراد میں چودھری خلیق الزمان،نواب بہادریارجنگ،اے۔کے فضل الحق،سردار عبدلرّب نشتر،عبداللہ ہارون،قاضی محمد عیسیٰ، آئی۔آئی چندری گر اور خواجہ ناظم الدین وغیرہ تھے۔تاہم اجلاس سے قبل 19مارچ کو لاہور بھاٹی گیٹ میں سانحہ خاکسار پیش آیا۔جہاں پولیس کے ساتھ تصادم میں پچاس خاکساروں کی شہادت کے علاوہ بہت سارے خاکسار مضروب ہوئے،جس کی بدولت سَر سکندر حیات جو اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے،نے قائداعظم سے اجلاس ملتوی کرنے کی ناکام کوشش کی۔اجلاس سے ایک دن قبل قائداعظم زخمی خاکساروں کی عیادت کے لئے میو ہسپتال تشریف لے گئے۔اس طرح بغیر کسی مزاحمت اور انتہائی دانشمندی کے ساتھ 22مارچ کو اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اجلاس میں لگ بھگ ایک لاکھ حاضرین موجود تھے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انگریزی میں لگاتار دو گھنٹے عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے خطاب کیا اور ان واقعات پر روشنی ڈالی،جو پچھلے چند مہینوں میں رونما ہوئے تھے۔یہی وہ اجلاس ہے جہاں قائد اعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی،سماجی اور اَدبی فلسفوں سے تعلق رکھتے ہیں۔نہ وہ ایک دوسرے سے شادی کر تے ہیں،نہ ہی وہ اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔درحقیقت وہ دومختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں،جن کی بنیاد متضاد تصورات پر ہے۔ان کے زندگی پر اور زندگی کے بارے میں خیالات جُدا جُدا ہیں۔اُن کی فتوحات وشکست جُدا ہیں۔ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہے۔دو مختلف نظریات کی حامل قوموں کو جن میں سے ایک بڑی اکثریت میں ہو اور دوسری اقلیت،میں  ایک ریاست کی پنجالی میں جوتنا  ایسی ریاست کی تباہی کا باعث ہو گی۔پھر فرمایا کہ مسلمان لفظ قومیت کی کسی بھی تعریف کے تحت ایک بھرپور قوم ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ روحانی، ثقافتی،معاشی اور سیاسی زندگیوں کواپنی عقل و دانش کے مطابق گزار سکیں۔تقریر کے دوران قائداعظم نے راجہ لاج پت رائے کے اس خط کا حوالہ بھی دیا جو اس نے سی۔ آر۔ داس کو لکھا تھا۔جس میں اس نے خود سے اظہار کیا تھا کہ ہندواور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جو کبھی بھی ایک قوم میں نہیں ڈھل سکتیں۔23مارچ 1940ء کو اے۔کے فضل الحق، جو اس وقت بنگال کے وزیراعلیٰ تھے، نے تحریک پیش کی جس کا نام قرار دادِ لاہور رکھا گیا،اور جو بعد میں قرار دادِ پاکستان کہلائی۔

ہر سال 23مارچ آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔یہ دن سرکاری سطح پر دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے تعطیل کا باعث بنتا ہے اور تعلیمی اداروں میں قومی ترانہ اور چند اور پہلوؤں پر مبنی کاروائی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ضرورت اس اَمر کی ہے کہ 23مارچ کے دن جُملہ سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور سرکار کے تحت چلنے والے نیم سرکاری اداروں میں اس دن کو اس طریقے سے منایا جائے کہ قرار دادِ پاکستان کا منظر اور اس پس ِ منظر کاہر رنگ کُھل کر کانوں سے ہوتا ہوا دل میں بیٹھ جائے۔قراردادِ پاکستان کی روح کے مطابق آج تک تاریخِ پاکستان نے جو سفر کیا ہے،اس کا تجزیہ اس طرح کیا جائے کہ ہم اپنے اپنے کردار کو پرکھنے اور اس پر نظر ثانی کے قابل ہو سکیں،نہیں تو23مارچ حسبِ سابق آتا رہے گا اور اسی طرح چند کاروائیوں کے ساتھ بغیر کوئی تاثر چھوڑے گزر تا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -