جناب کرنل جیلانی کے جواب میں ایک کالم

جناب کرنل جیلانی کے جواب میں ایک کالم
جناب کرنل جیلانی کے جواب میں ایک کالم

  



روزنامہ پاکستان کی 18نومبر کی اشاعت میں محترم لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان صاحب کے کالم بعنوان ”عمران خان کے بعد کیا ہو گا؟“ سے اول تو یہی تاثر بنتا ہے کہ یہ محض کالم برائے کالم ہے۔ دراصل کالم نویسوں کو بعض اوقات کالم محض خانہ پری کے لئے لکھنا ہوتا ہے، ان کے پاس کوئی بڑی بات کہنے کو نہیں ہوتی۔ البتہ ایک بات بہت افسوسناک معلوم ہوئی جو موصوف کے پاکستان کی سیاسی تاریخ سے نابلد ہونے کی خاصی کھلی دلیل ہے۔ لکھتے ہیں:

”ہمارے عوام،جمہوری نظام کے خوگر نہیں تھے لیکن اگست 1947ء میں جو دیمک خوردہ ملک ہمیں ملا اس کو جمہوری طرز پر چلانے کی کوشش کی گئی لیکن صرف ایک عشرے بعد فوج کو مداخلت کرنی پڑی۔ فیلڈ مارشل کا مارشل لا، حصولِ اقتدار کی کوشش نہ تھا بلکہ اس جمہوری نظام کی ناکامی کا سبب تھا جس میں ہر دو چار ماہ بعد نیا وزیر اعظم اور نئی کابینہ لانی پڑتی تھی۔“

مجھے بے حد حیرت ہوئی ہے کہ کرنل صاحب نے کیسے فرض کر لیا کہ ”فوج کو مداخلت کرنی پڑی“…… اور ”اس جمہوری نظام کی ناکامی کا سبب تھا جس میں ہر دوچار ماہ بعد نیا وزیراعظم اور نئی کابینہ لانا پڑتی تھی“…… ایسی بات ایک ایسا ہی قلمکار لکھ سکتا ہے جس کا 1947ء سے 1958ء تک کی سیاسی تاریخ کا کوئی خاص مطالعہ نہ ہو۔ اس لئے کہ وزارتیں بنوانے اور انہیں توڑنے کا کھیل صدر سکندر مرزا اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان کی پشت پناہی سے کھیل رہا تھا۔ یہ دونوں صاحبان ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔ دونوں ہی اپنے اپنے داؤ کھیل رہے تھے۔ دونوں ہمہ مقتدر ہونا چاہتے تھے اور ایک دوسرے پر وار کرنے کے لئے مناسب وقت کے انتظار میں تھے۔ دونوں نے مل کر پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کا معاملہ نام نہاد انکوائری کی بھول بھلیوں میں ڈالا پھر جتنی بھی اکھاڑ پچھاڑ ہوئی اس میں دونوں کی پوری پوری رضامندی شامل ہوتی تھی۔ دونوں کی کوشش تھی کہ اپنے گندے حربوں سے سیاسی رہنماؤں کو عوام کی نظروں سے گرا دیں لیکن ان کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ان بُرے بھلے سیاستدانوں کے ہاتھوں ملک پھر بھی ترقی کے راستے پر گامزن تھا۔ میں جناب کرنل جیلانی سے عرض کرتا ہوں کہ وہ ایسے ہی الزام عائد نہ کر دیں، ذرا حقیقت پسندی سے کام لیں۔ اگر انہوں نے 1958ء تک کے گیارہ سالہ دور آزادی کا مطالعہ نہیں کیا تو اب کرلیں،

وہ یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ایوبی مارشل لاء کے نفاذ کے وقت پاکستان معاشی طور پر بہت بہتر پوزیشن میں تھا۔1956ء میں آئین نافذ ہو چکا تھا جس کے مطابق فروری 59ء میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہو گیا تھا او ران دونوں ”محب وطن“ ہستیوں نے دیکھ لیا تھا کہ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کو نئی قیادت مل جائے گی اور ان کی ہوس اقتدار کا راستہ کلی طور پر بند ہو جائے گا۔ چنانچہ دونوں نے مل کر مارشل لاء نافذ کرنے کا پروگرام بنا لیا، سکندر مرزا رضا مند ہو گئے کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان ہوں گے۔ اس معاملے میں سکندر مرزا اپنی تمام تر چالاکیوں کے باوجود،مات کھا گئے۔ اس کا اندازہ انہیں مارشل لاء کے نفاذ کے فوراً بعد ہو گیا اسی لئے دونوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی۔ مارشل لاء کے نفاذ کے چند روز بعد تک اگر دونوں ٹکے رہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ایوب خان مدتوں جس کے ساتھ روزانہ محفل ناؤنوش سجاتے رہے تھے، اس پر فوری وار کرنے سے ہچکچا رہے تھے، بالآخر یہ فریضہ ان کے تین رفقاء کار نے انجام دیا اور یوں ان کی مراد بر آئی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر اب تک جو کچھ تحقیق ہوئی ہے وہ تو سراسر دونوں شخصیتوں کو اقتدار کا زبردست حریص بتاتی اور ان کے ہتھکنڈوں سے پردہ اٹھا دیتی ہے۔

سیاست دان تو چلو بُرے ہوئے میں کرنل صاحب سے پوچھتا ہوں یہ جنرل ایوب خان کس خدمت کے صلے میں فیلڈ مارشل بنے تھے؟ کیا ان کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اچھی بھلی چلتی سول حکومت کو تاراج کیا اور ساتھ دستور کو بھی توڑ دیا جس کا پابند رہنے کا موصوف نے حلف اٹھا رکھا تھا۔ یوں دستور توڑنے یا معطل کرنے کی روایت کی بنیاد رکھ دی۔ کیا کبھی کسی سیاستدان نے بھی ایسی جسارت کی ہے؟ آئین توڑنا یا اسے معطل کرنا کیا کوئی کم بڑا جرم ہوتا ہے۔ بعد کے حالات میں ایوب خان فی الواقع ایک ناکام حکمران ثابت ہوئے۔ انہوں نے محض کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور ایس پیوں کی مدد سے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دے کر یہ سمجھ لیا کہ واقعی قوم نے ان پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔اسی نشے میں انہوں نے ستمبر 1965ء کی جنگ کا بغیر سوچے سمجھے پنگا لے لیا۔ صرف سترہ روز بعد ہی بلبلا اٹھے کہ گولہ بارود ختم ہو گیا ہے، ہم جنگ جاری نہیں رکھ سکتے۔ یہ ان کی جنگ کی تیاری کا حال تھا۔

حالانکہ وہ فوج کے سربراہ بھی رہے اور پھر صدر مملکت بھی، انہوں نے پندرہ سال میں جنگ لڑنے کے لئے کیا اتنی ہی تیاری کی تھی کہ سارا اسلحہ سترہ دن ہی میں پُھک گیا۔ قوم پوچھ سکتی تھی کہ جناب جنگ کی تیاری نہیں تھی تو پھر جبرالٹر آپریشن کا منصوبہ کیوں بنایا تھا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے اسلام اور وطن سے سچی محبت رکھنے والے جوانوں کے خون نے دشمن کے بڑھتے قدم روک لئے تھے۔ ورنہ ایوب خان کی اپنی لیاقت تو کسی کام نہ آئی۔قوم ایوب خان کا یہ جرم تو کبھی معاف ہی نہیں کر سکتی کہ جاتے جاتے وہ اس افسر کو اقتدار سونپ گئے جس کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ حیثیت کو وہ بخوبی جانتے تھے۔ اس افسر نے پہلے مارچ 1969ء میں آئین توڑا اور پھر 3 سال بعد ہی پاکستان کو دو لخت کروا دیا اس پر مستزاد نوے ہزار سول اور فوجی افسروں کو دشمن کی قید میں دے دیا۔

کیا ہمارے سیاستدان ان دونوں سے بھی گئے گزرے تھے؟

کرنل صاحب سے میری گزارش ہے کہ وہ ذرا حقیقت شناس ہونے کا ثبوت دیں، وہ پارلیمانی دور جس کے خلاف انہوں نے گھسی پٹی دلیل دی ہے کہ روز نئی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی تھیں، وہ پھر بھی غنیمت تھا، قرضوں کا حجم بھی بہت کم تھا اور زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی رفتار بہرحال اچھی تھی۔ انتخابات ہو جانے سے ہمارے ملک کے حالات مزید بہتر ہونے کے روشن امکانات موجود تھے۔ کرنل صاحب اس حقیقت سے بھی یقینا باخبر ہوں گے کہ اس زمانے میں امریکہ کتنی سرگرمی سے نوآزاد ممالک میں غیر جمہوری قوتوں کو آگے لانے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیل رہا تھا؟

مزید : رائے /کالم