اسلام آباد سے لاہور تک

اسلام آباد سے لاہور تک
اسلام آباد سے لاہور تک

  

موٹروے کی تعمیر مسلم لیگ (ن) کا ایک کارنامہ ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے ایک بار کسی نے نوازشریف کے دور کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ موٹروے کے علاوہ توکوئی قابلِ ذکر منصوبہ نظر نہیں آتا۔ گویا اس کی اہمیت کا اُنہیں بھی اقرار کرنا پڑا، لیکن بڑی عجیب بات ہے کہ جب موٹروے کی تعمیر شروع ہونے لگی تو کئی حلقوں سے اس منصوبے کی اچھی خاصی مخالفت ہوئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اس کی تعمیر کی مخالف تھی۔ مرحوم فاروق لغاری نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس منصوبے کی سخت مخالفت کی۔ مجھے یاد ہے کہ اے این پی کے اسفند یار ولی نے پارلیمنٹ میں اس منصوبے کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے ایک عجیب دلیل دی۔انہوں نے کہا کہ جب گاڑی کی سپیڈ ایک خاص سطح سے بڑھ جاتی ہے تو اس کے جیٹ کھل جاتے ہیں،یوں فیول کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔ اب یہ ان سیاست دانوں کی کوتاہ فہمی تھی یا مسلم لیگ(ن)کی مقبولیت میں اضافے کا خوف،اس کا فیصلہ مشکل ہے، تاہم یہ طے ہے کہ انہوں نے دور اندریشی کی بجائے تنگ نظری کا مظاہرہ کیا۔

یہاں تک کہ بعد میں پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد کے پورشن کو تین کی بجائے دو رویہ کر دیاگیا اور اگلا منصوبہ سرے سے ختم کر دیا گیا،جس پر اب عمل ہو رہا ہے۔ پھر ہر دس سال بعد موٹروے کی کارپٹنگ کرنا ہوتی ہے وہ بھی نہیں کی گئی،جو حال ہی میں مسلم لیگ کی حکومت نے ہی کرائی۔ بہرحال اس وقت یہ سمجھنا شاید مشکل تھا کہ مستقبل میں ملک میں ٹریفک اتنی بڑھ جائے گی جتنی اب ہے۔ ذرا سوچیں اگر موٹروے نہ ہوتی تو کیا جی ٹی روڈ اتنی ٹریفک کو سنبھال سکتی۔ ٹریفک کے علاوہ موٹروے کے فوائد عام لوگوں کے ذہنوں سے شاید اوجھل ہیں۔ اسلام آباد لاہور موٹروے پر سروسز ایریاز میں ہونے والے بزنس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کا اندازہ لگائیں تو حیرت ہوتی ہے۔ صرف بھیرہ میں پانچ چھ انٹرنیشنل چائنیز ریسٹورنٹ ہیں۔ ابھی تو موٹروے پر تجویز کردہ صنعتی زونز تعمیر نہیں کئے گئے ورنہ یہ سارے فوائد کئی گنا بڑھ جاتے، پتہ نہیں اس منصوبے پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟

اب لاہور سے کراچی تک موٹروے کے منصوبے پر کام جاری ہے،پھر لاہور سے دو اور موٹروے ایک گوجرہ شورکورٹ اور کبیروالا کے راستے ملتان تک ۔دوسری لاہور سے رجانہ پیر محل کے راستے عبدالحکیم تک تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ پنجاب کے گنجان آباد علاقوں میں سڑکوں کا یہ جال زراعت اور کاروبار میں حقیقتاً ایک انقلاب برپا کرے گا۔ پھر گوادر سے تین موٹروے زیرتعمیر ہیں جو گوادر کو خیبرپختوا، سندھ اور کوئٹہ سے لنک کر دیں گے۔یہ بھی ایک انقلابی منصوبہ ہو گا۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں ان منصوبوں پر کوئی کام نہیں کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے 9 سالہ دور میں کراچی اور گوادر کے درمیان ایک ہائی وے تعمیر کی گئی تھی۔ موٹر ویز کے اس جال کی تعمیر سے صرف بزنس میں اضافہ نہیں ہو گا،بلکہ سیاحت اور قومی یکجہتی کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ یہ کوئی معمولی فائدے نہیں۔

ہم نے ماضی میں ذرائع آمدورفت کی اہمیت کو نظرانداز کر کے سیاحت کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور پھر ہم رونا روتے ہیں کہ ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ ہمارے درمیان غلط فہمیاں ہیں۔ جب لوگ آپس میں آسانی اور آزادی سے مل نہیں پائیں گے تو پھر غلط فہمیاں توپیدا ہوں گی۔ پنجاب سے کتنے لوگوں نے سندھ اور بلوچستان دیکھا ہے ؟سب دیکھنا چاہیں گے بشیرطیکہ مُلک میں امن ہو اور ذرائع رسل و رسائل بہتر ہوں۔ کون قائداعظم ریزیڈنسی نہیں دیکھنا چاہے گا؟ لیکن کتنے لوگوں کو وہاں جانے کا موقع ملا ہے۔توقع کرنی چاہئے کہ نئی حکومت ان منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد جاری رکھے گی اور مسلم لیگ کی وجہ سے کسی تعصب کا شکار نہیں ہوگی ،کیونکہ یہ قومی اہمیت کے پراجیکٹ ہیں۔اس سے پہلے شہباز شریف، چودھری پرویز الٰہی کے دور کے منصوبوں کو نظرانداز کرکے بڑی غلط حرکت کر چکے ہیں۔ امید ہے ہمارے سیاست دانوں کی سوچ میں پختگی آئے گی اور وہ سیاسی اختلافات سے بلند ہو کر قومی مفاد کے لئے کام کریں گے۔

1998ء میں اسلام آباد سے لاہور کے درمیان جب موٹروے کی تعمیرمکمل ہوئی تو اس کا افتتاح اُس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے کیا۔ مَیں پی ٹی وی کی طرف سے اُس قافلے میں شریک تھا۔ اُس وقت سروسز ایریا کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، آج سے تقریباً20 سال پہلے ٹال ٹیکس 300روپے مقرر کیا گیا۔ اُس وقت ایک تو گاڑیاں اتنی تھیں نہیں،بلکہ اکثر لوگوں کے پاس چھوٹی سوزوکیاں تھیں،وہ کیوں 300 روپے دے کر موٹروے استعمال کرتے، تقریباً اتنے پیسوں کے پٹرول سے تو وہ لاہور پہنچ سکتے تھے،لہٰذا موٹروے پر ٹریفک کافی کم رہی۔ موٹروے کا انتظام کرنے والے ادارے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے حکام نے یہ غلطی محسوس کر لی اورکچھ عرصے بعد ٹال ٹیکس کم کر دیا گیا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ ٹریفک بھی بڑھتی گئی،یوں ٹال ٹیکس بھی بڑھتا رہا۔

اب موٹروے مینجمنٹ کا ٹھیکہ ایک کمپنی Moreکو دے دیا گیا ہے اور اُس کمپنی اور این ایچ اے کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹال ٹیکس میں دس فیصد سالانہ اضافہ کیا جائے گا۔ اس وقت کارکے لئے یکطرفہ ٹیکس680روپے ہے، یعنی اسلام آباد سے لاہور کا چکر لگائیں تو تقریباً ڈیڑھ ہزار روپے ٹیکس دیں۔ ویگن کے لئے 140 1 روپے اور بس کے لئے 2290 روپے ہے۔جیسے ہمارے سرکاری محکمے ہر قسم کے معاہدوں اور ٹھیکوں میں قومی مفادکے تحفظ کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کا تحفظ کرتے ہیں،یہ ٹھیکہ بھی اُسی صورت حال کی غمازی کرتا ہے۔ پہلے فیصلے کی طرح یہ فیصلہ بھی غلط ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کی جانی چاہئے ورنہ موٹروے کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

مَیں نے پہلے بتایا کہ موٹروے پر بڑا بزنس ہو رہا ہے، لیکن اس بزنس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اگر کسی چیز کی شکایت کرنی ہو تو کہاں کی جائے۔ شروع شروع میں چائے کا کپ تیس روپے کا ملتا تھا، اب صورتِ حال یہ ہے کہ کہیں چائے کا وہی کپ40روپے میں مل رہا ہے اور اس میں الائچی ڈال کر 60 یا 70 روپے کا مل رہا ہے اور پلاسٹک کے اس کپ کی کوالٹی انتہائی گھٹیا ہے اور سائز بالکل چھوٹا۔اب سروسز کے معیار کو برقرار رکھنا کس کی ذمہ داری ہے اورکمپنی کیا کر رہی ہے جو اتنا زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے؟ پھر ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ ڈرائی فروٹ اور بچوں کے کھانے کے لئے مختلف چیزیں شیشے کے شو کیسوں میں رکھی ہوئی ہیں اور گرمیوں کی دوپہروں میں ان پر شدید دھوپ پڑ رہی ہوتی ہے،اب ان چیزوں سے لوگوں کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہوں گے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں، لیکن کوئی اتھارٹی ان چیزوں کا نوٹس نہیں لے رہی۔ پہلے این ایچ اے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے موٹروے کا انتظام سنبھال رکھا تھا،اب 2014ء کو ایک تیسرا فریق More اس انتظام میں داخل ہو گیا ہے ان تینوں کے رول کو سمجھنا بھی کافی مشکل ہے۔

مزید : رائے /کالم