بیگم کلثوم کی وفات، سیاسی دوریاں ختم کرا دیں

بیگم کلثوم کی وفات، سیاسی دوریاں ختم کرا دیں

لاہور سے چودھری خادم حسین

ہمارے مشرقی معاشرے میں خوشی کی نسبت غم یا قدرتی حادثہ ناراض اعزا اور دوستوں کے درمیان حائل فاصلے ختم کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات بھی حریفوں کے درمیان باہمی ملاقات اور بات چیت کا ذریعہ بن گئی، مرحومہ کی نماز جنازہ میں تو پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے وفود نے باقاعدہ شرکت کی، اس نماز میں ہزاروں لوگ اور وی آئی پی بھی تھے تاہم اتوار کے روز پیپلزپارٹی (پارلیمنٹیرین) کے صدر، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، ان کے ساتھ صاحبزادے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دوسرے حضرات بھی جاتی امرا پہنچ گئے اور براہ راست سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے ساتھ ملاقات اور تعزیت کی، اسی طرح مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی بھی آئے اور بالمشافہ تعزیت کی۔ آصف علی زرداری نے تو ماضی قریب میں ملاقات سے انکار کر دیا ہوا تھا جبکہ چودھری برادران سے تو جماعت توڑ کر نئی جماعت بنانے پر شکوہ تھا۔ تاہم اس سانحہ نے یہ دوریاں ختم کیں اور مشرقی روایات کے پیش نظر یہ حضرات محمد نوازشریف کی رہائش گاہ پہنچے۔

ہمارے نزدیک یہ اچھا اور مستحسن قدم ہے کہ سیاسی مخالفت دشمنی نہیں ہوتی اور خوشی غم میں شرکت سے ڈائیلاگ کے راستے بند نہیں ہوتے یوں قومی مسائل پر بات اور اتفاق ممکن ہوتا ہے۔ تاہم ہمارے کئی دوست ان ملاقاتوں کو مستقبل کی سیاست کے لئے بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست کے کھیل میں شطرنج کی نئی بازی بھی بچھ سکتی ہے۔

دوسری طرف نئے پاکستان والوں نے اپنے اعلانات پرعمل کا آغاز کر دیا ہے۔سندھ کے گورنر ہاؤس کو عوام کے لئے کھولنے کے بعد لاہور میں پنجاب کے گورنر ہاؤس کے دروازے بھی وا کر دیئے گئے، اتوار کو صبح 9بجے سے شام چھ بجے تک فیملیوں کو گورنر ہاؤس دیکھنے کی اجازت دی گئی ۔ یہ عمل ہر اتوار کو جاری رہے گا، پہلے روز لوگ جوق در جوق پہنچے اور کافی رش دیکھنے میں آیا لوگ قریبی شہروں سے بھی آئے اور وقت سے پہلے ہی دروازوں پر بھیڑ ہو گئی تھی۔ صوبائی وزراء میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید اور جماعت کے دیگر اکابرین بھی موجود تھے۔ انہوں نے شہریوں کا خود استقبال کیا۔ گورنر ہاؤس کا عملہ بھی مستعد تھا اور معلومات بہم پہنچا رہا تھا۔ بچوں اور بڑوں نے گھوم پھر کر تفریح کی۔ پہاڑی ،چڑیا گھر اور جھیل میں خصوصی دلچسپی لی گئی، بچوں نے کشتی کی بھی سیر کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری جو لاہور کے بھی مقیم ہیں، وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی بار لاہور آئے تو انہوں نے بڑا مصروف وقت گزارا وہ یہاں پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو گئے تو اپنی وزارت کے دفاتر کا بھی معائنہ کیا اور اہل کاروں سے ملاقاتیں کیں، فواد چودھری عرصہ سے صحافی حضرات سے میل ملاقاتیں رکھتے اور ان کی دوستیاں بھی ہیں، اس لئے یہاں ان کی میڈیا سے تعلق رکھنے والے حضرات کے مختلف گروپوں سے بھی ملاقات اور مذاکرات ہوئے، ان سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی حکومت کی طرف سے صحافیوں کی بہبود کے مختلف کاموں کا اعلان کیا۔ یقین دلایا کہ الیکٹرونک میڈیا کے لئے بھی صحافتی ویج ایوارڈ میں سہولت پیدا کی جائے گی اور ان کی وزارت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا، اس کے بعد انہوں نے حکومت کی اعلان کردہ ہیلتھ کارڈ سکیم کا ذکر کیا اور کہا اس کے تحت ہر ایک صحافی کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا جس کے عوض ساڑھے پانچ لاکھ روپے تک کے اخراجات کئے جا سکیں گے اور علاج کرایا جا سکے گا۔ فواد چودھری سے یہ ملاقاتیں خوشگوار ہی رہیں۔ انہوں نے پھر آنے اور مزید دوستوں سے مذاکرات کا بھی وعدہ کیا ہے۔

لاہور میں ضمنی انتخابات کی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی۔ امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ جمع کرا دیئے ان کے مطابق انتخابی نشان الاٹ ہوں گی۔ خصوصی توجہ حلقہ 124اور حلقہ 131(این اے)پر لگی ہوئی ہیں۔ یہاں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف ہی آمنے سامنے ہیں، حلقہ 124سے مسلم لیگ (ن) کے لئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قسمت آزما ہیں تحریک انصاف نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن دیوان غلام محی الدین کو ٹکٹ دیا جو مقامی ہیں اور اسی حلقہ کے رہتے اور کاروبار کرنے والے ہیں، اگرچہ اس حلقہ میں جنرل الیکشن کے نتائج میں حمزہ شہبازبڑے فرق سے جیتے تھے تاہم دیوان بھی بہت محنت کر رہے ہیں۔ مقابلہ سخت ہو گا، حلقہ این اے 131 میں خواجہ سعد رفیق پھر سے مسلم لیگ(ن) کے بااعتماد امیدوار ہیں وہ تھوڑے فرق سے وزیراعظم عمران خان سے ہارے ۔تحریک انصاف نے ولید اقبال کو پھر سے نظر انداز کرکے ہمایوں اختر خان کو ٹکٹ دیا ہے اور اب یہ مقابلہ جاں توڑ محنت والا ہو گیا ہے۔ فتح کس کو ملتی ہے فیصلہ ووٹر کریں گے۔

مزید : ایڈیشن 1