پنجاب حکومت پراپرٹی ٹیکس میں رعایت سے متعلق فیصلہ نہ کر سکی

پنجاب حکومت پراپرٹی ٹیکس میں رعایت سے متعلق فیصلہ نہ کر سکی

لاہور( خصوصی رپورٹ )جولائی،اگستگذر گیا ستمبر بھیگذر رہا ہے پنجاب حکومت پراپرٹی ٹیکس میں دی جانے والی رعایت دینے یا نا دینے کا فیصلہ نہ کر سکی ،پنجاب حکومت اربوں روپے کے ریونیو سے محروم ، پراپرٹی ٹیکس کے بلز یکم جولائی کو تقسیم ہو جاتے تھے فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے 31اگست تک 5فیصد رعایت کے ساتھ پراپرٹی ٹیکس جمع کرانے کی سہولت سے بھی پنجاب کے عوام محروم ہو گئی ہے ،یاد رہے 2014ء سے پہلے کے ٹیکس گزاروں کے ٹیکس میں 100فیصد اضافہ کیا گیا تھا بعد میں سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے حکم پر ان کو30فیصد رعایت دی جا رہی ہے ۔یہ رعایت 2014ء سے پہلے کے پراپرٹی ٹیکس گزاروں کو دی گئی تھی 2014ء کے بعد مکان بنانے والوں کو بلز کی تقسیم کا عمل جاری ہے مگر2014ء سے پہلے کے مکان رکھنے والوں کو مالی سال شروع ہوتے ہی یکم جولائی کو چالان جاری کر دئیے جاتے تھے اور ساتھ ہی عوام سے جلد ریونیو کے حصول کے لیے 31اگست تک 5فیصد کی خصوصی رعایت دی جاتی تھی ،پہلے دو ماہ میں ہی اربوں روپے حکومت اکٹھا کر لیتی تھی حکومت پنجاب کا فیصلہ نہ آنے کی وجہ سے ٹیکس کا بیشتر عملہ فارغ ہے اور حکومت اربوں روپے کے ریونیو سے بھی محروم ہے ،گزشتہ حکومت نے عرصہ تک 5مرلہ پر پراپرٹی ٹیکس معاف کررکھا تھا بعد ازاں 5مرلہ پر بھی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے ،5مرلہ10مرلہ اور کنال سمیت کمرشل پراپرٹی اور دو کنال اور اس سے اوپر پراپرٹی ٹیکس کے ریٹس علاقہ جات کے حساب سے طے کیے جاتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر