ٹاؤن ون پشاور کا ایک ارب25کروڑ سے زائد کا بجٹ پیش، اپوزیشن کی جانب سے مسترد

ٹاؤن ون پشاور کا ایک ارب25کروڑ سے زائد کا بجٹ پیش، اپوزیشن کی جانب سے مسترد

پشاور(سٹی رپورٹر)ٹاؤن ون پشاورکیلئے مالی سال2018-19کاایک ارب،25کروڑ،64لاکھ، 85 ہزار روپے مالیت کا بجٹ اپوزیشن ممبران نے مسترد کرتے ہوئے بجٹ منظورکرنے کیلئے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ پی ٹی آئی ممبران شو آف ہیڈکے ذریعے منظورکر لیا ہے۔ ٹاؤن ون کونسل کا اجلاس زیر صدارت کنونیئر محمد شعیب بنگش منعقد ہو ا بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈسے27کروڑ 66 لاکھ 19ہزار روپے مختص کردی ہے جس میں اپوزیشن منتخب ممبران اور اقلیتی ممبرکیلئے 40، 40 لاکھ روپے جبکہ پی ٹی آئی کے منتخب ممبران کیلئے 1کروڑ، 24لاکھ 40 ہزار روپے، پی ٹی آئی خواتین ممبران کیلئے19لاکھ50 ہزار جبکہ اکلوتی اپوزیشن خاتون ممبر کیلئے 10لاکھ روپے، کسان اور یوتھ پی ٹی آئی ممبران کیلئے 30 ، 30لاکھ روپے اور پی ٹی آئی سپورٹس ممبرکیلئے98لاکھ55ہزارروپے مختص کردی ہیں جس پر اپوزیشن ممبرمیاں ذوالفقار اور اپوزیشن لیڈر ولی محمد مہمندنے پر احتجاج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ انصاف کے دعوایدار ٹاؤن ناظم اور ممبران نے اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر برابری کی بجائے اونٹ کے منہ میں زیر برابر ترقیاتی فنڈ دیا ہے اور اسی بناء پر بجٹ پاس نہیں کرینگے۔ انہوں نے کونسل میں نعرہ بازی کی جبکہ بجٹ رائے شماری میں ہاتھ نہیں اٹھایا۔ ترقیاتی بجٹ میں جنرل الیکشن لڑنے والے مستعفی ہونے والے ٹاؤن ون یونین کونسل آسیہ کے محمد عرفان، یکہ توت1کے محمد عمر مہمند، سکندر ٹاؤن کے کامران خان بنگش اور اخون آباد کے عمر خطاب کے یونین کونسلوں کیلئے بھی فنڈ نہیں رکھا گیا ہیں۔ اپوزیشن ممبران نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ پہلے تین سال ناظم اورپی ٹی آئی ممبران نے برابری کی بنیاد پر ترقیاتی بجٹ تقسیم کیا تھا لیکن آخری سال سوتیلی ماں کا سلوک کرکے اپوزیشن کے فنڈ سپورٹس ممبر سے بھی کم کردیاہے جوظلم ہے۔ انہوں کہاکہ اگر ناظم اورممبران کو یہ 40لاکھ روپے چاہئے تو اپوزیشن ممبران یہ فنڈ بھی چھوڑینگے لیکن زیادتی برداشت نہیں کرینگے اور بجٹ کسی صورت منظور نہیں کرینگے۔ اپوزیشن ممبران اور پی ٹی آئی ممبران کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوگیا اور کونسل مچھلی بازار کا نمونہ پیش کرنے لگا۔ ولی محمد مہمند نے کہاکہ ناظم زاہد ندیم نے پی ٹی آئی ممبران کے ایماء پر اپوزیشن ممبران کے ترقیاتی فنڈ کم کردی ہے جس کیخلاف بھرپور احتجاج کرینگے۔ بجٹ پی ٹی آئی ممبران نے شو آف ہیڈ سے منظورکرلیاہے جبکہ اپوزیشن نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ بجٹ اجلاس میں نواز اورکزئی نے ترقیاتی کام ای ٹینڈرنگ کے ذریعے دس فیصد سے کم ریٹ پر نیلام نہ کرنے کی قرادداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ٹھیکہ دارترقیاتی کام45 فیصد بیلو پر ٹھیکے لے کر ترقیاتی کام کا معیار خراب کرتے ہوئے اور دس فیصد سے کم ریٹ پر ٹھیکے نیلام نہ کیا جائے۔ کونسل اجلاس میں اپوزیشن ممبر ولی محمد، میاں ذوالفقار کی نواز اورکزئی، زاہدندیم، عرفان سلیم اور نعیم اللہ سے فنڈ کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور اپوزیشن نے آئندہ کونسل میں بھائی چارے کی فضاء کی بجائے ٹھپ ٹائم دینے کا اعلان کیاہے۔ ناظم زاہدندیم نے کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یونین کونسل 16 اندر شہر کے ممبر میاں ذوالفقار اور اپوزیشن لیڈر ولی محمد مہمند کو پچھلے سال سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈ ریلیز ہوا ہے اور ترقیاتی بجٹ کو فنڈ دینگے اور اپوزیشن صبر سے کام لیں۔ کم فنڈ ملنے پر اقلیتی ممبر گل چرن سنگھ نے بھی ہاتھ پر کالی پٹی باندھ کر بجٹ اجلاس میں شرکت کی تاہم شوآف ہیڈ ہاتھ اٹھا کر بجٹ منظوری میں حصہ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر